سوشل میڈیا: ٹوئٹر نے غیرملکی شہریوں کو پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی پر کیوں ٹوکا؟

ٹوئٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹوئٹر کے مطابق صارفین کو قانونی نوٹس 'ایک مستند ادارے کی جانب سے جائز درخواستیں' موصول ہونے کے بعد بھیجے گئے

جب کینیڈین کالم نگار انتھونی فیوری کو سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں لکھا تھا کہ انھوں نے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، انھوں نے اسے ’سپیم میل‘ سمجھ کر رد کر دیا۔

لیکن جب انھوں نے گوگل پر تعزیراتِ پاکستان کا مطالعہ کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ توہینِ مذہب کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔

ان کا جرم؟ انھوں نے کئی سال پہلے پیغمبرِ اسلام کے کارٹون اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے تھے۔

انتھونی فیوری کا پاکستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، لیکن پھر بھی کینیڈین جریدے ’ٹورنٹو سن‘ کے صحافی کو یہ ای میل موصول ہوئی۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے مزید پڑھیے

سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم

پاکستان میں ’500 سے زیادہ ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں‘

توہین آمیز مواد:’آرٹیکل 19 کی مہم میڈیا پر چلانے کا حکم‘

ان کے مطابق ٹوئٹر کا یہ فعل ان کی آزادی اظہار کو سلب کرنے کی کوشش ہے، لیکن ٹوئٹر اس بات سے انکاری ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ کے مطابق ایسے صارفین کو قانونی نوٹس ’ایک مستند ادارے کی جانب سے جائز درخواستیں‘ موصول ہونے کے بعد بھیجے گئے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیوری نے کہا: ’میں نے ٹوئٹر کے حکام سے اس ای میل کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ پیغام محض آپ کی اطلاع کے لیے بھیجا ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے۔ انھوں نے کسی قسم کی قانونی توجیہ پیش نہیں کی کہ اس کا مجھ پر کیا اثر پڑے گا۔‘

انتھونی فیوری کے علاوہ ایسے ہی نوٹس سعودی نژاد انسانی حقوق کی کارکن انصاف حیدر اور ایران سے تعلق رکھنے والے آسٹریلوی امام محمد توحیدی کو بھی ملے ہیں۔

دونوں مذہبی شددت پسندی کے مخالف ہیں اور انھوں نے سوشل میڈیا کمپنی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسلام میں ترقی پسند سوچ کو دبانے میں مدد کر رہی ہے۔

ان تینوں میں سے سب سے دلچسپ کیس انصاف حیدر کا ہے، جو کہ سعودی بلاگر رائف بدوی کی بیوی ہیں۔

’ٹوئٹر پر بھی محفوظ نہیں ہوں‘

رائف بدوی کو سنہ 2012 میں اسلام کی توہین کرنے کا مجرم ٹھہراتے ہوئے جرمانہ کیا گیا اور کوڑے بھی مارے گئے۔

وہ اس وقت سعودی عرب میں قید ہیں، لیکن ان کی اہلیہ اپنے تین بچوں سمیت 2012 میں کینیڈا چلی گئی تھیں، جہاں سے وہ ان کی رہائی کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔

رائف بدوی کے کیس کے بارے میں مزید پڑھیے

سعودی بلاگر کو ایک ہزار کوڑوں کی سزا برقرار

سعودی بلاگر کو پھر سے کوڑے مارنے کی تیاری

سزا یافتہ سعودی بلاگر کے لیے ایک اور ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی بلاگر رائف بدوی کی بیوی انصاف حیدر کا کہنا ہے: 'میں پاکستانی ہوں نہ ہی میری ماں پاکستانی ہے۔ میں نہ کبھی پاکستان گئی ہوں، نہ جاؤں گی‘

انصاف حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں ٹوئٹر کی اس حرکت پر حیران ہوں، وہ تو مجھے سچ بولنے سے روکنا چاہتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ٹوئٹر نے ان کو قانونی نوٹس ایک ایسی ٹویٹ پر بھیجا جس میں انھوں نے لکھا تھا: ’اگر آپ حجاب کی مخالفت کرتے ہیں تو اس پیغام کو ریٹویٹ کریں۔‘

ٹوئٹر نے اپنے نوٹس میں انھیں یہ مشورہ بھی دیا کہ انھیں وکیل سے مشورہ کرنا چاہیے۔ لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا: ’میں پاکستانی ہوں نہ ہی میری ماں پاکستانی ہے۔ میں نہ کبھی پاکستان گئی ہوں، نہ جاؤں گی۔‘

ٹوئٹر کے کردار کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ اب سوشل میڈیا ویب سائٹ پر اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ ’اگر میرے ساتھ ایسا دوبارہ ہوا تو مجھے اتنی حیرانی نہیں ہوگی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس واقعے سے ان کی مہم پر کوئی اثر پڑا ہے تو انھوں نے کہا: ’کوئی فرق تو نہیں پڑا، لیکن اس سے ٹوئٹر کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔‘

محمد توحیدی کو ایسا ہی نوٹس تب موصول ہوا جب جنھوں نے ایک حملے کے بعد اپنی ایک ٹویٹ میں میلبرن شہر کی مسجدوں میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف آسٹریلوی پولیس کی توجہ دلائی۔

جب انھیں ٹوئٹر کی طرف سے قانونی نوٹس آیا تو اس میں لکھا تھا کہ انھوں نے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس پر انھوں نے ٹویٹ کیا: ’میں پاکستانی ہوں نہ ہی میرا تعلق پاکستان سے ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹوئٹر کو اگر کسی مستند ادارے کی طرف سے جائز درخواست موصول ہوتی ہے تو ان کے مطابق کبھی کبھار کسی ملک میں ایسے مواد تک رسائی بند بھی کرنی پڑ سکتی ہے

ٹوئٹر کسی کا اکاؤنٹ کب بند کرتا ہے؟

جب ٹوئٹر سے پوچھا گیا کہ وہ کسی کا اکاؤنٹ کیوں بند کرتے ہیں تو ایک ترجمان نے بتایا: ’کئی ممالک میں ٹوئٹر پر موجود مواد کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔۔۔ اگر ہمیں کسی مستند ادارے کی طرف سے جائز درخواست موصول ہوتی ہے تو کبھی کبھار کسی ملک میں ایسے مواد تک رسائی بند بھی کرنی پڑ سکتی ہے۔ ایسی بندشیں ان علاقوں تک محدود ہوتی ہیں جہاں سے درخواست موصول ہوئی ہو یا جہاں کے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔‘

ذرائع کے مطابق ٹوئٹر کی پالیسی ہے کہ اگر ایک صارف کے خلاف کسی مستند ادارے کی طرف سے درخواست موصول ہو تو ٹوئٹر صرف اس ملک میں ایسے مواد تک رسائی بند کر دیتا ہے جہاں کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔ اگر وہ مواد ٹوئٹر کے اپنے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا تو باقی دنیا کے لیے وہ دستیاب رہے گا۔

اس سے قبل چند پاکستانی صارفین نے بھی ٹوئٹر کی طرف سے نوٹس موصول ہونے اور اکاؤنٹ بند ہونے کی شکایت کی تھی۔ ان لوگوں میں سماجی کارکن گل بخاری، بلاگر احمد وقاص گورایہ اور پیرس میں مقیم پاکستانی صحافی طحٰہ صدیقی بھی شامل ہیں۔

ان میں سے ایک صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ اکاؤنٹ بند ہونے کے بعد ٹوئٹر نے ان سے رابطہ کر کے معافی مانگی اور کہا کہ ان کا اکاؤنٹ حفاظتی طور پر بند کیا گیا تھا، کیونکہ ٹوئٹر کو ان کے اکاؤنٹ پر حملے کا خدشہ تھا۔

کچھ ماہ قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے قابلِ اعتراض مواد نہ ہٹانے پر بھی ٹوئٹر کو بلاک کرنے کی دھمکی دی تھی۔ خیال رہے کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں ایک توہین آمیز فلم لگانے کے بعد سنہ 2010 سے 2016 تک ملک میں مشہور ویڈیو سائٹ یوٹیوب بھی بلاک رہی تھی۔

اسی بارے میں