توہین مذہب رپورٹ کرنے کی انڈونیشین ایپ پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

سمارٹ پیکم تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈونیشیا کی حکومت نے ایک نئی ایپ تیار کی ہے جس کے ذریعے لوگ مبینہ توہین مذہب رپورٹ کر سکیں گے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس ایپ سے اقلیتوں کے استحصال میں اضافہ ہو گا۔

بی بی سی نیوز ڈے سے بات کرتے ہوئے انڈونیشیا میں ہیومن رائٹس واچ کے آندریئس ہرسونو نے بتایا کہ ’سمارٹ پیکم‘ نامی اس ایپ پر لوگ فوٹو وغیرہ اپ لوڈ کر کے انڈونیشیا کے محکمہ برائے صوفیانہ عقائد کی مانیٹرنگ کو بھیجی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

جکارتہ کے گورنر توہین مذہب کے مقدمے میں قصوروار

جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ ہیں کون؟

’یہ بہت خطرناک محکمہ ہے کیونکہ اس محکمے میں جتنی بھی شکایات گئی ہیں، ان میں سزا کی شرح سو فیصد ہے۔ جن اقلیتوں کے استحصال کا خطرہ ہے ان میں مسیحی، شیعہ اور احمدی شامل ہیں۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’سمارٹ پیکم‘ کے ذریعے انڈونیشیا کے چھ سرکاری طور پر تسلیم کیے گئے مذاہب بشمول اسلام، ہندو، مسیحی اور بودھ کت غیر روائتی توجیہہ کے حوالے سے شکایت کی جا سکتی ہے۔

یہ ایپ اتوار کے روز لانچ کی گئی ہے اور اس کو انڈونیشیا کے دفتر استغاثہ نے تیار کروایا ہے۔ یہ ایپ گوگل پلے سٹور پر مفت میں دستیاب ہے۔

دفتر استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس ایپ سے عوام کو آگاہی میں مدد ملے گی اور توہین مذہب کو رپورٹ کرنے کے نظام میں جدت آیے گی۔

اس ایپ میں فتوے اور کالعدم تنظیموں کے نام بھی ہیں اور صارفین بہت تیزی سے شکایت ترسیل کر سکیں گے۔

دفتر استغاثہ کے ترجمان نروان نواوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس کا مقصد ۔۔۔ کہ لوگوں کو ان؟ونیشیا میں آسانی سے معلومات فراہم کرنا ہے، عوام کو آگاہی ہو اور لوگوں کو کس فرد یا تنظیم کی جانب سے پھیلائے جانے والے ڈاکٹرائن کی پیروی کرنے سے روکا جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا خدشہ ہے کہ سخت موقف رکھنے والے اسلامی گروپس ’سمارٹ پیکم‘ کا غلط استعمال کریں گے اور ملک میں تفریق میں مزید اضافہ ہو گا۔

انڈونیشیا میں ہیومن رائٹس واچ کے آندریئس ہرسونو نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے استحصال کے لیے ایک اور خطرناک قدم۔‘

انسانی حقوق کی تنظیم ستارہ انسٹیٹیوٹ کے نائب چیئرمین نوبار تگور نے کہا ’یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ اگر معاشرے کے مرکزی دھارے کو کوئی گروپ پسند نہیں ہے تو وہ اس ایپ کے ذریعے اس گروپ کی شکایت کریں گے جس سے سینکڑوں ہزاروں افراد کے لیے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ سال انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرنام کو ایک متنازع مقدمے میں توہین مذہب کا الزام ثابت ہونے پر دو برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

'آہوک' کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر گورنر کے انتخابات کی مہم کے دوران قرآن کی توہین کرنے کا الزام تھا۔

پرناما عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور گذشتہ 50 سالوں میں جکارتہ کے پہلے غیر مسلم گورنر ہیں اور وہ اصلاحاتی پالیسیوں اور بدعنوانی کے خلاف اپنے سخت موقف کے باعث کافی شہرت رکھتے ہیں۔

سخت گیر مسلمانوں نے پرناما کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ان پر مستعفی ہونے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے بعد نومبر 2016 میں پولیس نے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کو توہین مذہب کی تحقیقات میں مشتبہ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس بسوکی پرناما نے ایک متنازع بیان میں کہا تھا کہ مسلمان ایک قرآنی آیت کا استعمال کر کے انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تاہم بعد میں انھوں اپنے اس بیان پر معذرت کر لی تھی۔

اسی بارے میں