دنیا میں کوئلے سے توانائی حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے چین کا ہاتھ ضرور ہے

چین کے تعاون سے بننے والا کوئلے کا بجلی گھر
،تصویر کا کیپشن

چین دوسرے ممالک میں کوئلے سے چلنے درجنوں بجلی گھر بنانے میں مدد دے رہا ہے

گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کے ساتھ چین کے ماحول کی تبدیلی میں کردار کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ کئی برسوں سے چین پر کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں اضافے کی وجہ سے تنقید بھی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اب کہہ رہی ہیں کہ چین دوسرے ممالک میں بھی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔

کوئلہ جلنے پر جس مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج کرتا ہے اس کی وجہ سے اسے سب سے نقصان دہ ایندھن کہا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی موسم کے بارے میں کام کرنے والی ایجنسی (ڈبلیو ایم او) کے مطابق گزشتہ برس ماحول میں کاربن ڈآئی آکسائیڈ کی مقدار اس حد تک بڑھ گئی جو گزشتہ پینتیس لاکھ سال میں نہیں ہوئی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

چین میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پابندیوں کے بعد اب چینی کمپنیاں دوسرے ممالک میں کام تلاش کر رہی ہیں

اقوام متحدہ کے ماحول کے بارے میں سائنس پینل نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اگر ہم دنیا میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو 2050 تک کوئلے کا استعمال بالکل ختم کرنا ہو گا۔

ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیم بینک واچ کی اینرجی کے شعبے کی رابطہ کار نے بی بی سی کو بتایا کہ چین جنوبی امریکہ، افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور بلقان میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر بنانے میں مدد کر رہا ہے۔

بینک واچ کی رابطہ کار کا کہنا ہے کہ ’کوئی ایک وقت میں دنیا میں آلودگی ختم کرنے کا چیمپیئن اور دوسرے ممالک میں کوئلے کے بجلی گھروں کا سب سے بڑا سرمایہ کار نہیں ہو سکتا‘۔

سربیا

سربیا میں ملک کے کوئلےسے چلنے والے سب سے بڑے بجلی گھر کو وسعت دی جا رہی ہے۔ اس کے لیے چین کے ایک بنک سے قرضہ لیا گیا ہے اور تعمیر کا کام چین کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں سے ایک کے ذمے ہے۔

دارالحکومت بلغراد سے ایک گھنٹہ مشرق میں کوئلے کے ذخائر سے مالا مال وادی ڈینیوب میں منصوبے پر کام شروع ہو سکا ہے۔ یہ بجلی گھر سربین الیکٹریسٹی کمپنی کے زیر انتظام ہے، اور یہاں سے ملک کی توانائی کی ستر فیصد ضرورت کوئلے کی مدد سے پوری ہوتی ہے۔ سربیا کی باقی ضروریات پن بجلی کے منصوبوں سے پوری ہوتی ہیں۔

سربیا اور چین کی حکومتوں میں معاہدے کے بعد اس بجلی گھر میں 350 میگاواٹ کے ایک نئے یونٹ کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے سے تقریباً 3500 لوگوں کا روزگار وابستہ ہے لیکن مقامی سطح پر اس کے ماحول پر منفی اثرات کی وجہ سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’کول سوارم‘ کی کرسٹین شیرر کا کہنا ہے مغربی بینکوں اور اداروں کی طرف سے کوئلے سے چلنے والے منصوبوں سے ہاتھ کھینچے جانے کے بعد پیدا ہونے والی کمی چینی بنک پوری کر رہے ہیں۔