ہواوے نے امریکی الزامات مایوس کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیے

ہواوے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے نے امریکی حکام کی جانب سے عائد کیے گئے مجرمانہ نوعیت کے الزامات مسترد کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ یہ الزامات ’مایوسن کن‘ ہیں۔

ہواوے نے کمپنی کی چیف فنانشل افسر منگ وانزو پر عائد کیے گئے الزامات کو بھی رد کیا ہے۔ منگ کو گذشتہ ماہ کینیڈا میں امریکی حکام کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا۔

دنیا میں ’سمارٹ فون‘ بنانے والی دوسری سب سے بڑی کمپنی کے خلاف امریکہ میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں بینک فراڈ، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور ٹیکنالوجی کی چوری بھی شامل ہیں۔

یہ مقدمے چین اور امریکہ کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہواوے بحران: امریکہ اور چین کے درمیان نئی سرد جنگ؟

ہواوے نے سام سنگ کے خلاف عدالتی جنگ جیت لی

پاکستان میں مقبول، دنیا میں مشکوک

ہواوے نے الزامات مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ادارے کو ’کمپنی کے خلاف الزامات سن کر ماہوسی ہوئی‘۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارتی راز چرانے سے متعلق الزامات ایک دیوانی مقدمے سے متعلق ہیں جس میں جیوری نے نہ ہی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی اسے اس معاملے میں بدنیتی کا کوئی عنصر نظر آیا‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی کو منگ کی طرف سے کی گئی کسی قسم کی خلاف ورزی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

امریکہ کے وزیرِ تجارت ولبر راس کا کہنا ہے کہ ’برسوں سے چینی کمپنیاں ہمارے برآمدی قوانین توڑ رہی ہیں اور عائد شدہ پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور بیشتر اوقات ہمارا مالیاتی نظام غیر قانونی سر گرمیوں میں انھیں سہولت دیتا رہا ہے۔ یہ اب نہیں ہو گا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکا نے ہواوے اور اس کی چیف فائنینشل آفیسر منگ وانچو کے خلاف متعدد الزامات پر مبنی مقدمات عدالت میں دائر کر دیے ہیں

الزامات کیا ہیں؟

ہواوے پہ الزام ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے کمپنی نے اپنی دو ذیلی کمپنیوں ’ہواوے ڈیوائس یو ایس اے‘ اور ’سکائی کوم‘ کمپنیوں سے اپنے تعلق کے بارے میں امریکہ اور ایک بین الاقوامی بینک کو اندھیرے میں رکھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایران پر ان پابندیوں کو دوبارہ نافذ کر دیا تھا جو 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ختم کر دی گئی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ نے حال ہی میں ایران پر مزید سخت پابندیاں بھی عائد کی ہیں جن کا نشانہ تیل کی درآمد، بینکاری اور جہاز رانی کی صنعت ہیں۔

دوسرا کیس ہواوے پر یہ ہے کہ اس نے موبائل فونوں کی پائیداری کا تجزیہ کرنے والی ٹی موبائل نامی کمپنی کی ایک ٹیکنولوجی چوری کی۔ اس کے ساتھ کمپنی پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور رقم کی منتقلی کے فراڈ کا الزام بھی ہے۔

امریکی حکام نے مجموعی طور پر کمپنی کے خلاف 23 الزامات عائد کیے ہیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رئے نے کہا ’اس فرد جرم نے ہمارے ملک کے قانون اور عالمی کاوباری طور طریقوں کے بارے میں ہواوے کے انکاری رویے کو برہنہ کر کے رکھ دیا ہے‘۔

رئے نے کہا ہواوے جیسی کمپنیاں ’ہماری معیشت اور ہماری قومی سلامتی کے لیے دوہرا خطرہ ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption منگ وانچو کمپنی کے بانی کی بیٹی بھی ہیں

اس معاملے کا سیاق و سباق کیا ہے؟

ہواوے دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کا سامان اور سہولیات مہیا کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ حال ہی میں اس نے ایپل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سام سنگ کے بعد دنیا میں سمارٹ فون بنانے والی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

لیکن امریکہ اور بیشتر مغربی ممالک کو یہ تشویش ہے کہ چینی حکومت ہواوے کو اپنی جاسوسی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہے جبکہ کمپنی کا یہ کہنا ہے کہ اس پر حکومت کا کوئی ’کنٹرول‘ نہیں۔

ہواوے کے بانی کی بیٹی منگ کی گرفتاری نے بھی چین کو بھڑکا دیا ہے۔ انھیں امریکہ کی درخواست پہ کینیڈا کے مغربی شہر وینکوور سے یکم دسمبر کو گرفتار کیا گیا۔

انھیں بعد میں مقامی عدالت سے ایک کروڑ کینیڈین ڈالر کے عوض ضمانت ملی لیکن ان کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے ٹخنے پر برقی نگرانی کا آلہ بھی لگا دیا گیا ہے۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب رواں ہفتے امریکا اور چین کے درمیان واشنگٹن میں اعلیٰ سطح کی تجارتی بات چیت ہونے والی ہے۔

البتہ الزامات کا زیادہ زور امریکی ٹیکنولوجی کی چوری پر ہے جو کہ ہمیشہ سے تجارتی مزاکرات میں مشکل مدعا ہوتا ہے۔

امریکی صدر نے چینی مصنوعات پر 250 ارب ڈالر کا ٹیرف لگایا جس کے جواب میں چین نے بھی اپنے ٹیرف متعارف کروائے۔

دونوں ممالک میں گذشتہ مہینے میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ 90 دن کے لیے نئے ٹیرف معطل کر دیے جائیں تاکہ مذاکرات ہو سکیں۔

امریکا کے سیکریٹری تجارت ولبر راس نے کہا ہے کہ ہواوے پر مقدمہ اور چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات دو ’بالکل الگ‘ معاملات ہیں۔

اسی بارے میں