جرمنی کا فیس بک کو صارفین کا ڈیٹا کم اکھٹا کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جرمنی کی کامپیٹیشن اتھارٹی نے فیس بک سے کہا ہے کہ وہ صرف صارفین کی ’رضامندی‘ کے بعد ہی اپنی ایپ اور ویب سائٹ کے علاوہ دوسری جگہوں سے ان سے متعلق ڈیٹا جمع کر سکتا ہے۔

ادارے نے اس معاملے پر فیس بک کی بڑھتی سرگرمیوں کے بارے میں ممبران کو آگاہ نہ کرنے پر خدشات کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے۔

اس میں تھرڈ پارٹی کے ساتھ ساتھ فیس بک اور اس کی دیگر ایپس کی جانب سے جمع کیے جانے والے ڈیٹا کو کوور کیا گیا ہے۔

وٹس ایپ، انسٹاگرام اور میسنجر کا انضمام جلد ہی

فیس بک صارفین کے پانچ کروڑ اکاؤنٹس پر سائبر حملہ

امریکی صدر ٹرمپ کی گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو تنبیہ

تاہم امریکی فرم فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کرے گی۔

ایف سی او کے فیصلے کے چیدہ نکات:

  • فیس کی مختلف سروسز ڈیٹا اکھٹا کرنا جاری رکھ سکتی ہیں، لیکن وہ اسے صارفین کے فیس بک اکاؤنٹ کے ساتھ اس وقت تک جوڑ نہیں سکتے، جب تک ممبر خود اس کی اجازت نہ دے دیں۔
  • تھرڈ پارٹی ویب سائٹس سے ڈیٹا جمع کرنا اور اسے فیس بک صارفین اکاؤنٹس پر ڈالنا بھی ممبران کی رضامندی سے مشروط ہے۔

ادارے نے مزید کہا ہے کہ ’اتنی بڑی تعداد میں ڈیٹا پراسیز‘ کے لیے کمپنی کی شرائط سے اتفاق کرنے کے لیے ’لازم ٹک باکس‘ ہونا کافی نہیں ہے۔

یہ فیصلہ صرف جرمنی میں فیس بک کی سرگرمیوں پر لاگو ہوگا لیکن ممکن ہے کہ اس کا اثر دوسری جگہوں پر بھی پڑے۔

فیس بک نے دعویٰ کیا ہے کہ فیڈرل کارٹل آفس نے ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ فیس بک کے مطابق یہ معاملے کسی دوسرے ادارے کے تحت آتا ہے۔

اس قانون کے نافذ ہونے سے قبل فیس بک کے پاس اس کے خلاف اپیل کرنے لیے ایک ماہ کا وقت ہے۔

ڈیٹا شیئرنگ

ایف سی او نے اس حوالے یہ توجیح پیش کی ہے کہ اس کے خیال میں فیس بک نے ڈیٹا جمع کرنے کے لیے اس کی مارکیٹ تسلط کو خراب کیا ہے۔

آنڈریس منڈ جو کہ ایف سی او کے صدر ہیں کا کہنا ہے کہ ’مستقبل میں فیس بک کو اس صارفین کو اس بات پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ غیر محدود کلیکشن اور فیس کے باہر کا ڈیٹا فیس بک صارفین کے اکاؤنٹس پر ڈالنے پر رضامندی ظاہر کریں۔‘

اس فیصلے کی وجہ سے بیرونی ویب سائٹس پر فیس بک کے لائک اور شیئر کے بٹن متاثر ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے فیس بک ہر وزیٹر کے آئی پی اڈریس، ویب براؤزر کا نام اور ورژن کو ٹریک کر سکتا ہے، اور ایسی دیگر تفصیلات جن کی مدد سے ان کی شناخت کی جا سکے۔

فیس بک نے حال ہی میں آگے بڑھ کر انسٹاگرام، واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر کی چیٹ سروسز کے پیچھے ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک اپنے اس طرح کے کاموں کا ان بنیادوں پر دفاع کرتا ہے:

  • اس سے صارفین کو مزید متعلقہ اشتہارات دکھانے میں مدد ملتی ہے
  • اس سے تشہیر کرنے والوں کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ ان کی مہم کتنی کامیاب چل رہی ہے
  • اس سے فیس بک کے لیے جعلی اکاؤنٹس کی شناخت کرنے، شدت پسندی سے نمٹنے اور اپنے صارفین کو محفوظ رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں