صفر سے لامحدودیت تک، ہندوستانی ریاضی دانوں نے دنیا کو کیا دیا

  • مارکس دو سوتے
  • بی بی سی ’دی سٹوری آف میتھ‘
An explosion of colours

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کے ریاضی دانوں نے زیرو ایجاد کیا جس سے ریاضی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آئیں

چین کی طرح انڈیا بھی بہت عرصہ پہلے اعشاری نظام کے استعمال کے فوائد کو جان چکا تھا اور وہ ریاضی کے موجودہ نظام کو تیسری صدی عیسوی سے استعمال کر رہا ہے۔

ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اعشاری نظام کب ایجاد ہوا لیکن یہ یقینی ہے کہ چین اور انڈیا کے ریاضی دانوں نےاس نظام کی غلطیوں کو دور کیا اور اس کی تکمیل کے مراحل پورے کیے۔ انڈیا کے ریاضی دانوں نے اس نظام میں زیرو کا اضافہ بھی کیا۔

زیرو کا استعمال کیسے ہوا؟

ریاضی کے نظام میں صفر کا باضابطہ استعمال نویں صدی عیسوی میں شروع ہوا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس علامت کو اس سے پہلے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہو۔

یہ بھی پڑھیئے

زیرو کو پہلی بار ایک شکل میں انڈیا کے گوالیار قلعے میں لکھا دیکھا گیا اور پھر یہ قلعہ ریاضی کے ماننے والوں کے لیےعبادت گاہ کا درجہ حاصل کر گیا۔

انڈین ریاضی دانوں کی جانب سے صفر کو ایجاد کیے جانے سے پہلے اس ہندسے کا وجود نہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

گوالیار کا قلعہ ریاضی کے ماننے والوں کے لیے عبادت گاہ کا درجہ رکھتا ہے

قدیم مصر، یونان اور چین میں زیرو تھا لیکن اس کی شکل مارکر،ہندوسوں کے اندر خالی جگہ جیسی تھی لیکن یہ انڈین ریاضی دان ہی تھے جنہوں نے صفر کو ایک علامت اور اس کے خیال کو سمجھا جس سے ریاضی کے علم میں انقلاب آ گیا۔ صفر کی ایجاد کے بعد ہی بڑے بڑے اعداد کو لکھا جانا ممکن ہوا۔

،تصویر کا کیپشن

زیرو کو پہلی بار ایک شکل میں انڈیا کے گوالیار قلعے میں لکھا دیکھا گیا

لیکن یہ ممکن ہے کہ صفر کی ایجاد میں ثقافتی وجوہات نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہو۔

قدیم انڈیا میں عدم موجود اور لامحددو کا تصور عقیدے کا حصہ رہا ہے۔ بدھ مت اورہندومت نے عدم موجود کے تصور کو اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا۔

اس سے کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ جس مذہبی نظام نے عدم موجود کے تصور کو گلے لگایا اسی مذہبی نظام نے لامحدود کے تصورکو بھی اپنا لیا ہو۔

،تصویر کا کیپشن

خیال پایا جاتا ہے کہ جب زمین پر پتھروں کی مدد سے حساب کتاب لگایا جاتا تھا تو ایک پتھر کےاٹھائے جانے سے بننے والے دائرے کی بنیاد پر صفر ایجاد ہوا

ہندوستانی پہلے لوگ تھے جنہوں نے صفر کا استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انڈین ریاضی دان براہما گپتا نے چھ سو پچاس عیسوی میں ریاضی کے بنیادی مسئلوں کے حل کے لیے باضابطہ طور پر صفر کا استعمال شروع کیا۔ اس نے اعداد کے نیچے نقطوں کو صفر کے طور پر استعمال کیا۔ ان نقطوں کو 'شونیہ' اور 'خا' بھی کہا جاتا تھا جن کا مطلب بالترتیب 'خالی' اور 'جگہ' تھا۔.

صفر کا خیال کیسے آیا؟

صفر کی ایجاد کیسے ہوئی، اس کے بارے میں حتمی طور پر شاید کبھی کچھ نہ کہا جا سکے لیکن ایک خیال پایا جاتا ہے کہ جب زمین پر پتھروں کی مدد سے حساب کتاب لگایا جاتا تھا تو ایک پتھر کےاٹھائے جانے سے مٹی پر بننے والے دائرے کی بیناد پر صفر ایجاد ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا میں چھ سو پچاس عیسوی میں صفر کا استعمال شروع ہوا اسے ’شونیہ‘ کہا جاتا تھا

صفر سے لامحدویت تک؟

براہما گپتا نے ساتویں صدی عیسوی میں زیرو کی بنیادی خواص کو بیان کیا۔ اگر آپ ایک پھل لیتے ہیں اور اس کو دو حصوں میں کاٹتے ہیں تو دو ٹکڑے بنیں گے، اگر اسے تین حصوں میں کاٹتے ہیں تو اس کے تین ٹکڑے بنیں گے آپ اس کو جتنا کاٹتے جائیں اس کے مزید حصے بنتے جائیں گے اور بالاخر آپ کے پاس لامحدود ٹکرے ہوں گے۔

براہما گپتا کے تقسیم کے بنیادی اصولوں کو آج بھی سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔.

1 + 0 = 1

1 - 0 = 1

1 x 0 = 0

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

صفر کو تقسیم کی کوشش نے ریاضی کےاصول لامحدودیت کو جنم دیا۔

لیکن براہما گپتا کو مسئلہ اس وقت درپیش ہوا جب اس نے صفر کو تقسیم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے ریاضی کا ایک نیا اصول، لامحدودیت وجود میں آیا۔ ریاضی دان بھاسکر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آپ ایک کو صفر سے تقسیم کریں گے تو اس کا نتیجہ لامحدود میں نکلے گا۔

لیکن زیرو سے تقسیم آگے بڑھتی گئی اوریہ تسلیم کیا گیا کہ تین کو تین پر تقسیم کرنے سے نتیجہ زیرو ہوگا لیکن تین منفی چار کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ کے پاس کچھ نہیں بچے گا لیکن انڈین ریاضی دانوں نے صفر کی اہمیت کو سمجھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

آپ اس پھل کےحصے کرتے جائیں تو اس کا نتیجہ لامحدودیت میں نکلے گا

ہندسوں کا استعمال صرف گنتی کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ وہ حیات ہیں اور حقیقی زندگی کی قیود سے مبرا تیر رہے ہیں۔ اس فلسفیانہ سوچ نے ریاضی کے نئےنئے خیالات کو جنم دیا۔

ایکس اور وائی

انڈین ریاضی دانوں کے اس فلسفیانہ تصور نے اس مسئلے کے حل کے لیےالجبری مساوات کے نظریے کو استمعال کیا۔ براہما گپتا کی منفی اعداد کو سمجھ کر اس نتیجے پر پہنچے کہ الجبری مساوات نظریے کے تحت ہمیشہ دو نتیجے نکلیں گے جن میں ایک منفی ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فرانسیسی ریاضی دان پیئر ڈی فرمٹ نے 1656میں برابری مساوات کےمسئلےکو حل کیا

فرانسیسی ریاضی دان پیئر ڈی فرمٹ نے 1656میں الجبری مساوات کے نظریے کو پیش کیا۔ فرانسیسی ریاضی دان نے جب اس نظریے کو پیش کیا تو اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ انڈیا کےریاضی دان صدیوں پہلے اس نظریے کو سمجھ چکے تھے۔.

براہما گپتا نے ریاضی کے اس تصور کو بیان کرنے کے لیے نئی زبان کا بھی اجرا کیا۔

انھوں نے تقسیم کے اپنے تجربے میں ابتدائی ہندسوں کو مختلف رنگوں میں بیان کیا جو ان کی مختلف خصوصیات کو نمائندگی کرتا ہے اور اس تصور پر عمل کرتے ہوئے ایکس برابر وائی کا تصور وجود میں آیا جو اب بھی استعمال میں ہے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی

انڈین ریاضی دانوں نے کئی جدید تصورات کو جنم دیا جن میں ٹرگنومیٹری بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

یہ انڈین ریاضی دان ہی تھی جنہوں نے زمین اور چاند، زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کو ناپا۔

یہ سچ ہے کہ یونانیوں نے سب سے پہلے لفظ ڈکشنری کا ایجاد کیا جس میں جیومیٹری کی تشریح پیش کی۔ لیکن انڈین اسے اگلی سطح پر لے گئے۔.

انھوں نے ٹریگومیٹری کی مدد سے اپنے اردگرد کی دنیا کو ناپا، جیسے سمندروں میں سفر کرنا اور خلا کے فاصلے کو ناپا۔

یہ انڈین ریاضی دان ہی تھی جنہوں نے زمین اور چاند، زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کو ناپا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈین ریاضی دانوں نے 'پی' کی عددی قدر کو سمجھا

انڈین ریاضی دانوں نے علم ریاضی کے ایک راز ’پی‘ سے بھی پردہ اٹھایا۔ انڈین ریاضی دانوں نے ’پی‘ کی عددی قدر کو سمجھا۔ پی ایسا عدد ہے جو ہر طرح کی کیلکولیشن کو ممکن بناتا ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ فاہدہ ماہر تعمیرات اور انجنیئروں کو ہوا۔

صدیوں تک ریاضی دان پی کی قدر کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن چھٹی صدی عیسوی میں پہلی بار انڈین ریاضی دان آریا بھاتا نے اس کی صحیح قدر 31416 بتائی۔

آریا بھاتا نے اسی فارمولے کے تحت زمین کا قطر بھی ناپا اور جس کے مطابق زمین کا قطر 39968 کلومیٹر ہے جو 40075 کلو میٹر کے صحیح نمبر کے بلکل قریب تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

یورپ پی کے فارمولے کو حل کرنے کا کریڈٹ لیتا ہے

مدہاوا نے یہ بھی سمجھا کہ مختلف اکائیوں کو تقسیم کرکے پی کی صحیح قدر معلوم کی جا سکتی ہے اور اس فارمولے کو آج بھی دنیا بھر کی کئی یونیورسٹیوں میں بڑھایا جاتا ہے۔