چہرے نہ پہچان سکنے کا مرض: ’مجھ سے اپنے ہی گھر والوں کے چہرے نہیں پہچانے جاتے‘

A face covered by question marks تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ سمجھجا جاتا ہے کہ 50 میں سے ایک فرد کو کسی قسم کی فیس بلائنڈنس ہوتی ہے

ایک مرتبہ کسی اجنبی نے بس میں بو جیمز کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ انھوں نے اس پر زیادہ غور نہیں کیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اجنبی ان کی والدہ تھیں۔

ان کو فیس بلائینڈنس نام کی ایک کمیاب بیماری ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ کسی کا چہرہ پہچان نہیں سکتیں، اپنے خاندان، دوستوں اور نہ ہی اپنا۔

سائنسدانوں نے اب ایک تحقیق کا آغاز کیا ہے جس سے وہ امید رکھتے ہیں کہ بو جیمز جیسے لوگوں کی مدد کر سکیں۔

’کسی اور دنیا سے‘

بو کہتی ہیں کئی برسوں تک انھیں یہ لگتا تھا کہ وہ ’کسی اور دنیا سے ہیں‘۔

وہ کہتی ہیں ’اگر اس بارے میں بیٹھ کر سوچنے لگوں تو میں بہت پریشان اور اداس ہو جاتی ہوں، اس لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ یہ نہ کروں۔

’بہت مشکل کام ہے۔ گھر سے باہر دن گزارنا مجھے جسمانی اور دماغی طور پر تھکا دیتا ہے کیونکہ میں سوچتی رہتی ہوں کہ کسی سے بات تو نہیں کرنی تھی۔‘

اپنی زیادہ تر زندگی بو کو یہ پتا بھی نہیں تھا کہ ان کو یہ بیماری ہے، جسے پروسو پیگنوسیا بھی کہا جاتا ہے۔ لوگوں کو نہ پہچاننے کے بعد وہ سمجھتی تھیں کہ ان کے اپنے اندر کوئی کمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا سیکس کی لت کوئی بیماری ہے؟

جھول کر سونا صرف بچوں کے لیے فائدہ مند نہیں

’کیلکولیٹرز بچوں کے لیے مفید ہیں‘

’مجھے لوگوں کو سمجھانے کے طریقے ڈھونڈنے پڑتے تھے لیکن میں کوئی بہانے نہیں بنا پاتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ میری غلطی ہے کہ میں لوگوں کے چہرے یاد نہیں رکھ سکتی۔

’جیسے کہ ایک قسم کی سستی ہو، جیسے کہ مجھے ان کو جاننے میں کوئی دلچسپی نہ ہو، جیسے یہ میرے اندر ہی کوئی خامی ہو۔‘

Image caption لوگوں کو نہ پہچاننے کی وجہ سے بو سمجھنے لگی تھیں کہ ان میں کوئی کمی ہے

لیکن بو کو 40 سال کی عمر کے بعد اس بیماری کی سمجھ لگی اور وہ بھی جب انھوں نے اس بیماری سے متعلق ٹی وی پر خبر سنی۔

’مجھے لگتا تھا کہ میں کسی کا چہرا اس لیے نہیں پہچان سکتی کیونکہ میرا دماغ مجھے اجازت نہیں دیتا۔‘

خود کو سمجھنا

’میں نے اُسی وقت خود کو بہتر طریقے سے سمجھنا شروع کر دیا اور اپنے آپ کو معاف کر کے چیزوں کو ایک نئے انداز سے دیکھا۔‘

بو کہتی ہیں ان کا پورا بچپن اس طرح کہ ’صدموں‘ سے بھرا ہے جہاں وہ اپنے سکول کے دوستوں اور اساتذہ کو پہچان نہیں سکتی تھیں۔

اب ان کی عمر 51 سال ہے اور وہ ویلز سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کو اپنے خاندان اور بچپن کے دوستوس کو پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے، یہاں تک کہ چھٹی پر گھر گئیں تو اپنے والد کو نہیں پہچان سکیں۔

بو کہتی ہیں ’کچھ عرصہ پہلے میری والدہ نے اپنے کمپیوٹر پر چند پرانی تصاویر ڈھونڈ نکالیں۔

’وہ ایک تصویر میں کسی کو دیکھ کر ان کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھیں، تو میں نے پوچھا اس شخص کے ساتھ دوسرا کون کھڑا ہے؟ انھوں نے آگے سے کہا ’تم ہی تو ہو!‘‘۔

Image caption کوئی فلم دیکھتے ہوئے بھی ڈویی بو کو کہانی اور کردار سمجھا رہے ہوتے ہیں

جس طرح نابینا لوگوں کو راستہ دکھانے کے لیے کتا ہوتا ہے، بو کہتی ہیں ان کے پارٹنر ڈویی ان کے لیے اتنا ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ کسی ایسے شخص سے بات کر رہی ہوں جن کو وہ جانتی ہیں تو ان کے پارٹنر خاموشی سے بو کو بتا دیتے ہیں کہ وہ شخص کون ہے۔

کوئی فلم دیکھتے ہوئے بھی ڈویی ان کو کہانی اور کردار سمجھا رہے ہوتے ہیں جو ویسے شاید بو کے لیے کرنا ’ناممکن‘ ہو۔

وہ کہتی ہیں ’ڈویی بہت نرم دلی اور تحمل سے پیش آتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم فلم بند کر دیتے ہیں کیونکہ سمجھنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

نیم چہرے

لیکن پروسو پیگنوسیا کے مریضوں کو چہرے کیسے نظر آتے ہیں؟ بو کہتی ہیں سمجھانا تھوڑا مشکل ہے۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے ایک چہرے کے نقوش نظر آتے ہیں۔ مجھے ناک، آنکھیں، منہ اور کان دِکھتے ہیں۔

’لیکن میرا دماغ ان تمام نقوش کو اکٹھے ایک چہرے کی شکل میں سمجھ نہیں پاتا۔‘

Image caption بو کہتی ہیں ان کا دماغ ایک چہرے کے تمام نقوش کو اکٹھا سمجھ نہیں پاتا

لیکن ان رکاوٹوں کے باوجود بو نے ایسے طریقے ڈھونڈے ہیں جن سے وہ سمجھ سکیں کہ ان کے سامنے کون ہے۔

’ایسے بہت سے چھوٹے اشارے ہوتے ہیں جیسے کہ ہیئر سٹائل، ایسے زیور جو کوئی اکثر پہنتا ہو، کسی کے کپڑے، آوازیں، بات کرنے کا انداز، یا پھر صرف ان کی پرچھائی۔‘

بو کہتی ہیں ’مجھے لگتا ہے میں لوگوں کو پیچھے سے پہچاننے میں عام لوگوں سے بہتر ہوں۔‘

آگاہی بڑھانا

یہ سمجھجا جاتا ہے کہ 50 میں سے ایک فرد کو کسی قسم کی فیس بلائنڈنس ہوتی ہے، لیکن اتنی شدت سے نہیں جتنی بو کو ہے۔

نئی ریسرچ کرنے والے محقق کہتے ہیں اکثر لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ ان کو پروسو پیگنوسیا ہے۔

سوانزی یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر جون ٹاؤلر کا کہنا ہے ’یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو شاید فلمیں سمجھنے میں مشکلات ہوتی ہوں۔‘

Image caption 'اگر ہم یہ سمجھ سکیں کہ دماغ کے کس حصے میں مسئلہ آ رہا ہے تو شاید ہم اس کا کوئی علاج نکال سکیں: محقق

’شاید وہ گیم آف تھرونز دیکھ رہے ہوں اور سب کے لمبے بال اور داڑھیاں دیکھ کر ان کو کچھ نہ سمجھ آ رہی ہو کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

یہ کیوں ہوتا ہے؟

دو قسم کے پروسو پیگنوسیا ہوتے ہیں۔

ایکوائرڈ پروسو پیگنوسیا وہ ہے جو دماغ کے ایسے حصوں کو نقصان پہنچنے سے ہوتا ہے جو کہ چہرے کو پہچاننے میں استعمال ہوتے ہوں۔ ڈیویلپمینٹل پروسو پیگنوسیا پیدائشی ہوتا ہے اور دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے باعث ہوتا ہے۔

اس ریسرچ ٹیم کی محقق ڈاکٹر جوڈی ڈیویز تھامسن کا کہنا ہے ’اگر ہم یہ سمجھ سکیں کہ دماغ کے کس حصے میں مسئلہ ہے تو شاید ہم اس کا کوئی علاج نکال سکیں۔

’ہم پروسو پیگنوسیا کے مریضوں کے لیے ایک بحالی پروگرام بنانا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم دماغ کے مختلف حصوں کے بیچ رابطہ بڑھا سکیں تاکہ اس کی مدد سے لوگوں کو چہرے پہچاننے میں آسانی ہو سکے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں