برطانیہ میں دمے کا شکار نوجوانوں کے مرنے کا امکان زیادہ

دمہ انہیلر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

برطانیہ میں بلوغت کو پہچنے والے اٹھارہ فیصد نوجوان ذیابیطس ٹو جیسی کسی بیماری کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں: تحقیق

برطانیہ میں ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں نوجوان افراد کے دمے سے مرنے کے امکانات دوسرے امیر ملکوں کی نسبت زیادہ ہیں۔

اسی تحقیق میں سامنے آیا ہے برطانیہ میں اٹھارہ فیصد یعنی تقریباً ہر پانچواں نوجوانوں بلوغت کی عمر کو پہنچتے وقت کسی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں سامنا آیا ہے کہ دس سے چوبیس برس کی عمر کے برطانوی نوجوانوں میں دمے سے مرنے کی شرح چودہ یورپی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

برطانیہ میں پندرہ اور انیس برس کی عمر کے نوجوانوں یورپی ممالک میں سب سے زیادہ موٹاپےمیں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

نیفیلڈ ٹرسٹ تھینک ٹینک اور ایسوسی ایشن فار ینگ پیل ہیتلھ کی مشترکہ تحقیق میں دنیا کے انیس امیر ملکوں میں دس اور چوبیس برس کے نوجوانوں کی صحت سے متعلق سترہ پیمانے طے کیے گئے۔

جس ممالک کو اس تحقیق میں شامل کیا ان میں برطانیہ، ہالینڈ، ڈنمارک، فرانس، پرتگال، یونان، جرمنی، سپین، آسٹریا، بیلجیئم، فن لینڈ، اٹلی، سویڈن، جاپان، امریکہ، نیوزی لینڈ آسٹریلیا اور کینیڈا شامل ہیں۔

تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ کے نوجوانوں میں صحت مندانہ رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے جیسے کہ لیکن شراب اور سیگریٹ نوشی میں کمی لیکن اس کے باوجود برطانوی نوجوانوں کے تحقیق میں شامل دوسرے ملکوں کے نوجوانوں کے مقابلے میں سن بلوغت میں پہنچتے وقت کسی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں پانچ میں سےایک شخص بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ذیابیطس ٹو جیسے مرض میں مبتلا ہو چکا ہوتا ہے۔

بیماری کی وجہ سے نوجوان کا وقت ضائع کرنے والے ممالک میں برطانیہ کا ریکارڈ بھی زیادہ اچھا نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پہلے کی نسبت کم برطانوی نوجوان شراب اور سیگریٹ نوشی کی طرف مائل ہو رہے ہیں: تحقیق

تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں غریب خاندانوں کے نوجوانوں کے موٹاپے کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہونے کے باوجود برطانیہ 20 سے 24 برس کے نوجوانوں میں وسائل کی کمی دوسرے امیر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کی صحت میں بہتری کے لیے غربت میں کمی انتہائی اہم ہے۔

تحقیق میں شامل سترہ ممالک میں نوجوانوں کی صحت کے حوالے برطانیہ کا ریکارڈ پندرواں ہے۔

نیفلڈ ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو نائجل ایڈورڈز نے کہا ہے کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں صحت کے معاملات خراب ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا 'میں اس رجحان سے پریشان ہوں۔ اگر ہم اس کا ابھی سے تدارک نہیں کریں گے تو اگلی نسل بلوغت میں پہنچنے سے پہلے موجودہ نسل سے برے حالات میں ہو گی۔‘

دمے سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

ایستما یوکے چیرٹی کہا ہے کہ اس کی تحقیق بتاتی ہے کہ 1980 اور 1990 کے درمیان پیدا ہونےوالوں کو دمے کے مسائل سے نمٹنے میں سب سے کم مدد ملی۔

ایستما یوکے کی ڈائرڈاکٹر سمانتھا والکر نے کہا: 'ہم نیشنل ہیلتھ سروس سے کہہ رہے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنےآپ کو بدلیں اور دمے کے مرض سے نمٹٹے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کریں۔‘

ینگ پیپل ہیلتھ کی چیف ایگزیکٹو ایما رگبی کہتی ہیں کہ نوجوانوں کی صحت کی ضروریات کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

محکمہ صحت اور سوشل کیئر کی ترجمان نے کہا: ’ہمارے پاس نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کےتحفظ کے لیے دنیا کے بہترین منصوبے ہیں ۔

محکمہ صحت نے مذید کہا کہ نیشنل ہیلتھ سروس بیماری کے بچاؤ کے بڑے منصوبے پر عمل کر رہی ہے اور اسی لیے ہر سال صحت کے بجٹ میں تین اعشاریہ چار فیصد کا اضافہ کیا جاتا ہے۔