سات پیشے جنھیں ٹیکنالوجی سے خطرہ ہے

ایک معمار کام پر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصنف جون پگلیانو کے مطابق ، فنِ تعمیر میں صرف تخلیقی ملازمتیں بچ جا ئیں گی

اگر آپ کا کام بیزار کن اور تکرار والا ہے تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔

منی مینیجر جون پگلیانو کے مطابق: 'ایسا کام جو معمول اور قابلِ پیش گوئی ہے، حساب کے الگورِتھم کی مدد سے پانچ سے دس سال میں ممکن ہو جائے گا۔'

پگلیانو سلسلہ وار کتب 'روبوٹس آر کمنگ: اے ہیومنز سروائیول گائیڈ ٹو پرافیٹنگ ان دی ایج آف آٹومیشن' یعنی روبورٹس آرہے ہیں: آٹومیشن کے دور سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسانی بقا کی گائیڈ کے مصنف ہیں۔

انھوں نے خطرات کا شکار جن پیشوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جنھیں اب تک محفوظ سمجھا جارہا تھا، کیونکہ ان کے لیے انتہائی قابل اور پیشہ ور ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے ٰجیسا کہ طب اور قانون۔'

بی بی سی ہسپانوی نیوز سروس، بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے پگلیانو کا کہنا تھا 'ڈاکٹر اور سائنس دان غائب نہیں ہو جائیں گے لیکن ان کی مزدوری کا میدان جزوی طور پر کم ہو جائے گا۔'

پگلیانو کے مطابق یہ وہ سات شعبے ہیں جو ٹیکنالوجی سے متاثر ہوں گے اور کچھ جو بچ جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پگلیانو کا کہنا ہے کہ عام ڈاکروں کی اہمیت کم ہو جائے گی

1. ڈاکٹر

یہ دور کی کوڑی لگ سکتی ہے کیونکہ ڈاکٹروں کی ہمیشہ سے کمی رہی ہے اور ان کی بہت مانگ بھی رہی ہے جبکہ عمر دراز ہوتی ہوئی عالمی آبادی کے تناظر میں اس کی مانگ اور بھی زیادہ ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔

لیکن پگلیانو کا کہنا ہے کہ طب کے بعض شعبے بیماری کی از خود تشخیص کے نتیجے میں خطرے سے دو چار ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ڈاکٹر اور تربیت یافتہ طبی معاون کی ایمرجنسی روم میں ضرورت رہے گی اس کے علاوہ سرجن جیسے ماہرین کی بھی مانگ رہے گی۔

2. وکلا

پگلیانو کا خیال ہے کہ مستقبل میں دستاویزات کی جانچ پڑتال اور ان جیسے دوسرے معمول کے کاموں کے لیے وکیلوں کی کم ہی ضرورت ہوگی۔

ایسے قانونی کاموں کے لیے کمپیوٹر سافٹ ویئر کا استعمال ہوگا جس میں کم تجربے اور کم اختصاص اور مہارت کی ضرورت ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصنف جون پگلیانو کے مطابق ، فنِ تعمیر میں صرف تخلیقی ملازمتیں بچ جا ئیں گی

3. ماہرِتعمیرات

عام اور سادہ سی عمارت کے ڈیزائن سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کیے جانے لگے ہیں۔

پگلیانو کا خیال ہے کہ مستقبل میں صرف تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کے حامل ماہر فن تعمیرات ہی اس کاروبار میں بچ جائيں گے۔

4. اکاؤنٹنٹس یا محاسب

پگلیانو بتاتے ہیں کہ ٹیکس کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے والے اکاؤنٹنٹس ہی بچیں گے۔

ان کے خیال میں چھوٹے موٹے ٹیکس کا کام کرنے والوں کی مانگ ختم ہو جائے گی۔

5. جنگی جہاز کے پائلٹ

غیر انسانی ہوائی گاڑیاں (یو اے وی) جنھیں عرف عام میں ڈرونز کے نام سے جانا جاتا ہے نے خطرناک صورت حال سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی پائلٹ کی جگہ لے لی ہے اور وہ ایسا کرتے رہیں گے کیونکہ مستقبل میں جنگ زیادہ سے زیادہ خود کار ڈھنگ سے لڑی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نگرانی کا کام ٹیکنالوجی کرنے لگی ہے جو کہ روایتی طور پر پولیس یا جاسوس کیا کرتے تھے

6. پولیس اور جاسوس

معمول کی نگرانی کے کام کے لیے اور بغیر اختصاص والی جانچ کے کام کے لیے پہلے سے ہی پیچیدہ ٹیکنالوجی کے نظام کا استعمال ہونے لگا ہے۔

پگلیانو کہتے ہیں کہ ہر چند کہ اس کام لیے ملازمتیں ختم نہیں ہو جائيں گی لیکن ان کی مانگ کم ضرور ہو جائے گی۔

7. ریئل سٹیٹ ایجنٹ

خردہ خرید و فروخت کے دوسرے شعبوں کی طرح زمین اور مکان کی خرید و فروخت پر بھی ویب سائٹس اثر انداز ہوئی ہیں اور ان کے خریدنے اور فروخت کرنے والوں میں رابطہ پید کرنے کی وجہ سے روایتی دلالوں کے منافع میں کمی آئی ہے۔

ایسے میں کمپنیوں کے ثالثی کرنے والے مینیجر غائب ہو جائيں گے کیونکہ مجموعی طور پر ان کے کام پر ٹیکنالوجی اثر انداز ہونے لگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصنوعی ذہانت کے بنانے والے اور آئی ٹی کے سکیورٹی ماہرین کی مانگ زیادہ ہوگی

ٹیکنالوجی کی وجہ سے کون سا پیشہ پیدا ہوگا؟

پگلیانو کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے سبب جہاں کچھ پیشوں کی بنیاد ختم ہو جائے گی وہیں دوسری جانب مواقع پیدا ہوں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کرنے والوں یا سافٹ ویئر اور کمپیوٹر کا الگورِتھم تیار کرنے والوں کا مستقبل روشن ہے اس کے ساتھ اس نظام کا تحفظ اور مرمت کرنے والے انجینیئروں کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔

پگلیانو کا کہنا ہے کہ حقیقی زندگی سے جڑے روایتی کاموں کے کرنے والوں کی مانگ زیادہ ہوگی جن میں پلمبر، بجلی ٹھیک کرنے والے اور ہنرمند راج مستری یا معماروں کی مانگ بہت زیادہ رہے گی۔

اسی بارے میں