پلاسٹک یا کاغذی تھیلا، کون سا تھیلا زیادہ ماحول دوست ہے؟

کاغذی تھیلے تصویر کے کاپی رائٹ PA

امریکہ کی سپر مارکیٹ چین موری سنز آزمائشی طور پر اپنے دوبارہ قابل استعمال پلاسٹک تھیلوں کی قیمت دس سے بڑھا کر 15 پینس کرنے کے ساتھ کاغذی تھیلوں کو متعارف کروا رہی ہے۔

ان کاغذی تھیلوں کی قیمت 20 پینس مقرر کی گئی ہے۔

یہ کاغذی تھیلے اس کے آٹھ سٹوروں پر دو ماہ کی آزمائشی مدت کے لیے دستیاب ہوں گے۔

موری سنز کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کو کم کرنا ان کے گاہکوں کی اولین ماحولیاتی تشویش تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ایسے بیگ جنھیں استعمال کے بعد کھایا بھی جا سکتا ہے

انڈیا: ممبئی میں ڈسپوزیبل برتن اور پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی

پلاسٹک بیگ تلف کرنے میں مددگار سنڈی کی دریافت

واضح رہے کہ امریکہ میں کاغذی تھیلے مشہور رہے ہیں لیکن برطانیہ کی سپر مارکیٹوں میں سنہ 1970 کی دہائی میں ان کا استعمال کم ہونا شروع ہوا اور اس کی جگہ پلاسٹک کے تھیلوں کو زیادہ پائیدار مواد کے طور پر دیکھا گیا۔

لیکن کیا کاغذی تھیلے پلاسٹک کے تھیلوں کی نسبت زیادہ ماحول دوست ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے:

تھیلے کی مینوفیکچرنگ میں کتنی توانائی استعمال ہوتی ہے؟

تھیلا کتنا پائیدار ہے؟ (یعنی اسے کتنی بار دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے؟)

اگر اسے پھینک دیا جائے تو وہ کتنی دیر میں تلف ہو گا؟

’چار گنا زیادہ توانائی‘

سنہ 2011 میں شمالی آئر لینڈ کی اسمبلی کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ’ایک کاغذی بیگ کو پلاسٹک بیگ تیار کرنے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ توانائی استعمال ہوتی ہے۔‘

پلاسٹک کے برعکس کاغذی تھیلوں کی پیداوار کے لیے جنگلات کو کاٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق پلاسٹک کے ایک تھیلے کو تیار کرنے کے مقابلے میں کاغذی تھیلے کا مینوفیکچرنگ عمل زیادہ زہریلے کیمیکلز پیدا کرتا ہے۔

تحقیق کا مزید کہنا ہے کہ کاغذی تھیلوں کا وزن بھی پلاسٹک کے تھیلوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ترسیل کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔

امریکہ کی سپر مارکیٹ چین موری سنز کا کہنا ہے کہ اس کے کاغذی تھیلوں میں استعمال ہونے والا 100 فیصد مواد جنگلات سے حاصل ہو گا۔

کمپنی کے مطابق اگر کھوئے ہوئے درختوں کو تبدیل کرنے کے لیے نئے جنگلات لگائے جائیں تو اس سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو دور کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ درخت ماحول سے کاربن کے اخراج کو بند کر دیں گے۔

ماحولیاتی ایجنسی نے سنہ 2016 میں مختلف مواد سے بنائے جانے والے مختلف قسم کے تھیلوں کی جانچ پڑتال کی تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ کس مواد سے پلاسٹک کی تھیلی تیار کی جائے جو ایک بار استعمال کی جانے والی عام پلاسٹک کی تھیلیوں کے مقابلے میں زیادہ ماحولیاتی ہو۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ کاغذ کے لفافے تین بار جب کہ پلاسٹک کے لفافے چار بار استعمال ہوتے ہیں۔

تحقیق کے آخر میں ماحولیاتی ایجنسی کو معلوم ہوا کہ کاٹن کے تھیلوں کو سب سے زیادہ 131 بار دوبارہ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر کاغذ کے تھیلے کو بھی ایک سے زیادہ بار استعمال کیا جائے تو ایک عملی بات پر غور کرنا ہو گا کہ یہ تھیلا سپر مارکیٹ کے کتنے چکر لگا کر ثابت رہ پائے گا۔

کاغذی تھیلے زیادہ پائیدار نہیں ہوتے اور خاص طور پر گیلے ہونے کی صورت میں یہ پھٹ جاتے ہیں۔

موری سننز کا کہنا ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ اس کا کاغذی تھیلا پلاسٹک تھیلے کے مقابلے میں جتنی بار استعمال نہ ہو سکے البتہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے استعمال کیسے کیا جاتا ہے۔

کاٹن کے تھیلے سب سے زیادہ کاربن تیار کرنے کے باوجود سب سے زیادہ پائیدار ہیں اور اس کی زندگی زیادہ طویل زندگی ہو گی۔

اس کی کم پائیداری کے باوجود کاغذ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ پلاسٹک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تلف ہو جاتا ہے چنانچہ اس سے جنگلی حیات کو لاحق خطرے کا امکان کم ہے۔

کاغذ بھی زیادہ وسیع پیمانے پر ری سائیکل ہونے والا ہے جبکہ پلاسٹک کے بیگ 400 اور 1,000 سال کے درمیان ختم ہو سکتے ہیں۔

بہتر کیا ہے؟

پلاسٹک بیگز کے برعکس کاغذ کے تھیلوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے ان کا چند ایک بار استعمال ضروری ہے۔

دوسری جانب کاغذ کے تھیلے دوسرے تھیلوں کے مقابلے میں کم پائیدار ہوتے ہیں لہذا اگر صارفین کو اپنے کاغذی تھیلوں کو کثرت سے تبدیل کرنا پڑے تو اس سے ماحول پر زیادہ اثر پڑے گا۔

نارتھمپٹن یونیورسٹی کی پروفیسر مارگریٹ بیٹز کا کہنا ہے تھیلا کسی بھی مواد سے بنا ہو، اس کے مضر اثرات سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تھیلے کو جتنا ہو سکے دوبارہ استعمال کیا جائے۔

اسی بارے میں