پاکستان میں انسانی آبادی والے علاقوں میں تیندوے کے حملے کیوں بڑھ رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تیندووں کے انسانی آبادی پر حملوں کے واقعات پاکستان کے علاوہ انڈیا میں بھی پیش آ رہے ہیں

پاکستان میں رواں برس تیندووں کی جانب سے جنگلوں سے نکل کر انسانوں اور مویشیوں پر حملہ کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور دوردراز دیہات کے ساتھ ساتھ اب تو دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے سے بھی ایسی کارروائیوں کی خبریں ملی ہیں۔

تیندووں کے ان حملوں کا ردعمل ایسی کارروائیوں کا نشانہ بننے والی آبادی کے ہاتھوں جانور کی ہلاکت کی شکل میں بھی نکلتا رہا ہے۔

مراقبہ کرتے بودھ راہب پر تیندوے کا حملہ

ماں تیندوے کے جبڑے سے بیٹی کو کھینچ لائی

انڈیا میں تیندوے کو زندہ نذر آتش کر دیا گیا

اسلام آباد کے نواحی دیہی علاقے شاہدرہ میں بسنے والے افراد کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ ایک تیندوے نے ان کے مال مویشی کو نقصان پہنچایا جبکہ محکمہ جنگلی حیات اسلام آباد کے مطابق گذشتہ سال مئی میں بھی اسلام آباد کی حدود سے ایک تیندوے کی لاش ملی تھی۔

چند ہفتے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلندری میں ایک تیندوا مقامی آبادی کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کشمیر کے اہلکار محمد سلیمان نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ کچھ دنوں سے رات کے اوقات میں تیندوے مقامی آبادیوں پر حملے کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن تیندوے کا ایک جوڑا دیہاتیوں کو دکھائی دیا تو انھوں نے ان پر فائر کھول دیا جس سے ایک تیندوا تو موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا جان بچانے میں کامیاب رہا۔

محمد سلیمان کے مطابق تیندوے نے کئی مویشی ہلاک کیے تھے اور جب مقامی آبادی کو موقع ملا تو انھوں نے بھی اپنا غصہ نکالا تاہم اب محکمہ وائلڈ لائف پلندری قانون کے مطابق مقامی آبادی کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف اسلام آباد کے مینجمنٹ بورڈ کے رکن سخاوت علی کے مطابق اسلام آباد میں مارگلہ ہلز کے جنگلات میں کم از کم چھ تیندوے پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مارگلہ ہلز ہمالیہ کا دامن ہے اور یہاں پر تیندووں کی آماجگاہیں کئی سو سال پرانی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں شک نہیں کہ اسلام آباد کی نواحی آبادیوں میں تیندووں کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ تیندوے مارے جانے کے کئی واقعات رپورٹ ہی نہ ہوتے ہوں تاہم اگر تیندوے یا کسی بھی جنگلی حیات کی جانب سے ایسا کوئی واقعہ ہو تو اس پر بہت زیادہ شور مچایا جاتا ہے۔

کشمیر میں اس وقت چھ تیندووں کی ہلاکت کے مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ ہزارہ ڈویژن میں ایسے مقدمات کی تعداد چار ہے جبکہ گذشتہ تین برس میں 18 مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں۔

ایوبیہ نیشنل پارک محکمہ وائلڈ لائف کے سب ڈویژن فارسٹ افسر سردار محمد نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ ہزارہ ڈویژن، کشمیر، گلگت بلتستان اور چترال کے جنگلات کئی سو سالوں سے تیندوے کی قدرتی آماجگاہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ KASHIF MASOOD

انھوں نے کہا کہ تیندوے کو قانونی طو پر تحفظ دیا گیا ہے اور اس کے شکار پر وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت ایک لاکھ دس ہزار سے لے کر ایک لاکھ نوے ہزار تک جرمانہ، تین ماہ سے تین سال تک قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

تیندووں کے حملوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کی بات کی جائے تو سرکاری ذرائع کے مطابق سنہ 2005 سے اب تک کم از کم 15 انسان جس میں آٹھ خواتین، چھ بچے اور ایک مرد شامل ہیں، تیندووں کے حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان میں سے 11 افراد ایوبیہ نیشنل پارک کے اردگرد کے جنگلات میں مارے گئے جبکہ کشمیر میں مارے جانے والوں کی تعداد چار ہے۔

سردار محمد نواز کے مطابق تیندووں اور انسانوں کے درمیان یہ واقعات سردیوں اور برفباری کے زمانے میں ہی پیش آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سردیوں اور برفباری کے موسم میں تیندوا اپنے شکار اور خوراک کی تلاش میں بلندی سے نیچے آتا ہے، یہاں تک کہ وہ مارگلہ ہلز میں واقع ایسی آبادیوں کا بھی رخ کرتا ہے جہاں پر کبھی اس کی آماجگاہیں موجود تھیں۔

جن علاقوں میں انسانوں نے پیش قدمی کر کے جنگلی حدود میں آبادیاں قائم کر لی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں بھی کبھی کبھار تیندوے کے حملوں کی اطلاعات ملتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تیندوا ایک شرمیلا درندہ ہے جو اپنی حدود میں رہنا پسند کرتا ہے۔

’ایوبیہ نیشنل پارک، گلیات میں انسانی جانوں کے ضیاع کے جو گیارہ واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں جنگل میں لکڑی چنتی، گھاس کاٹتی خواتین یا رات کے اندھیرے میں گزرتے بچے نشانہ بنے ہیں۔ ان واقعات میں تیندوے نے کبھی بھی قصداً انسانوں اور مال مویشی کو اپنا شکار نہیں بنایا بلکہ اس نے بھوک کے ہاتھوں پریشان ہو کر یا خوفزدہ ہو کر اپنے بچاؤ کے لےئے حملہ کیا تھا۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا میں تیندوے نے پکڑے جانے سے قبل چھ افراد کو زخمی بھی کیا

ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے کنزرویشن مینجر اور تیندوے پر کئی سال سے تحقیق کرنے والے محمد وسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وقت آ چکا ہے کہ حکومتی سطح پر اس بارے میں ٹھوس اقدامات اٹھائیں جائیں اور دیرپا اقدمات کیے جائیں جس کی ایک اچھی مثال انڈیا میں حالیہ برسوں میں انسانوں اور شیروں کے درمیان تنازع ختم کرنے کا نظام وضع کرنا ہے جس میں حکومت نے جنگلوں اور اس کے قریب بسنے والی آبادیوں کے درمیان حدود کا تعین کردیا ہے۔‘

محمد وسیم کے مطابق ’وہاں آبادیوں کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر وہ جنگلی حدود کے اندر داخل ہوں گے اور انھیں کوئی نقصان پہنچے گا تو حکومت ذمہ دار نہیں ہو گی اور ساتھ ہی جنگل کے قریب بسنے والی آبادیوں کی حفاظت کے لیے بھی ٹھوس حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اگر ٹائیگر سمیت کوئی بھی جنگلی حیات انسانی آبادی میں گھس کر انسانی جان و مال کو نقصان پہنچاتی ہے تو حکومت متاثرین کو معاوضہ ادا کرتی ہے جس سے انسانوں کے جنگلی حیات کے خلاف غصے اور نفرت میں کمی آئی ہے۔‘

محمد وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تیندوے سمیت دیگر محفوظ شدہ قرار دیے جانے والی نایاب جنگلی حیات کو مارنے اور شکار کرنے پر تو سزائیں موجود ہیں مگر جب تیندوں کی جانب سے انسانی جان و مال کو نقصان پہنچتا ہے تو اس پر متاثرین قانونی طو پر کوئی بھی معاوضہ وصول کرنے کے حقدار نہیں ہوتے اور اس وجہ سے بھی کئی واقعات میں لوگ تیندووں کو ہلاک کر کے ان کی لاش غائب کر دیتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں