شیاومی نے ’فولڈنگ سمارٹ فون‘ متعارف کروا دیا

شیاومی تصویر کے کاپی رائٹ Xiaomi

چین کی موبائل ساز کمپنی شیاومی نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ویبو پر اپنا نیا سمارٹ فون متعارف کروا دیا ہے جس کی ڈسپلے سکرین ایک ٹیبلٹ جیسی ہے لیکن تہہ ہو کر وہ ایک سمارٹ فون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

دیگر موبائل بنانے والی کمپنیاں جن جیسے سام سنگ اور نئی کمپنی رائل پہلے ہی اپنے تہہ ہو جانے والے فون متعارف کروا چکے ہیں مگر وہ صرف ایک مرتبہ ہی تہہ ہو سکتے ہیں۔

سی سی ایس انسائٹ کنسلٹینسی کے بین وڈ کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت دلچسپ ہے کہ شیاومی نے اپنے نئے فون میں تین رویہ تہہ کی سہولت متعارف کروائی ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شیاومی کا نیا ’فولڈنگ سمارٹ فون‘ مُڑ کر ٹیبلیٹ بھی بن جاتا ہے

'ایک طرفہ تہہ والے فون کے مقابلے میں اس کے فوائد کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور اس کا مکمل انحصار یوزر انٹرفیس پر ہے جس کو شیاومی نے چنا اور جو ڈسپلے سکرین کو تین حصوں میں دکھانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

‘تاہم اس کا یقیناً مطلب یہ بھی ہے کہ یہ اس فون کی ناکامی کی ایک وجہ بن سکتی ہے کیونکہ فون کی تہہ ہی عموماً وہ حصہ ہوتا ہے جہاں وقت کے ساتھ خرابی پیدا ہوتی ہے۔'

اس فون کے حوالے سے افواہیں اس ماہ کے شروع ہی سے گردش کررہی تھیں جب ایک صحافی ایون بلاس نے اپنے ٹوئٹر پر اس فون کی ایک ویڈیو لگائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا سام سنگ ’فولڈنگ‘ سمارٹ فون متعارف کروانے لگا ہے؟

کیا یہ دنیا کا سب سے پتلا موبائل فون ہے؟

ایک پاؤنڈ میں سمارٹ فون نہ ملنے پر ہنگامہ

کمپنی نے بی بی سی کو اپنی ایک ویڈیو کی تصدیق کی جس میں کمپنی کے شریک بانی بِنلِن کو دکھایا گیا ہے مگر انھوں نے کہا کہ اس موقع پر ابھی مزید کچھ نہیں بتا سکتے۔

ویبو سائٹ پر بدھ کو شائع ہونے والی اس ویڈیو کو اب تک 35 لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں اور اس پر ہزاروں کی تعداد میں تبصرے کیے ہیں۔

تہہ ہو جانے والی سکرینز سے دراصل سمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو جاذبِ نظر اور نمایاں بنانے میں مدد مل رہی ہے اور یہ سب کچھ اس دور کے بعد ہوا ہے جب یہ تمام کمپنیاں عام شکل کے چھوٹے اور مستطیل موبائل فونز بنا رہیں تھی۔

مگر جب یہ فونز پہلی مرتبہ فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے تو خریدنے والوں کو اس جدت کی ایک بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کمپنیاں اس اضافی قیمت کا کیا جواز پیش کریں گی۔

موبائل ساز کمپنی رائل گذشتہ برس فروخت کیے جانے والے اپنے سمارٹ فون کے متعلق ابھی بھی سافٹ ویئر بنانے والوں سے اس کے متعلق معلومات اکھٹی کر رہی ہے۔

موبائل ساز کمپنی ہوواوے نے کہا تھا کہ وہ بھی 2019 میں اپنے دوہرے ہوجانے والا فون متعارف کروائے گی جبکہ سام سنگ نے بھی گذشتہ سال 20 فروری کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے گلیکسی ایکس فون کے بارے سے مزید تفصیلات اور آئندہ کے منصوبے بتانے کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Motorola
Image caption موٹورولا کی جانب سے جاری کیا گیا پیٹنٹ

موٹورولا جو اب لینوو کمپنی کی ملکیت ہے نے بھی ایک پیٹنٹ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ کس طرح اس تہہ دار ڈسپلے ٹیکنالوجی کو اپنے مشہور فون کے ماڈل ’ریزر‘ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اور گوگل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نئے اینڈرؤیڈ ورژن پر کام کر رہے ہیں جو فطری طور پر دوہری ہو جانے والی ڈیوائسز کے ساتھ کام کرے گا۔ جس سے موبائل فونز بنانے والی کمپنیوں کو اپنی ڈیوائسز سکرین کے بدلتے رحجان کو اپنانے میں مدد ملے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@benwood
Image caption سی سی ایس انسائٹ کنسلٹینسی کے بین وڈ کی ٹوئیٹ

دیگر موبائل ساز ادارے بھی 25 فروری کو بارسلونا میں ہونی والی عالمی موبائل کانگریس میں اس بدلتی جدت کے حوالے سے مزید اعلانات کر سکتے ہیں۔

مسٹر وڈ کا کہنا ہے کہ ’فولڈنگ ڈسپلے کا معاملہ ابھی تک ایسا ہے جیسے حل ایک مسئلے کی تلاش میں ہے۔ لیکن میں اس پر پراعتماد ہوں کہ ہم مستقبل کی سمارٹ ڈیوائسز کی بنیاد رکھے جانے کے عمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بلاشبہ فولڈنگ سکرین والا سمارٹ فون، گیجٹس پسند کرنے والوں کے لیے پسندیدہ ترین ہوگا۔‘

اسی بارے میں