بی این یو میں طالبہ کی خودکشی: ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

ایک لڑکی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جس کے باعث لوگوں کو خودکشی کرنے کے خیالات آتے ہیں

اکثر لوگ کچھ عرصے سے پریشان ہوتے ہیں۔ خاندانی مسائل، کام کا دباؤ، امتحان کا پریشر یا پھر غنڈہ گردی ( bullying) کی وجہ سے لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ لوگ مایوس ہو کر یہ سمجھنے لگیں کہ ایسے مسائل سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے یا پھر کوئی بھی ان کی مدد نہیں کر سکتا۔

ایسے میں کبھی دھتکارے جانا، امتحان میں فیل ہو جانا، کام کا یا مالی دباؤ آخری تنکا ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جس کے باعث لوگ خودکشی کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریباً 25 فیصد افراد ڈپریشن، ذہنی دباؤ یا کسی اور دماغی بیماری سے دوچار رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے علاوہ قانونی مسائل بھی ہیں اور اس امر کی نگرانی کرنے کے لیے بھی کوئی نظام موجود نہیں کہ جو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں وہ معیار کے مطابق ہیں یا نہیں۔

اسی بارے میں

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی: نئی تحقیق

’ڈپریشن کی ادویات نے زندگیاں تباہ کر دیں‘

لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی بی این یو میں ایک طالبہ کی خودکشی کے واقعے کے بعد ڈپریشن کی حوالے سے سوشل اور مین سٹریم میڈیا میں بحث زور پکڑ رہی ہے اور ماہرین اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ڈپریشن کا شکار کوئی بظاہر خوش مزاج شخص بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا ڈپریشن کی علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے کسی پیشہ ور معالج سے رجوع کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود اس پر بہت کم بات ہوتی ہے۔ امریکہ کی مثال لے لیں جہاں خودکشی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد سڑکوں کے حادثوں میں ہونے والی اموات سے زیادہ ہے۔

پھر وہ لوگ ہیں جو اب بھی کہتے ہیں کہ خود کشی ایک 'خود غرضانہ قدم' ہے اور قوت ارادی سے ایسا قدم اٹھانے سے رکا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر خودکشی پر بات کرنی شروع کر بھی دی جائے تو پھر بھی ہم خودکشی کی سوچ کو دیگر بیماریوں کے برعکس بالکل صحیح تشخیص سے روکنے میں بہت وقت لگے گا۔

اگرچہ ڈپریشن کو کم کرنے یا ختم کرنے کی ادویات اور کونسلنگ سے خودکشی کرنے کی سوچ میں کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ ہر مریض کے لیے بہترین علاج نہیں ہے۔

سماجی کارکن اور ذہنی امرض کے لیے رہنمائی فراہم کرنی والے فلاحی ادارے ’دی کلر بلیو‘ کی سربراہ دانیکا کمال کہتی ہیں کہ ’میں تین چار برس قبل خود ڈپریشن کا شکار ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میرے ارد گرد کے افراد یہاں تک کہ ڈاکٹروں کو بھی اس مرض کی سمجھ نہیں تھی۔

’میرا اپنا خاندان بہت مدد گار تھا لیکن دوسرے لوگ کہتے تھے کہ تمھیں کیسے ڈپریشن ہو سکتا ہے، یہ عارضی ہے تم ٹھیک ہو جاؤ ‌گی۔‘

دانیکا کمال کہتی ہیں کہ ’بی این یو میں پیش آنے والے واقعے کے عینی شاہدین نے بھی سوشل میڈیا پر کچھ اسی قسم کی رائے کا اظہار کیا ہے کہ حادثے سے پہلے وہ اس کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے۔ ہمارے خاندان میں بھی بہت سے افراد تاحال ڈپریشن کو سمجھ نہیں سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خود آگاہی

اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ ڈپریشن نامی مرض بہت سارے مسائل کے مجموعے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

خاص طور پر خود کشی کی کوشش اعصابی تبدیلیوں کے باعث ہوتی ہے جو ان لوگوں میں نہیں پائی جاتی جو مختلف اقسام کے ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔

جدید تحقیق کے مطابق وہ بیماری جسے ہم 'ڈپریشن' کے نام سے جانتے ہیں، وہ دراصل کئی مختف بیماریوں کا مجموعہ ہے، جن کی مختلف دماغی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

مثال کے طور پر جو لوگ خودکشی کا رجحان رکھتے ہیں ان میں دماغ کے ایک مخصوص حصے 'ڈورسو میڈیئل پری فرنٹل کورٹیکس' میں سفید مادے کے کنکشنز کی کمی ہوتی ہے۔

یہ حصے ماتھے کے بالکل پیچھے واقع ہوتا ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں خودآگاہی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

دانیکا کمال کہتی ہیں کہ ’ڈپریشن کے بارے میں ہمارے معاشرے میں آگہی بہت کم ہے۔ بہت سارے افراد اس کو شخصیت کی خامی کے طور پر دیکھتے ہیں کہ فلاں حساس طبیعت کا مالک ہے یا یہ ایک عارضی کیفیت ہے یا یہ کہا جاتا ہے کہ کسی پر جن بھوت آ گیا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ جو لوگ ظاہری طور پر بہت خوش لگ رہے ہیں، دوسروں سے ملتے جلتے یا ہنسی مذاق کرتے ہیں ان کو بھی ڈپریشن ہو سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خود کشی کی کوشش اعصابی تبدیلیوں کے باعث ہوتی ہے

درست تشخیص

خودکشی کے رجحان کی درست تشخیص ہو جائے تو اس سے مختلف قسم کے ڈپریشن میں مبتلا افراد کا مختلف طریقے سے علاج ممکن ہے۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ معلوم ہو سکے گا کہ کس شخص کے خودکشی کرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ خودکشی کرنے کے بارے میں سوچنے والے افراد اپنے تاریک ترین احساسات کسی کو نہیں بتا سکتے یہاں تک کہ ڈاکٹروں کو بھی نہیں۔ لیکن دماغ کے سکین سے ڈاکٹروں کو پتہ چل سکتا ہے۔

اعصاب کی ٹوٹ پھوٹ سے کچھ کیمیائی تبدیلی آتی ہے۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بارے میں خون کے ٹیسٹ سے معلوم کیا جا سکے گا جس کے باعث خودکشی کے رجحان کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

دانیکا کمال کہتی ہیں کہ ’ڈپریشن یا خودکشی کی جانب مائل شخص کی مدد کا بہترین طریقہ اس سے بات چیت ہے اور اس میں انھیں بولنے دیں اور آپ ان کی بات سنتے رہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کسی بھی عام شخص سے چند لمحے باتیں کرنے سے ان کا مرض ٹھیک نہیں ہوتا اس لیے اس کو معالج کو دکھانا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ رات کو دس بجے چھ گھنٹے کے لیے بھی آپ سے بات کریں تو ان کی بات سنیں۔‘

دانیکا کمال کے مطابق ’پاکستان میں زیادہ تر خواتین ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں۔ ڈپریشن کی علامت میں بہت زیادہ یا بہت کم سونا، بہت زیادہ کھانا یا بہت کم کھانا شامل ہیں۔

اسی طرح ڈپریشن کے بہت سے مریض دیگر افراد سے زیادہ ملتے جلنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ تنہائی میں وہ بہت زیادہ سوچتے ہیں اور اپنے دکھ کو چھپانے کے لیے لوگوں سے ملنے جلنے کا دکھاوا کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں