انڈوں کے شوقین لوگوں کے لیے بری خبر

انڈہ اٹھائے ایک عورت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر آپ انڈوں کے شوقین ہیں تو زردی کی جگہ زیادہ سفیدی کھائیں

ماہرین برسوں سے بحث کر رہے ہیں کہ ایک دن میں کتنے انڈے کھانا مناسب ہوتا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ ہفتے میں کتنے انڈے کھاتے ہیں۔ یہ نتیجہ ایک امریکی میڈیکل جریدے ’جاما‘ کی تحقیق سے سامنے آیا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق صرف دو انڈے کھانا ہی دل کی بیماری یا وقت سے پہلے موت کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس کی وجہ انڈے کی زردی میں کولسٹرول کی مقدار ہے۔ امریکی محکمۂ زراعت کے مطابق ایک بڑے انڈے میں 185 ملی گرام کولسٹرول ہوتا ہے جو کہ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ کولسٹرول کی مقرر کی گئی حد کا نصف ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ حد 300 ملی گرام ہے۔

خطرات کیا ہیں؟

اس میڈیکل جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کی بنیاد 17 سال میں 30000 لوگوں پر کیے گئے 6 تجربات کا موازنہ ہے۔

ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ دن میں 300 ملی گرام سے ہی دل کی بیماری کا امکان 17 فیصد بڑھ جاتا ہے اور وقت سے پہلے موت کا امکان 18 فیصد۔

اور خاص طو ر پر انڈوں کے بارے انہوں نے معلوم کیا کہ ہر ہفتے تین یا چار انڈے کھانے سے دل کی بیماری کا امکان 6 فیصد اور وقت سے پہلے موت کا امکان 8فیصد بڑھ جاتا ہے۔ ہر روز دو انڈے کھانے سے یہی امکان بالترتیب 27 اور 28 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق عمر، فِٹنس کے معیار، سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر جیسے عوامل کا ان نتائج پر کوئی اثر نہیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن کی ّاکٹر نورینا ایلن نے، جو اس تحقیق کا حصہ ہیں، بتایا کہ ان کی تحقیق کے مطابق اگر دو لوگ بالکل ایک جیسی غذا کھائیں اور ان میں سے ایک کے مینو میں انڈوں کو شامل کیا جائے تو اس شخص کے دل کا مریض بننے کا امکان بڑھ جائے گا۔

نئی رپورٹ اس موضوع پر پرانی تحقیق سے مختلف

یہ تازہ ترین تحقیق انڈے کھانے کے موضوع پر اب تک ہونے والے جائزوں کو مسترد کرتی ہے جن کے مطابق انڈوں اور دل کی بیماریوں کا کوئی تعلق نہیں۔

نورینا ایلن کا کہنا ہے ان تمام تجزیوں میں مختلف طرح کے لوگوں کی شمولیت بہت کم تھی اور ان کی مدت بھی بہت کم تھی۔

تاہم ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے تجزیے میں نقص ہو سکتا ہے۔

انڈے کھانے کے بارے میں ڈیٹا سوالناموں کے ذریعے اکٹھا کیا گیا جس میں لوگوں کو بتانا تھا کہ انہوں نے حالیہ مہینوں اور برسوں میں کس طرح کی خوراک کھائی۔

دیگر ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ نتائج جائزے پر مبنی ہیں اور گو کہ ان کے مطابق انڈے کھانے اور دلی کی بیماری اور وقت سے پہلے موت کا امکان بڑھنے میں تعلق ہو سکتا ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس امکان کی یہی وجہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صحت کے مسائل سے بچنے کے لیے میانہ روی ہی بہترین راستہ ہے

کنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹام سینڈرز کے مطابق اس نئی تحقیق کی اہمیت یہ ہے کہ یہ امریکی آبادی کے نسلی تنوع اور عام امریکیوں کی مختلف طرح کی خوراک کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔

’اس کی کمزوری اس کا کھائے جانے والے صرف ایک عنصر پر انحصار ہے‘۔

کتنے انڈے؟

تو پھر ہمیں کتنے انڈے کھانے چاہیں؟ نورینا ایلن کے مطابق ہفتے میں تین سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے انڈبوں کے شوقین لوگوں کے لیے کہا کہ وہ سفیدی پر انحصار کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا مشورہ یہ نہیں ہے کہ انڈوں کو اپنی خوراک سے مکمل طور پر نکال دیں بلکہ درمیان کا راستے اختیار کریں۔‘

ٹام سینڈرز نے تو اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تحقیق صرف امریکی شہریوں کے جائزے پر مبنی ہے۔ T

عالمی سطح پر زیادہ انڈے کہاں کھائے جاتے ہیں؟(انٹرنیشنل ایگ کمیشن 2015)
ملک انڈوں کی تعداد فی کس
میکسیکو 352
ملائشیا 342
جاپان 329
روس 285
ارجنٹینا 256
چین 254.8
امریکہ 252
ڈینمارک 245

ٹام سینڈڑم کے مطابق امریکہ میں کولسٹرول کھانے کی یومیہ اوسط 600 تک ہو سکتی ہے جو کہ برطانیہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جو 225 ملی گرام ہے۔

’انٹرنیشنل ایگ کمیشن‘ کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں سالانہ ہر شخص 252 انڈے کھاتا ہے جبکہ وہاں 20 فیصد اموات کی وجہ دل کی بیماریاں ہیں۔

جاپان جہاں ہر شخص سالانہ اوسطاً 329 انڈے کھاتا ہے دل کی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد صرف 11 فیصد ہے۔

برطانوی ماہر کے مطابق بہترین راستہ میانہ روی ہی ہے اور ہفتے میں تین سے چار انڈے مناسب ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں