’فورٹ نائٹ کے اکاؤنٹ ہیک کر کے نوجوان ہر ہفتے ہزاروں ڈالر کما رہے ہیں‘

کیلی فورنیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فورٹ نائٹ کے دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زیادہ صارف ہیں

14 سال کی عمر تک کے بچے ایک ایسے عالمی ہیکنگ نیٹ ورک کی مدد سے ہر ہفتے ہزاروں ڈالر کما رہے ہیں جو دنیا بھر میں مقبول آن لائن ویڈیو گیم فورٹ نائٹ کھیلنے والوں کو نشانہ بناتا ہے۔

بی بی سی نے دنیا بھر سے کئی نوعمر ہیکروں سے بات کر کے ان سے جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیسے کھلاڑیوں کے نجی اکاؤنٹ ہیک کر کے انھیں اس گیم کے مداحوں کو فروخت کر کے پیسے کما رہے ہیں۔

فورٹ نائٹ ویسے تو ایک مفت گیم ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق اس نے گیم میں شامل مختلف قسم کی ’سکنز‘ کی فروخت سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمائے ہیں۔ یہ سکنز کردار کی شبیہ تبدیل کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستانی صارف ہیکرز کا آسان ہدف ہیں؟

بلو ٹوتھ آن رکھا تو معلومات چوری ہو سکتی ہیں

’آن لائن گیمز کے دوران 57 فیصد نوجوانوں کو دھمکایا جاتا ہے‘

پاکستانی ایتھیکل ہیکر کا نام ہیکنگ ہال آف فیم میں شامل

گیم کھیلنے والے یہ سکنز خرید سکتے ہیں تاہم یہ صرف دکھانے کے لیے ہوتی ہیں اور ان سے انھیں گیم کے دوران کسی قسم کی مدد نہیں ملتی۔ تاہم اس سے ہیکروں کی ایک بلیک مارکیٹ وجود میں آ گئی ہے جہاں ایک اکاؤنٹ ہیک کر کے اسے 25 سینٹ سے لے کر سینکڑوں ڈالر تک فروخت کیا جاتا ہے۔

فورٹ نائٹ بنانے والی کمپنی ایپک نے اس تحقیقات پر تبصرہ نہیں کیا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس گیم کی سکیورٹی کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

Image caption فورٹ نائٹ ویسے تو مفت گیم ہے لیکن لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ مختلف قسم کی اضافی خدمات (ایکسیسریز) کی مدد سے اربوں ڈالر کما رہی ہے۔ ان خدمات میں مختلف کردار یا 'سکنز' شامل ہیں

ایک نوجوان ہیکر کا اعتراف

ایک برطانوی ہیکر نے کہا کہ وہ چند ماہ قبل 14 سال کی عمر سے اس کام میں ملوث ہوئے اور اس کا آغاز کچھ یوں ہوا کہ وہ خود بھی اسی قسم کی ہیکنگ کا نشانہ بنے تھے۔

اپنے بیڈ روم سے ویڈیو چیٹ کے ذریعے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس گیم کے عمدہ کھلاڑی ہیں اور انھوں نے سکنز حاصل کرنے کے لیے اپنی جیب سے 60 ڈالر خرچ کیے ہیں۔

لیکن ایک دن انھیں ایک ای میل ملی جس سے ان کا نقطۂ نظر تبدیل ہو گیا۔

Image caption فورٹ نائٹ کے صارف مختلف سکنز خریدتے ہیں تاکہ اپنے دوستوں کو دکھا سکیں

'اس ای میل میں لکھا تھا کہ کسی اور شخص نے میرا پاس ورڈ تبدیل کر دیا ہے۔ مجھے یہ بہت برا لگا۔'

اس کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ بہتر ایکسیسریز والے اکاؤنٹ آن لائن بک رہے ہیں۔ 'مجھے کسی کی ای میل آئی کہ میں ایک اکاؤنٹ 25 سینٹ میں خرید سکتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ اس اکاؤنٹ کی مالیت کہیں زیادہ تھی۔ میں نے اسے خرید لیا۔'

یہ ان کا فورٹ نائٹ کے کسی ہیکر سے پہلا رابطہ تھا۔ اس کے بعد سے انھوں نے خود بھی ہیکنگ شروع کر دی۔

'مجھ سے ایک ہیکنگ ٹیم نے رابطہ کر کے بتایا کہ میں خود کیسے ہیکنگ کر سکتا ہوں۔'

Image caption اس سے ہیکروں کی ایک بلیک مارکیٹ وجود میں آ گئی ہے جہاں ایک اکاؤنٹ ہیک کر کے اسے 25 سینٹ سے لے کر سینکڑوں ڈالر تک فروخت کیا جاتا ہے

انھوں نے بتایا کہ انھیں دوسروں کے چوری شدہ یوزر نیم اور پاس ورڈ کہاں سے مل سکتے ہیں اور ہیکنگ ٹولز کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی مدد سے فورٹ نائٹ کے اکاؤنٹس کو کیسے ہیک کیا جائے۔

تیر یا تکا

اس کے بعد انھوں نے ایک ہی دن میں ایک ہزار سے زیادہ فورٹ نائٹ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لی۔

'یہ بنیادی طور پر تیر یا تکا ہوتا ہے۔ یا تو آپ کو کوئی اچھا اکاؤنٹ ہاتھ آتا ہے یا نہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ سکن کتنی نایاب ہے اور پھر اسے اپنے دوستوں کو دکھا کر اتراتے ہیں۔'

Image caption سینکڑوں ہیکر یہ اکاؤنٹ کھلے عام ٹوئٹر اور دوسرے پلیٹ فارموں پر فروخت کر رہے ہیں

اس ہیکر نے بتایا کہ اس نے پہلے چند ہفتوں کے اندر اندر 1800 ڈالر کما لیے اور اپنے لیے نئی گیمز اور ایک بائیک خرید لی۔

انھوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کام غیر قانونی ہے اور ان کے والدین کو بھی اس کا علم ہے۔

Image caption برطانیہ کے سائبر سکیورٹی حکام اس معاملے پر تشویش کا شکار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آن لائن کمپنیاں اپنی سکیورٹی کو سنجیدگی سے لیں اور گیمنگ انڈسٹری سکیورٹی اداروں سے تعاون کرے

اکاؤنٹس کی مارکیٹ

سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور میوزک پلیٹ فارم خاص طور پر ہیکروں کی زد پر ہیں۔ فورٹ نائٹ جیسی مقبول گیم، جس کے کھلاڑیوں کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ ہے، وہ بھی نشانہ بنتی ہے کیوں کہ لوگ گیم کے اندر استعمال کیے جانے والے آئٹم مہنگے داموں خریدتے ہیں۔

سینکڑوں ہیکر یہ اکاؤنٹ کھلے عام ٹوئٹر اور دوسرے پلیٹ فارموں پر فروخت کر رہے ہیں۔

یہ سارا دھندا غیر قانونی ہے اور ہیکروں کو دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

کار خریدنے کے لیے ہیکنگ

اس کے باوجود بہت سے ہیکروں کو نہ تو قید کی پروا ہے اور نہ کوئی پچھتاوا۔

سلووینیا کے ایک 17 سالہ ہیکر نہ صرف اپنی ویب سائٹ چلاتے ہیں بلکہ انھوں نے دوسرے لوگوں کو بھی بھرتی کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'آپ کو کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ کوئی چیک ہی نہیں کرتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گیمنگ کی صنعت کو سکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے سات مہینوں میں 20 ہزار ڈالر کمائے ہیں۔

ان کی ماں اکاؤنٹنٹ ہیں اور اس کام میں ان کی مدد کرتی ہیں تاکہ ان کا بیٹا کار خرید سکے۔

وہ اس مقصد کے لیے پے پیل اور بٹ کوئن استعمال کرتے ہیں۔

برطانیہ کے سائبر سکیورٹی حکام اس معاملے پر تشویش کا شکار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آن لائن کمپنیاں اپنی سکیورٹی کو سنجیدگی سے لیں اور گیمنگ انڈسٹری سکیورٹی اداروں سے تعاون کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہیکنگ سے بچنے کا آسان طریقہ ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن ہے

اپنے اکاؤنٹ کا تحفظ کریں

سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال کریں۔ اس طریقے کے مطابق صرف پاس ورڈ سے آپ کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی نہیں ملتی بلکہ ساتھ ہی ای میل یا موبائل فون بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس سے اکاؤنٹ بڑی حد تک ہیکروں کے حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں