امریکی ریاست الاسکا کا وہ شہر جہاں اگلے جنوری تک سورج نہیں نظر آئے گا

Utqiaġvik تصویر کے کاپی رائٹ University of Alaska Fairbanks
Image caption الاسکا کے قصبے بیرو کے 4000 سے ذائد شہری دو ماہ سورج دیکھے بغیر گزاریں گے۔

اس قصبے کے باسی اگلے دو ماہ مکمل اندھیرے میں گزاریں گے۔

امریکہ کی شمال مشرقی ریاست الاسکا میں واقع اس چھوٹے سے شہر کے رہائشی پہلے سے ہی طویل عرصے تک دن کی روشنی کو دیکھے بغیر رہنے کے عادی ہیں۔

اس اتوار کو بیرو، الاسکا کے 4000 سے زائد شہریوں نے سال کا آخری سورج ڈوبتے دیکھا۔ ان کے سورج دیکھنے کا اگلا موقع 23 جنوری 2019 کو دوپہر ایک بج کر چار منٹ پر نصیب ہوگا۔

بیرو، الاسکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیرو کے اوپر پڑی آرکٹک کی برف کا فضائی منظر

مزید پڑھیے

کیا یہ برفانی تودہ قدرتی ہے؟

چھ ہزار مربع کلومیٹر کا تودہ برفانی خطے سے علیحدہ

انٹارکٹیکا میں وسیع و عریض برفانی تودہ ٹوٹنے کے قریب

آرکٹک سرکل تصویر کے کاپی رائٹ University of Alaska Fairbanks
Image caption آرکٹک سرکل کے اندر واقع زیادہ تر مقامات 24 سے زائد گھنٹے سورج کی روشنی سے محروم رہتے ہیں

یخ بستہ رات

تاہم اُتکیاوِک، جس کا پرانا نام بیرو ہے، الاسکا کا واحد قصبہ نہیں جو اتنے لمبے عرصے تک سورج کی روشنی سے محروم رہتا ہے۔

الاسکا کا ایک تہائی شمالی حصہ آرکٹک سرکل کے اندر واقع ہے۔

دیگر چھوٹی بستیاں جیسے کاکتووِک، پوائنٹ ہوپ اور انا کتو وِک پاس بھی لمبے عرصے تک سورج کا دیدار نہیں کر پاتے۔

اس طویل تاریکی کو ’یخ بستہ رات‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

Noche polar. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیرو پر چھائے ارورا بوریئلیس کا حسین منظر

بیرو اب 65 دن اندھیرے میں گزارے گا۔

اس قصبے میں نہ صرف بڑی تعداد میں مقامی انوپییت آبادی رہتی ہے بلکہ یہاں کئی ریسرچ اسٹیشنز بھی قائم ہیں۔

بیرو، الاسکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریسیرچر جونز یخ پانی کا کھارا پن چیک کرتے ہوئے

دھوپ کے 80 دن

ویب سائٹ Weather.com کے مطابق ’نومبر کے وسط سے جنوری کے اختتام تک سورج آرکٹک سرکل کے شمال میں زمین کے جھکائو کی وجہ سے طلوع نہیں ہوتا۔‘

آرکٹک سرکل سے 330 میل شمال میں واقع بیرو اگلے دو مہینے کے لئے مکمل طور پر اندھیرے میں نہیں رہے گا۔

بیرو، الاسکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آدھی رات کو یخ پانی میں سے گزرتا ہوا ایک شخص

’سِول ٹوایلائیٹ‘ اس وقت واقع ہوتا ہے جب سورج افق سے چھ ڈگری نیچے ہوتا ہے اور تھوڑی سی روشنی آسمان میں موجود رہتی ہے۔

’سِول ٹوایلائیٹ‘ ہر رات چھ گھنٹے تک جاری رہتی ہے، لیکن دسمبر کے اختتام پر اس کا اثر تین گھنٹے تک ہو جاتا ہے۔

اگرچہ اندھیرے میں سب کچھ ڈراونا لگتا ہے، لیکن موسم گرما میں اس جگہ کے باشندے لگاتار 80 دن تک سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

Alaska. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 65 دن کے اندھیرے کے بعد بیرو کے لوگ 80 دن تک لگاتار دھوپ سے محظوظ ہوتے ہیں

۔

اسی بارے میں