صفر سے لامحدودیت تک، ہندوستانی ریاضی دانوں نے دنیا کو کیا دیا

An explosion of colours تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے ریاضی دانوں نے زیرو ایجاد کیا جس سے ریاضی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آئیں

چین کی طرح انڈیا بھی بہت عرصہ پہلے اعشاری نظام کے استعمال کے فوائد کو جان چکا تھا اور وہ ریاضی کے موجودہ نظام کو تیسری صدی عیسوی سے استعمال کر رہا ہے۔

ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اعشاری نظام کب ایجاد ہوا لیکن یہ یقینی ہے کہ چین اور انڈیا کے ریاضی دانوں نےاس نظام کی غلطیوں کو دور کیا اور اس کی تکمیل کے مراحل پورے کیے۔ انڈیا کے ریاضی دانوں نے اس نظام میں زیرو کا اضافہ بھی کیا۔

زیرو کا استعمال کیسے ہوا؟

ریاضی کے نظام میں صفر کا باضابطہ استعمال نویں صدی عیسوی میں شروع ہوا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس علامت کو اس سے پہلے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہو۔

یہ بھی پڑھیئے

’پاکستان کے لیے ایک اور نوبیل لانا چاہوں گا‘

زیرو کو پہلی بار ایک شکل میں انڈیا کے گوالیار قلعے میں لکھا دیکھا گیا اور پھر یہ قلعہ ریاضی کے ماننے والوں کے لیےعبادت گاہ کا درجہ حاصل کر گیا۔

انڈین ریاضی دانوں کی جانب سے صفر کو ایجاد کیے جانے سے پہلے اس ہندسے کا وجود نہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گوالیار کا قلعہ ریاضی کے ماننے والوں کے لیے عبادت گاہ کا درجہ رکھتا ہے

قدیم مصر، یونان اور چین میں زیرو تھا لیکن اس کی شکل مارکر،ہندوسوں کے اندر خالی جگہ جیسی تھی لیکن یہ انڈین ریاضی دان ہی تھے جنہوں نے صفر کو ایک علامت اور اس کے خیال کو سمجھا جس سے ریاضی کے علم میں انقلاب آ گیا۔ صفر کی ایجاد کے بعد ہی بڑے بڑے اعداد کو لکھا جانا ممکن ہوا۔

Image caption زیرو کو پہلی بار ایک شکل میں انڈیا کے گوالیار قلعے میں لکھا دیکھا گیا

لیکن یہ ممکن ہے کہ صفر کی ایجاد میں ثقافتی وجوہات نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہو۔

قدیم انڈیا میں عدم موجود اور لامحددو کا تصور عقیدے کا حصہ رہا ہے۔ بدھ مت اورہندومت نے عدم موجود کے تصور کو اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا۔

اس سے کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ جس مذہبی نظام نے عدم موجود کے تصور کو گلے لگایا اسی مذہبی نظام نے لامحدود کے تصورکو بھی اپنا لیا ہو۔

Image caption خیال پایا جاتا ہے کہ جب زمین پر پتھروں کی مدد سے حساب کتاب لگایا جاتا تھا تو ایک پتھر کےاٹھائے جانے سے بننے والے دائرے کی بنیاد پر صفر ایجاد ہوا

ہندوستانی پہلے لوگ تھے جنہوں نے صفر کا استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انڈین ریاضی دان براہما گپتا نے چھ سو پچاس عیسوی میں ریاضی کے بنیادی مسئلوں کے حل کے لیے باضابطہ طور پر صفر کا استعمال شروع کیا۔ اس نے اعداد کے نیچے نقطوں کو صفر کے طور پر استعمال کیا۔ ان نقطوں کو 'شونیہ' اور 'خا' بھی کہا جاتا تھا جن کا مطلب بالترتیب 'خالی' اور 'جگہ' تھا۔.

صفر کا خیال کیسے آیا؟

صفر کی ایجاد کیسے ہوئی، اس کے بارے میں حتمی طور پر شاید کبھی کچھ نہ کہا جا سکے لیکن ایک خیال پایا جاتا ہے کہ جب زمین پر پتھروں کی مدد سے حساب کتاب لگایا جاتا تھا تو ایک پتھر کےاٹھائے جانے سے مٹی پر بننے والے دائرے کی بیناد پر صفر ایجاد ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں چھ سو پچاس عیسوی میں صفر کا استعمال شروع ہوا اسے ’شونیہ‘ کہا جاتا تھا

صفر سے لامحدویت تک؟

براہما گپتا نے ساتویں صدی عیسوی میں زیرو کی بنیادی خواص کو بیان کیا۔ اگر آپ ایک پھل لیتے ہیں اور اس کو دو حصوں میں کاٹتے ہیں تو دو ٹکڑے بنیں گے، اگر اسے تین حصوں میں کاٹتے ہیں تو اس کے تین ٹکڑے بنیں گے آپ اس کو جتنا کاٹتے جائیں اس کے مزید حصے بنتے جائیں گے اور بالاخر آپ کے پاس لامحدود ٹکرے ہوں گے۔

براہما گپتا کے تقسیم کے بنیادی اصولوں کو آج بھی سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔.

1 + 0 = 1

1 - 0 = 1

1 x 0 = 0

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صفر کو تقسیم کی کوشش نے ریاضی کےاصول لامحدودیت کو جنم دیا۔

لیکن براہما گپتا کو مسئلہ اس وقت درپیش ہوا جب اس نے صفر کو تقسیم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے ریاضی کا ایک نیا اصول، لامحدودیت وجود میں آیا۔ ریاضی دان بھاسکر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آپ ایک کو صفر سے تقسیم کریں گے تو اس کا نتیجہ لامحدود میں نکلے گا۔

لیکن زیرو سے تقسیم آگے بڑھتی گئی اوریہ تسلیم کیا گیا کہ تین کو تین پر تقسیم کرنے سے نتیجہ زیرو ہوگا لیکن تین منفی چار کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ کے پاس کچھ نہیں بچے گا لیکن انڈین ریاضی دانوں نے صفر کی اہمیت کو سمجھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آپ اس پھل کےحصے کرتے جائیں تو اس کا نتیجہ لامحدودیت میں نکلے گا

ہندسوں کا استعمال صرف گنتی کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ وہ حیات ہیں اور حقیقی زندگی کی قیود سے مبرا تیر رہے ہیں۔ اس فلسفیانہ سوچ نے ریاضی کے نئےنئے خیالات کو جنم دیا۔

ایکس اور وائی

انڈین ریاضی دانوں کے اس فلسفیانہ تصور نے اس مسئلے کے حل کے لیےالجبری مساوات کے نظریے کو استمعال کیا۔ براہما گپتا کی منفی اعداد کو سمجھ کر اس نتیجے پر پہنچے کہ الجبری مساوات نظریے کے تحت ہمیشہ دو نتیجے نکلیں گے جن میں ایک منفی ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فرانسیسی ریاضی دان پیئر ڈی فرمٹ نے 1656میں برابری مساوات کےمسئلےکو حل کیا

فرانسیسی ریاضی دان پیئر ڈی فرمٹ نے 1656میں الجبری مساوات کے نظریے کو پیش کیا۔ فرانسیسی ریاضی دان نے جب اس نظریے کو پیش کیا تو اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ انڈیا کےریاضی دان صدیوں پہلے اس نظریے کو سمجھ چکے تھے۔.

براہما گپتا نے ریاضی کے اس تصور کو بیان کرنے کے لیے نئی زبان کا بھی اجرا کیا۔

انھوں نے تقسیم کے اپنے تجربے میں ابتدائی ہندسوں کو مختلف رنگوں میں بیان کیا جو ان کی مختلف خصوصیات کو نمائندگی کرتا ہے اور اس تصور پر عمل کرتے ہوئے ایکس برابر وائی کا تصور وجود میں آیا جو اب بھی استعمال میں ہے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی

انڈین ریاضی دانوں نے کئی جدید تصورات کو جنم دیا جن میں ٹرگنومیٹری بھی شامل ہیں۔

Image caption یہ انڈین ریاضی دان ہی تھی جنہوں نے زمین اور چاند، زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کو ناپا۔

یہ سچ ہے کہ یونانیوں نے سب سے پہلے لفظ ڈکشنری کا ایجاد کیا جس میں جیومیٹری کی تشریح پیش کی۔ لیکن انڈین اسے اگلی سطح پر لے گئے۔.

انھوں نے ٹریگومیٹری کی مدد سے اپنے اردگرد کی دنیا کو ناپا، جیسے سمندروں میں سفر کرنا اور خلا کے فاصلے کو ناپا۔

یہ انڈین ریاضی دان ہی تھی جنہوں نے زمین اور چاند، زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کو ناپا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین ریاضی دانوں نے 'پی' کی عددی قدر کو سمجھا

انڈین ریاضی دانوں نے علم ریاضی کے ایک راز ’پی‘ سے بھی پردہ اٹھایا۔ انڈین ریاضی دانوں نے ’پی‘ کی عددی قدر کو سمجھا۔ پی ایسا عدد ہے جو ہر طرح کی کیلکولیشن کو ممکن بناتا ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ فاہدہ ماہر تعمیرات اور انجنیئروں کو ہوا۔

صدیوں تک ریاضی دان پی کی قدر کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن چھٹی صدی عیسوی میں پہلی بار انڈین ریاضی دان آریا بھاتا نے اس کی صحیح قدر 31416 بتائی۔

آریا بھاتا نے اسی فارمولے کے تحت زمین کا قطر بھی ناپا اور جس کے مطابق زمین کا قطر 39968 کلومیٹر ہے جو 40075 کلو میٹر کے صحیح نمبر کے بلکل قریب تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یورپ پی کے فارمولے کو حل کرنے کا کریڈٹ لیتا ہے

مدہاوا نے یہ بھی سمجھا کہ مختلف اکائیوں کو تقسیم کرکے پی کی صحیح قدر معلوم کی جا سکتی ہے اور اس فارمولے کو آج بھی دنیا بھر کی کئی یونیورسٹیوں میں بڑھایا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں