انڈین طلبا نے سب سے ہلکا مصنوعی سیارہ کیسے بنایا اور اسے خلا میں کیسے بھیجا؟

ڈزائن ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ Space kidz India
Image caption جس ٹیم نے دنیا کی ہلکی ترین سیٹلائٹ بنائی

’ہم گنگ تھے، ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ ہم جذباتی تھے۔ ہم وہ سب الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے‘۔

یہ کہنا ہے 19 سالہ رفعت شروک کا جو اُس ٹیم کے سربراہ اور سب سے کم عمر رُکن ہیں۔ اس ٹیم نے دنیا کا سب سے چھوٹا مصنوعی سیارہ بنایا ہے جسے گذشتہ جمعرات کو انڈین خلائی ادارے (اِسرو) نے ایک راکٹ کے ذریعے مدار میں روانہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

'خلا میں تو خلائی مخلوق ہی جا سکتی ہے‘

’مجھے خلا میں کھٹکھٹانے کی آواز آئی‘

’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

لیکن سات ارکان پر مشتمل ایک ناتجربہ کار ٹیم نے چھ دن کے اندر صرف 1.26 کلوگرام وزنی اس سیٹیلائٹ کو تیار کر کے خلا میں بھجوانے کا کارنامہ کیسے سرانجام دیا؟

تشہیر

مصنوعی سیارے کی کامیاب روانگی کے بعد ہر جانب سے اِس ٹیم کی تعریف کی جا رہی ہے۔

تاہم رفعت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں راتوں رات کامیابی نہیں ملی ہے۔ یہ کئی برس کی محنت کا نتیجہ ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Space kidz India
Image caption ٹیم ممبران نے خوشی سے ایک دوسرے کو گلے لگایا

بلکہ یہ کلام سیٹ 2 سیٹلائٹ اس ٹیم کی ساتویں کوشش ہے۔ اس کا نام انڈیا کے سابق صدر اور خلائی پروگرام کے بانیان میں سے ایک ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے نام پر رکھا گیا ہے۔

تجربے

اِس گروپ نے طے کیا تھا کہ وہ کلام سیٹ کے لیے استعمال شدہ اور ثابت کردہ ماڈل نہیں اپنائیں گے۔

شروک کہتے ہیں کہ ’ماضی میں سیٹلائٹس بنانے سے جو ہم نے سیکھا تھا وہ ہمارے کام ضرور آیا۔ لیکن ہمارے پاس کئی منفرد خیالات بھی تھے۔ اِس کے لیے اِسرو کے سائنس دانوں نے ہماری ابتدا سے مدد کی۔ جب بھی ہمیں کوئی شک ہوتا تھا تو ہم اِن کے پاس جاتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Space Kidz
Image caption اِسرو کے دفتر میں سیٹلائٹ کو جھٹکے اور اِرتعاش کے لیے آزمایا گیا

انڈین خلائی ادارے نے اِس سیٹلائٹ کو ایک اضافی وزن کے طور پر بغیر رقم لیے خلا تک پہنچایا۔ جمعرات کے دن چھوڑے گئے راکٹ کا بنیادی مقصد عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ایک مصنوعی سیارے کو خلا میں بھیجنا تھا۔

’ہم اِسرو سے ملنے والی مدد کے لیے بہت شکرگزار ہیں۔ اگر ہمیں تجارتی بنیادوں پر اسے خلا میں بھجوانا ہوتا تو ہم سے 60 سے 80 ہزار ڈالر طلب کیے جاتے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔‘

اس سیٹلائٹ کو بنانے پر تقریباً 18 ہزار ڈالر خرچہ آیا۔ اِسے بنیادی ریڈیو روابط میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ خلا میں دو مہینے گزار سکتا ہے۔

اِس ٹیم نے خلا کے لیے قابلِ استعمال ایلومینیم چنّئی سے ڈھونڈا، لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے کچھ ضروری پرزے بیرونِ ملک سے منگوانے پڑے۔

رفعت کا کہنا ہے کہ ’سیٹلائٹ ڈیزائن کرنے میں ہمیں دو دن لگے۔ باقی وقت اسے بنانے اور آزمانے میں لگا‘۔

ناسا کا دورہ

اِس ٹیم نے ایک فلیٹ کو دفتر کے طور پر استعمال کیا جو کہ انڈیا کے جنوبی ساحلی شہر چِنّئی کے تجارتی مرکز میں واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صرف 64 گریم کی کلام سیٹ 1 کو 2017 میں اُڑایا گیا لیکن خلا تک نا پہنچ سکا

21 سالہ یگنا سائی اِس ٹیم کے سب سے زائد عمر رُکن ہیں۔ چند مہینے پہلے ہی اِنھوں نے ایرو سپیس انجنئیرنگ میں اپنی ڈگری مکمل کی ہے۔ اِن کا کام اِس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے تھا۔

کچھ سال پہلے ناسا کے ایک دورے نے اِن کی زندگی بدل دی تھی اس بارے میں انھوں نے کہا کہ ’وہاں میں نے امریکہ کے گذشتہ مِشنز کے بارے میں بہت معلومات حاصل کیں اور ایک خلا نورد سے ملاقات بھی کی۔ اِس سے میں پُرجوش ہو گیا‘۔

بغیر نیند اور کھانے کے کام

گذشتہ چار سالوں سے یگنا خلائی تعلیمی ادارے سپیس کِڈز انڈیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو کہ اِس منصوبے کی پشت پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Space Kidz India
Image caption ٹیم کا کہنا ہے کہ اِسرو سے ملنے والی امداد کے لیے بہت شکرگزار ہیں

’ہماری دوڑ وقت کے خلاف تھی۔ چھ دن تک ہم ہر رات ایک یا دو گھنٹے ہی سوئے۔ کھانے کے بارے میں تو سوچنے کا وقت ہی نہیں تھا۔‘

’چھٹے دن پر ہم سیٹلائٹ کو اِسرو کے دفتر لے کر گئے اور وہاں اِس کو جھٹکوں اور اِرتعاش کے لیے آزمایا گیا۔ جب ہمیں خلائی سائنس دانوں نے کہا کہ سب ٹھیک ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ بہت زبردست احساس تھا‘۔

’دعا کے بغیر کچھ نہیں ہوتا‘

’ہم نے اپنے دفتر کا ایک کمرہ خالی کر کے اُسے سیٹلائٹ جوڑنے کے لیے استعمال کیا۔ ہر مرتبہ جب ہمیں کوئی پُرزہ وصول ہوتا تھا تو ہم اِسے عبادت والے کمرے میں لے جاتے تھے جہاں دیویوں اور دیوتاؤں کی تصاویر رکھی جاتی ہیں اور اُن کی برکتیں مانگتے تھے۔ دعا کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین خلائی ادارے نے اِس سیٹلائٹ کو ایک اضافی لوڈ کے طور پر بغیر خرچے کے خلا میں بھیجا

سپیس کِڈز انڈیا کی 45 سالہ سربراہ شریمتی کیسن کو خلائی تحقیق کے لیے کچھ کارپوریٹ فنڈِنگ تو مل رہی ہے لیکن اِس طرح کے چھوٹے منصوبوں کے لیے وہ اپنے ذرائع استعمال کرتی ہیں۔

یہی ٹیم ایک اور سیٹلائٹ پر کام کر رہی ہے جو کہ اِس سال خلا میں جائے گا۔ اِس سیٹلائٹ کا مقصد حیاتیاتی تجربات کرنا اور بیرونی خلا میں تابکاری کے حدود کا اندازہ لگانا ہو گا۔

لیکن یگنا سائی کا کہنا ہے کہ مالی ذرائع اور ٹیکنالوجی کی کمی سے ٹیم کی حوصلہ شکنی نہیں ہو سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Space Kidz
Image caption سپیس کِڈز انڈیا کی 45 سالہ سربراہ شری متھی کسان اِس طرح کے پراجیکٹس کے لیے اپنے ذرائعے استعمال کرتی ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ ہم متبادل ٹیکنالوجی اور طریقے استعمال کر کے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہمیں پیسے یا سہولیات نہیں، مواقع چاہییں۔

رفعت شروک اس پراجیکٹ کے لیڈر ہیں۔ ان کو سیٹلائٹ بنانے کا شوق 14 سال کی عمر سے ہے۔ وہ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

اِن کا کہنا ہے کہ ’خلائی شعبے میں اتنی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اتنی جدّتیں ہو رہی ہیں۔ سیٹلائٹ بنانے میں اِس طرح کا تجربہ ملنا بہت اچھا احساس دیتا ہے۔‘

اسی بارے میں