ناسا کا خلائی روبوٹ ان سائٹ مریخ پر کامیابی سے اتر گیا، سیارے کے اندرونی ڈھانچے پر تحقیق کرے گا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ناسا کا ’ان سائٹ‘ مریخ کی سطح پر

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا روبوٹ اِن سائٹ سرخ سیارے مریخ پر کامیابی سے اتر گیا ہے جو تحقیق کرے گا کہ کیا مریخ چاند اور زمین جیسے اجرا رکھتا ہے اور سرخ سیادے کا وجود کیسے عمل میں آیا۔

پیر کو ان سائٹ کی محفوظ لینڈنگ کے حوالے سے پائی جانے والی بے چینی اس وقت ختم ہوئی جب اس نے واپس زمین پر لینڈ کرنے کے بارے میں سگنل بھیجا۔

کیلیفورنیا میں واقع مشن کے کنٹرول روم میں موجود عملے نے مسرت کا اظہار کیا جب یہ واضح ہو گیا کہ روٹ خیریت سے سطح پر اتر کیا گیا ہے۔

ناسا کے اعلیٰ اہلکار جمیز براڈسٹائن نے خوشی کے اس لمحے کو’ حیرت انگیز دن‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے مبارکباد دینے کے ٹیلی فون کیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

اِن سائٹ مشن: مریخ کے اندر جھانکیں

مریخ پر ’کیوروسٹی‘ کے دو ہزار دن

چاند کے سفر کے پہلے نجی امیدوار کا اعلان

ان سائٹ مریخ کے ہموار مقام الیسیئم پلینیشا مقام پر لینڈ کیا ہے اور یہ سیارے کی سطع مرتفع کے قریب واقع ہے۔

اس مقام کو بقول ناسا کے مریخ سیارے کی سب سے بڑی پارکنگ کہا جاتا ہے۔

ان سائٹ نے لینڈ کرنے کے فوری بعد چند منٹ کے اندر اندر سیارے کے قدرتی مناظر کی پہلی تصویر واپس زمین پر ارسال کی جو کہ دھندلی تھی۔ یہ تصویر خلائی گاڑی کے اندر نصب کیمرے سے لی گئی تھی۔

کیونکہ سیارے پر لینڈ کرنے کی وجہ سے اڑنے والی گرد کے نتیجے میں منظر زیادہ واضح نہیں دکھائی سے سکا تاہم پھر بھی روبوٹ کا ایک پاؤں، ایک چھوٹا پتھر اور افق کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان سائٹ زیادہ اچھی کوالٹی کی تصاویر ارسال کرنا شروع کر دے گا۔

مریخ پر لینڈ کرنے کے دوران کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مریخ پر خلائی گاڑیوں کی لینڈنگ کے ماضی کے تجربات کی وجہ سے ان سائٹ کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی تھی کیونکہ یہ 2012 کے بعد مریخ پر اترنے والا پہلا روبوٹ تھا۔

لینڈ کرنے کے وقت روبوٹ نے ہر سٹیج اور ہر ایک میٹر کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ واپس بھیجی اور یہ مریخ کی فضا میں گولی کی رفتار سے داخل ہوا اور اس دوران درجہ حرارت کو کنٹرول رکھنے والی چادر، پیراشوٹ اور راکٹ کی مدد سے اسے حفاظت سے مریخ پر اترنے میں مدد ملی۔

ان سائٹ کو مریخ کے انتہائی سرد موسم میں اپنی بقا کے لیے اپنے سولر پینلز کو کھولنے ہوں گے جو کہ لینڈنگ کے وقت محفوظ رکھے گئے تھے۔

روبوٹ کو مکمل طور پر توانائی پیدا کرنے والے نظام کو چلانا شروع کرنا ہو گا تاکہ خود کو سرد موسم سے بچا سکے اور اس کے ابتدائی کام مکمل ہونے کے بعد سائنس دانوں کی مکمل توجہ سائنسی تجربات پر ہو گی۔

ان سائٹ ماضی میں سرخ سیارے پر بھیجے جانے والے روبوٹس سے منفرد ہے کیونکہ اس کے ساتھ دو بریف کیس سائز کے مصنوصی سیارے بھی مریخ کی فضا میں پہنچے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سیارہ مریخ پر اس روبوٹ کو بھیجنے کا مقصد کیا ہے؟

روبوٹ تحقیق کرے گا کہ آیا مریخ کا اندرونی ڈھانچہ زمین کے اندرونی ڈھانچے سے مماثلت رکھتا ہے یا نہیں، جس میں مرکز کی وسطی سطح ٹھوس اور بیرونی سطح مایا ہے۔

ان سائٹ کا ایک بازو انتہائی احتیاط کے ساتھ سائزمومیٹر سیارے کی سطح پر رکھے گا جس کا کام اس سطح کے نیچے موجود تہہ کی تحقیق کرنا ہوگا۔ یہ آلہ مریخ پر گرنے والے شہاب ثاقب کے سگنلز جانچ سکے گا جو کہ مریخ کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ یہ آلہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرے گا کہ مریخ پر زلزلے آتے ہیں یا نہیں یعنی کہ یہ سیارہ ارضیاتی طور پر فعال ہے یا نہیں۔

ابھی سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ کیا مریخ کا اندرونی ڈھانچہ زمین کے اندرونی ڈھانچے سے مماثلت رکھتا ہے یا نہیں، جس میں مرکز کی وسطی سطح ٹھوس اور بیرونی سطح مایا ہے۔

ماضی میں اس سے ملتی جلتی تکنیک زمین اور چاند کے اندورنی ڈھانچے کی تحقیق کے لیے استعمال کی جا چکی ہے جب اپولو کے خلا بازوں نے چاند پر زلزلوں کے حوالے سے معلومات جمع کی تھیں۔

ن سائٹ کا حرارتی پروب ایچ پی 3 مریخ کی سطح پر پانچ میٹر نیچے تک جا کر یہ جاننے کی کوشش کر گا کہ اس سیارے کے اندرونی ڈھانچے سے کتنی یونائی خارج کی جا رہی ہے۔

اس سے معلوم ہوگا کہ کیا مریخ چاند اور زمین جیسے اجرا رکھتا ہے اور اس بات کا بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ مریخ وجود میں کیسے آیا۔

اسی بارے میں