’میں جنسی ویڈیوز کی فروخت کے لیے سنیپ چیٹ استعمال کرتی ہوں‘

جوڈی
Image caption جوّی خود کو سنیپ چیٹ پریمیئم گرل کہتی ہیں

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سماجی رابطوں کی ایپلی کیشن سنیپ چیٹ کو فحش تصاویر اور ویڈیوز کی فروخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جوڈی کارنل کہتی ہیں کہ وہ اس ایپلی کیشن سے 5100 امریکی ڈالر ماہانہ کماتی ہیں لیکن ایسا ان کی ذاتی زندگی کی قربانی کے بغیر ممکن نہیں، اور وہ آن لائن گالم گلوچ کا بھی سامنا کرتی رہی ہیں۔

26 سالہ برطانوی خاتون کہتی ہیں کہ 'یہ ایک باقاعدہ کاروبار کی طرح ہے۔'

جوڈی اپنے آپ کو 'سنیپ چیٹ پریمیئم گرل' کہتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ 'یہ ایسا ہی جیسا لوگ گاتے ہیں یا بجاتے ہیں یا فنکار اپنی مصوری فروخت کرتے ہیں۔ میں صرف اپنی تصاویر اور ویڈیوز فروخت کر رہی ہوں۔'

ماہانہ فیس 25 ڈالر سے 250 ڈالر ہے اور وہ اپنے سبسکرائبرز کو عام سنیپ چیٹ ایپلی کیشن کے ذریعے فحش تصاویر اور ویڈیوز بھیجتی ہیں۔

سنیپ چیٹ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مواد پر پابندی ہے اور جب بھی سامنے آتا ہے اسے ہٹا دیا جاتا ہے لیکن جوڈی کا کہنا ہے کہ وہ 2016 سے یہ کام کر رہی ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

جعلی پورن ویڈیوز کے سنگین نتائج

برطانوی پورن کمپنیوں کے ڈائریکٹر کیسے بنے؟

’پاورٹی پورن’ کے عنوان سے تصاویر پر شدید ردعمل

جاپانی پورن سٹار جس نے چین کو ‘سیکس سکھایا‘

وہ اپنی خدمات کی تشہیر سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس جیسا کہ ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر کرتی ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی رابطہ قائم کرنے والوں کی درخواست قبول کرنے میں احتیاط سے کام لیتی ہیں۔ لیکن اس وجہ سے انھیں آن لائن تکلیف دہ پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں۔ ان میں نازیبہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

Image caption جوڈی ہفتے میں کئی بارتصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتی ہیں

وہ کہتی ہیں کہ 'لوگ مجھے 'بدکار عورت' اور ایسے ہی الفاظ استعمال کرتے۔ اور اس سے میں پریشان ہوتی ہوں۔'

وکٹوریا ڈربی شائر کے پروگرام میں 20 منٹ کی ریکارڈنگ کے بعد انھیں ایک شخص کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا جس سے انھوں نے کبھی بات نہیں کی تھی: 'تم ایک بدکار ہو۔ تم پیاری ہو، مجھے غلط نہ سمجھو، لیکن اپنا جسم یا تصاویر بیچنے پر تمھیں شرم آنی چاہیے۔ بدقسمتی سے اس دنیا میں کوئی اخلاقیات نہیں رہ گئیں۔'

جوڈی بتاتی ہیں کہ 'مجھے سارا دن ہر گھنٹے یا آدھے گھنٹے بعد کوئی ایسا پیغام موصول ہوتا ہے۔'

آج شام میری دوست کہے گی 'ریکارڈنگ کیسی رہی؟۔۔۔ اور پھر میں رو دوں گی۔'

لیکن وہ کہتی ہیں کہ 'میں آفس جاب میں انتہائی خراب تھی، اور مجھے پیسہ پسند ہے۔'

اب اپنا سنیپ چیٹ اکاؤنٹ سنبھال ہی ان کی فل ٹائم ملازمت بن چکا ہے، وہ کہتی ہیں کہ کیونکہ اکثر ان کے 40 کے قریب سبسکرائبرز ان کے کچھ اضافی مانگیں کرتے ہیں۔

اس کی جانب سے پیش کیے جانے والے مواد میں کپڑے اتارنے سے لے کر خودلذتی کی ویڈیوز شامل ہو سکتی ہیں۔

وکلا کہتے ہیں کہ اس قسم کا مواد فروخت کرنا قانون کے خلاف نہیں ہے تاقتیکہ یہ 18 سال سے کم عمر افراد کو فروخت کیا جائے یا مسخ شدہ مواد اپ لوڈ کیا جائے۔

لیکن وکٹوریا ڈربی شائر پروگرام کے نتیجے میں انسٹاگرام نے پریمیئم سنیپ چیت سے متعلقہ تمام ہیش ٹیگز کو بلاک کر دیا دیا ہے جسے لوگ اپنی خدمات کی تشہیر کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

سنیپ چیٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ 'پورنوگرافک مواد کی تشہیر اور تقسیم کی' اجازت نہیں دیتا۔

بیان کے مطابق 'وہ اکاؤنٹس جو نجی طور پر پورنوگرافک مواد تقسیم کرتے ہیں وہ جان بوجھ کر ہمارے پلیٹ فارم کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔'

'جب رپورٹ کیا جاتا ہے تو ہم اسے ہٹا دیتے ہیں۔'

تکلیف دہ پیغامات

جوڈی کہتی ہیں کہ وہ سنیپ چیٹ کو دولت کمانے کا ایک محفوظ ذریعہ سمجھتی ہیں کیونکہ انھیں اپنے صارفین سے کبھی بھی ملنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں ایک طوائف نہیں ہوں۔ مجھے ایک شخص سے ملاقات کے لیے ہزاروں پاؤنڈز کی پیشکش ہوئی لیکن میں نے انکار کر دیا۔'

لیکن وہ تسلیم کرتی ہیں کہ اس سے ان کی ذاتی زندگی متاثر ہوئی ہے، کئی ماہ تک ان کا کوئی برائے فرینڈ نہیں رہا اور بہت سے مرد ان کے بارے میں ایک خاص رائے رکھتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'جب میں انھیں اپنے کام کے بارے میں بتاتی ہوں تو وہ میرے ساتھ ڈیٹ کرنا نہیں چاہتے۔ یا اگر کرتے ہیں تو غلط وجوہات کی بنا پر۔'

لیکن وہ تسلیم کرتی ہیں کہ ان کے خاندان کو اس کے دیر پا اثرات کے بارے میں تشویش ہے۔

جو سبسکرائبرز 250 ڈالر ماہانہ دیتے ہیں انھیں جوڈی کی طرف سے بھیجا گیا مواد اپنے موبائل فون میں محفوظ کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ انھیں معلوم نہیں کہ یہ مواد کہاں‌ جا رہا ہے اور اس کا استعمال کیسے ہوگا۔ .

’مستقبل کے کیریئرز تباہ‘

ریوینج پورن ہیلپ لائن کی بانین لورا ہگنز کہتی ہیں کہ مزید تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے ادارے کو جوڈی جیسے لوگوں کی باقاعدگی سے کالیں آتی ہیں جنھیں بلیک میل یا جاتا ہے یا ان کے مستقبل کے کیریئرز اس لیے تباہ ہوگئے جب وہ جنسی مواد دوبارہ سامنے آگیا جو دراصل انھوں نے فروخت کیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ایسی ویڈیوز دیگر افراد جنسی استحصال کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں جیسا کہ کسی مرد کو پھنسا کر ان کی فحش تصاویر حاصل کرنے کے لیے جن کے بارے میں وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ کوئی خوبصوت عورت ہے، اور پھر انھیں بلیک میل کرنا۔

برطانوی حکومت کے ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اور کھیلوں کے محکمے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ 'آن لائن پلیٹ فارم جو سروسز فراہم کرتے ہیں وہ عمر کی حد کو یقینی بنائیں۔' ."

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جوڈی کہتی ہیں کہ وہ اس وقت تک سنیپ چیٹ کر مواد فروخت کرتی رہیں گی جب تک ان کے لیے یہ مناسب نہیں رہے گ

وہ کہتی ہیں کہ وہ پہلے کی نسبت چار گنا زیادہ کما لیتی ہیں، وہ دو سال قبل مشکل سے اپنی خوراک پوری کرتی تھیں۔

اور اس سے وہ اپنی مرضی کی زندگی جی سکتی ہیں۔

لیکن وہ اس کے نقصانات نہیں چھپاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ جب آپ کو صرف ایک خاتون کے طور پر صرف جنس آمیز ہی پیغامات کی صورت میں توجہ ملے تو آپ خود کو بیکار محسوس کرتے ہیں۔

’مجھے بس یہی پیغامات ملتے ہیں‌ مجھے پستان دکھاؤ یا میں تمھیں انڈرویئر میں دیکھنا چاہتا ہوں، یا تم گندی ہو۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں بعض اوقات روتی ہوں۔ یہ بہت پریشان کن ہے کیونکہ مجھے واقعی کوئی اچھی توجہ نہیں ملتی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں