ویل مچھلی کے پیٹ میں سے ’40 کلوگرام‘ پلاسٹک نکلا

A plastic bag floating in the sea تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

محققین کا کہنا ہے کہ فلپائن میں سمندری ساحل پر ہلاک حالت میں پہنچنے والی ایک ویل مجھلی کے پیٹ سے 40 کلو گرام پلاسٹک بیگ نکلے ہیں۔

دبون کلیکٹر میوزیم کے ملازمین کو یہ ویل مچھلی داواؤ شہر کے مشرق میں مارچ میں ملی تھی۔

میوزیم کی جانب سے کیے گئے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے کسی بھی ویل مچھلی سے پلاسٹک کی یہ مقدار نکلتی نہیں دیکھی۔

یہ بھی پڑھیے

آبی حیات پلاسٹک کیوں کھاتی ہے؟

سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ٹائروں کا پلاسٹک

سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں زہریلے کیمیائی مادے

’اس کے پیٹ میں چاول کی 16 بوریاں اور کئی شاپنگ بیگ تھے۔‘

میوزیم کی جانب سے آئندہ چند روز میں ویل مچھلی کے پیٹ سے نکلنے والی تمام پلاسٹک اشیا کی فہرست جاری کی جائے گی۔

میوزیم کے بانی اور صدر ڈیرل بیچلی نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس قدر پلاسٹک دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ اتنا زیادہ تھا کہ پلاسٹک گلنے لگا تھا۔‘

پلاسٹک کی استعمال شدہ اشیا کا پھینکا جانا فلپائن سمیت جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کا اہم مسئلہ ہے۔

ماحولیاتی امور کے حوالے سے آگاہی پھلانے میں مصروف ادارے اوشن کنزرونسی اور مکنزی سنٹر کی 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق پانچ ایشیائی ممالک چین، انڈونیشیا، فلپائن، ویتنام، اور تھائی لینڈ سمندر میں پھینکے جانے والے پلاسٹک میں 60 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔

گذشتہ سال جون میں ایک اور ویل مچلھی 80 پلاسٹک بیگ کھانے کی وجہ سے مر گئی تھی۔ اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل ہی برطانوی حکومت کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس مں کہا گیا تھا کہ اگر سمندر میں پلاسٹک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو اس کی مقدار آئندہ دس سال میں تین گنا بڑھ جائے گی۔

اسی بارے میں