مصر میں ساڑھے چار ہزار برس سے پوشیدہ مقبرہ دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption دریافت کے بعد صحافیوں کو اس مقبرے میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی

مصر میں اثار قدیمہ کے ماہرین نے ایک ایسے مقبرے کی دریافت کی ہے جو گذشتہ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال سے پوشیدہ تھا۔

مصر میں اثار قدیمہ کی سپریم کونسل کے سیکریٹری جنرل مصطفی وزیری نے بتایا کہ یہ مقبرہ 'کئی دہائیوں میں ہونے والی دریافتوں میں سے اہم ترین ہے۔'

اہرام مصر کی مزید دریافتوں کے بارے میں جاننے کے لیے پڑھیے

3500 سال پرانے اہرام مصر کے خزانوں کی نمائش

اہرام مصر کی تعمیر کی پیچیدہ ترین گتھی حل؟

قاہرہ کے نزدیک اہرام مصر کے ثقارہ کمپلیکس کے نزدیک دریافت ہونے والے اس مقبرے کی دیواروں پر قدیم مصری زبان میں رنگ برنگے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں اور کئی فرعونوں کے مجسمے بھی موجود ہیں۔

ان نقش و نگار میں نظر آتا ہے کہ اس مقبرے میں دفن ہونے والے راہب، جس کا نام 'وہائٹ' بتایا گیا ہے' اپنی ماں، بیوی اور دیگر رشتے داروں کے ساتھ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ 16 دسمبر سے اس مقبرے میں کے اندر کام شروع کریں گے اور ان کو امید ہے کہ یہاں سے مزید کئی نئی چیزیں دریافت ہوں گی۔

اب تک ماہرین کو اس مقبرے سے جو کچھ ملا ہے اس کی تصاویر ملاحظہ کیجیے۔ ...

Coloured statues and hieroglyphs inside the tomb at Saqqara تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption مصر کے نزدریک ثقارہ کے علاقے سے ملنے والے اس مقبرے کے اطراف میں قدیم ترین اہرام مصر موجود ہیں
A view of the tomb's exterior, showing its entrance set into rising walls of stone تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption اس مقبرے میں داخل ہونے کا راستہ
A wall covered in engraved hieroglyphs, including people, weighing scales, birds and what appears to be food تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption اس مقبرے کی دیوار پر قدیم مصری زبان میں نقش و نگار اور پیغامات کندہ تھے
Four statues of people carved into the wall of the tomb تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس مقبرے میں مجسمے بھی موجود ہیں
Mustafa Abdo, chief of excavation, stands inside the newly-discovered tomb of Wahtye تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دس میٹر لمبے اور تقریباً تین میٹر چوڑے اس مقبرے کی نگرانی اور دریافت کا کام مصطفی عبدو کے ذمے ہے۔
Coloured statues in alcoves inside the tomb تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قدیم مصر میں راہبوں کی بہت اہمیت تھی
A man takes photos of the well-preserved hieroglyphs inside the newly-discovered tomb of Wahtye تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار ہزار سال پرانے اس مقبرے کی حالات بہت اچھی ہے
A statue is seen inside the newly-discovered tomb of Wahtye, which dates from the rule of King Neferirkare Kakai تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہاں ملنے والے سامان کی مدد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مصر کی پانچویں سلطنت کے دور کی ہے
A view of coloured scenes depicting the owner of the tomb and his family تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہب اپنے خاندان والوں کے ساتھ موجود ہے
An Egyptian archaeological worker stands inside the newly-discovered tomb of "Wahtye", which dates from the rule of King Neferirkare Kakai, at the Saqqara area near its necropolis, in Giza, Egypt, December 15, 2018. تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ راہب کے کفن کو بھی تلاش کر رہے ہیں

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں