دنیا کے پانچ چالاک ترین جانور کون سے ہیں؟

کیلیفورنین زمینی گلہری تصویر کے کاپی رائٹ Nick Green
Image caption کیلیفورنین زمینی گلہری نے ریٹل سنیک کی کینچلی کو اپنے اوپر مل کر سانپ کی بو سے اپنی بو کو ڈھکنا سیکھ لیا ہے۔

ایسے جانور جن کے شکار کرنے اور شکار سے بچنے کے طریقے اتنے منفرد ہیں کہ اُن کے مخالف لاچار رہ جائیں۔

کیلیفورنین زمینی گلہری

اِس چھوٹے سے جانور کو بہت بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ میں کیلیفورنیا، مغربی اوریگون اور مغربی نیواڈا کے جنگلات اور چراگاہوں میں رہنے والی اس قسم کی گلہریوں کے لیے پتھریلے علاقے اور گہری وادیاں دونوں ایک جیسی ہیں۔ لیکن اِن کے گھر کے کھُلے ہونے کی وجہ سے اِنھیں ہمیشہ شکار ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

ایک دشمن ریٹل سنیک یا چَکّی ناگ ہے، ایسا سانپ جو سونگھ کر شکار کرتا ہے اور اگر ایک مرتبہ پیچھا شروع کر دے تو نشانے کا بچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

لیکن کیلیفورنین زمینی گلہری کے پاس اپنے دشمن کو بیوقوف بنانے کا ایک چالاک طریقہ ہے۔ انھوں نے ریٹل سنیک کی کینچلی کو اپنے اوپر مل کر سانپ کی بو سے اپنی بو کو ڈھکنا سیکھ لیا ہے۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ عمل گلہریوں نے نسل در نسل سیکھا ہے اور یہ خوشبو کسی بھی ہوشیار گلہری کے لیے سانپ سے بچنے کی لیے لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

انسان بمقابلہ جانور، کون جیتا؟

شفق کے رنگوں میں ’پراسرار‘ جنگلی جانور

شیر اور چیتے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

Image caption تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جب زیبرا کے جھنڈ اکٹھے چلتے ہیں تو اِن کی دھاروں سے ایک 'موشن ڈیزل' کا سراب پیدا ہوتا ہے۔

زیبرا

’زیبرا کے جسم پر دھاریاں کیوں ہوتی ہیں؟‘

ارتقائی حیاتیات کے سب سے پرانے اِس سوال نے سائنس دانوں کو تب سے پریشان کیا ہوا ہے جب سے چارلس ڈاروِن اور الفریڈ رسل نے پہلی بار اِس پر اختلاف ظاہر کیا تھا۔ لیکن جدید تحقیق کے مطابق یہ دھاریاں ایسے کیموفلاج کا کام کرتی ہیں جس کے ذریعے بھاگتے ہوئے یہ دشمنوں سے محفوظ رہ سکیں۔

لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے جب ان ہی دھاریوں کی وجہ سے یہ اور نمایاں نظر آتے ہیں؟ جواب وہی ہے جو کسی بھی جادوگر کی سب سے زبردست چال کا راز ہوتا ہے: آنکھوں کا دھوکا۔

سفید و سیاہ ایسے رنگ ہیں جن کو اگر آپس میں ملایا جائے تو دماغ کے ساتھ کئی کھیل کھیلے جا سکتے ہیں اور اکثر جانوروں کی نگاہوں سے بھی۔

یونیورسٹی آف برسٹل کے ڈاکٹر مارٹن ہاؤ چیتے اور شیر کی نظر پر مطالعہ کرتے آ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں کافی برسوں سے جانوروں کی بینائی کو پڑھ رہا ہوں اور مجھے اِس میں بہت دلچسپی ہے کہ ایک دھاریوں والے زیبرے کے شکاری کی آنکھوں پر کیا اثر ہوتا ہے۔‘

اُنھوں نے یہ تحقیق کی کہ کیا اِن دھاریوں سے شکاریوں کو ’ویگن ویل الوژن‘ کے ذریعے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ اِس میں جب آپ کے سامنے کوئی پہیے جیسی تیز حرکت چیز آئے تو دماغ اِس کو سمجھنے کے لیے آسان بنا لیتا ہے۔

لیکن اِس طریقۂ عمل سے دماغ اِس کی سمت کو بالکل غلط سمجھ لیتا ہے۔ اسی لیے جب ہم کسی گاڑی کے پہیوں یا جہاز کے پنکھوں کو تیزی سے ہلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ یا تو آہستہ سے ہل رہے ہیں یا پھر اُلٹی طرف کو چل رہے ہیں۔

ہاؤ کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جب زیبرا کے جھنڈ اکٹھے چلتے ہیں تو اِن کی دھاریوں سے ’موشن ڈیزل‘ کا سراب پیدا ہوتا ہے۔ ہاؤ یہ مانتے ہیں کہ جب کوئی شکاری اِن دھاریوں کی ہلچل کو دیکھتا ہے تو اُسے لگتا ہے کہ زیبرا بائیں جانب جا رہے ہیں جبکہ شاید وہ دائیں جانب جا رہے ہوں۔

شکار میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، چناچہ آنکھوں کو چندھیا دینے والے اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر زیبرا وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح آنکھوں کو دھوکا دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shutterstock
Image caption کٹل مچھلی مخصوص رنگوں کے ایسے نمونے بنا لیتی ہے کہ یہ کہیں بھی گھُل جائے۔

کٹل مچھلی

کٹل مچھلیوں نے کھائے جانے سے بچنے کے لیے ایک ایسا چالاک دفاع ڈھونڈا ہے جو کہ دیکھنے میں بھی خوبصورت ہے۔ اپنے آپ کو کسی سخت خول میں چھپانے کے بجائے یہ اپنے گردو نواح کے رنگ کو اپنا کر اُس میں گھل کر ناقابِل دید ہو جاتی ہے۔

اِن کی چمڑی کی سب سے باہر والی تہہ میں دبے کرومیٹوفور نامی چھوٹے اعضا ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے کٹل مچھلی حرکت کرتی ہے، ہر ایک کرومیٹوفور کو دماغ سے پٹھوں کے ذریعے کھینچا جاتا ہے اور یکایک ایک نقطہ کسی رنگدار دائرے میں بدل جاتا ہے۔

اِس طرح کے کروڑوں کرومیٹوفورز ایک وقت پر کام کرنے سے کٹل مچھلی مخصوص رنگوں کے ایسے نمونے بنا لیتی ہے کہ یہ کہیں بھی گھُل مل جائے۔ اِس کہ ساتھ ساتھ یہ شکل اور ساخت بھی اِس قدر بدل سکتی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ بالکل ہی غائب ہو گئی ہے۔

یہ تمام چالیں اور بھی حیران کن اس لیے ہیں کیونکہ کٹل مچھلی خود کوئی رنگ دیکھ ہی نہیں سکتی۔ تو اگر وہ یہ سارے رنگ دیکھ ہی نہیں سکتی جن کی یہ نقل کرتی ہیں تو یہ ایسی درستگی سے کیسے کر لیتی ہیں؟

ایک نئی تحقیق نے کٹل مچھلی کا راز فاش کر دیا ہے۔ اِن کی کھال کی خلیوں میں اوپسن نام کا پروٹین ہوتا ہے جو آنکھ کے ریٹینا میں بھی پایا جاتا ہے۔ تو انھی روشنی پکڑنے والے سالموں کے ذریعے اِن کی کھال خود رنگ ’دیکھ‘ سکتی ہے، جس وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا کی خوبصورت اور عقل مند ترین چمڑیوں میں سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Chadden Hunter
Image caption بوٹسوانا میں چند ایسی شیرنیاں رہتی ہیں جن کی گھنی ایال اور شیر کی طرح گرجدار دھاڑ مخالفوں کو اکثر مغالطے میں ڈال دیتی ہے۔

افریقی شیر

اگر کوئی جانور دیکھنے میں شیر لگے اور باقی بھی اُس کو شیر ہی سمجھیں تو ہو سکتا ہے آپ بھی یہ سوچیں، لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔ بوٹسوانا کے اوکاونگو ڈیلٹا کے علاقے میں چند ایسی شیرنیاں رہتی ہیں جن کی گھنی ایال اور شیر کی طرح گرجدار دھاڑ مخالفوں کو اکثر مغالطے میں ڈال دیتی ہے۔

اِن غیر معمولی شیرنیوں میں سے ایک ماموریری ہے جو کہ دیکھنے اور سننے میں بالکل شیر تو لگتی ہے، لیکن قطعی طور پر شیرنی ہے۔

چار اور بالوں والی شیرنیوں کی طرح، یہ مانا جاتا ہے کہ ماموریری کی جینز میں تبدیلی کی وجہ سے اُس کے ہارمونز میں اونچ نیچ ہے۔ اِس وجہ سے یہ دیکھنے میں نر شیر کی طرح ہے۔

شیروں میں نر ہی اپنے علاقوں کا دفاع مخالفوں سے کرتے ہیں جس پر تمام جتھے کا انحصار ہوتا ہے۔ کیونکہ ماموریری نر جیسی دکھتی ہے، جو مخالف نر اِن کے علاقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں حملہ کرنے سے پہلے دو دفعہ سوچیں گے۔

اگر ماموریری کا جتھا اِس غلط فہمی کی وجہ سے اپنا علاقہ بڑھا سکے تو شاید اِن شیرنیوں کی بقا بھی یقینی بنا سکے۔ جینز کی اِس تبدیلی نے ایک نئی اور پُرفریب قسم کی ترکیب کو جنم دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption ایک دفعہ جو اورکڈ مینٹس کی فسوں کار جال میں پھنس جائے اُس کا بچ کر نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اورکڈ مینٹِس

ملیشیا کے جنگلات میں نہ صرف بے شمار پروں والے کیڑے ہیں بلکہ اِن کو ضیافت سمجھ کر فائدہ اُٹھانے والے ان گنت شکاری بھی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر اِن کیڑوں نے کھائے جانے سے بچنا ہے تو اِن کو بجلی جیسا تیز رفتار ہونا پڑے گا تاکہ یہ آسانی سے پکڑے نہ جا سکیں۔

لیکن شکاریوں کے جبڑوں سے بچنے والے یہ کیڑے اِن خوش رنگ پھولوں سے دور نہیں رہ سکتے جن کے زرگل اور رس کو یہ بہت پسند کرتے ہیں۔

اورکڈ مینٹِس نے اپنے پورے جسم کو ایک خوبصورت اور پُرفریب بھیس میں ڈھک رکھا ہے۔ پھول کی مانند روپ اختیار کر کے اپنی تیز نظر اور مہلک ضرب کے ساتھ یہ مینٹس دنیا کے چالاک اور خطرناک ترین شکاریوں میں سے ہیں۔

لیکن اِس ’جعلی پھول‘ میں اور بھی خصوصیات ہیں۔ ایک بڑھتے ہوئے مینٹس کو ہر دو دن بعد کھانا چاہیے ہوتا ہے کیونکہ یہ پھولوں کی طرح زیادہ عرصہ انتظار نہیں کر سکتے۔ ایک کامیاب حملے کے لیے کسی کیڑے کو اِس کی پہنچ میں آ کر بیٹھنا ہوتا ہے۔

جب سے فطرت کے ماہرین نے اُنیسویں صدی میں اِس نسل کو ڈھونڈا، تب سے اُن کو اِس مینٹس کی کامیابی کے راز پر شک ہے، بالخصوص اِس لیے کہ یہ اُس پھول سے بھی زیادہ مقبول ہے جس کی یہ نقل اُتار رہا ہے۔

سائنس دانوں نے اب سمجھا ہے کہ یہ نقل کے مقابلے میں بھی کئی گنا آگے ہے۔ چونکہ ایک پھول کی شوخی کی کشش سے کیڑے کھینچے چلے آتے ہیں، یہ مینٹس اصلی پھول کی نسبت نہ صرف اپنی شکل مزید دل کش بنا لیتا ہے بلکہ رنگ بھی مزید چمکدار کر لیتا ہے۔

ایک دفعہ جو اِس مینٹس کی فسوں کار جال میں پھنس جائے اُس کا بچ کر نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں