خلائی لباس کے نامناسب سائز کے باعث خواتین کی خلا میں چہل قدمی منسوخ

کرسٹینا کوک اور اینی مکلین نے جمعے کے روز انٹرنیشنل سپیس سٹیشن سے باہر بیٹریاں لگانے کے لیے جانا تھا۔ تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption کرسٹینا کوک (بائیں) اور اینی مکلین نے جمعے کے روز انٹرنیشنل سپیس سٹیشن سے باہر بیٹریاں لگانے کے لیے جانا تھا۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ایک ٹیم کی خلا میں چہل قدمی کا منصوبہ درست سائز کا سپیس سوٹ نہ ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہونا تھا جب سپیس واک کے لیے ایک ایسی ٹیم چنی گئی تھی جس میں صرف خواتین شامل تھیں۔

کرسٹینا کوک اور اینی مکلین نے جمعے کو انٹرنیشنل سپیس سٹیشن سے باہر بیٹریاں لگانے کے لیے جانا تھا۔

مگر ان دونوں کو درمیانے سائز کے سپیس سوٹ کی ضرورت تھی اور اس وقت اس سائز کا ایک ہی سوٹ موجود تھا۔

اب کرسٹینا کوک اپنے مرد ساتھی نک ہیگ کے ساتھ یہ کام کرنے جائیں گی۔ کرسٹینا وہ سوٹ پہننیں گی جو اینی مکلین نے پہننا تھا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اینی مکلین نے درمیانے اور بڑے سائز دونوں قسم کے سوٹ میں تربیت لے رکھی ہے تاہم اپنی پہلی سپیس واک کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ اس کی ضرورت کے لیے بہترین درمیانے سائز کا سوٹ ہی ہے۔

وہ اپنی آئندہ سپیس واک 8 اپریل کو اپنے ایک اور مرد ساتھی ڈیوڈ سینٹ یاک کے ساتھ کریں گی۔

ان سوٹس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

ناسا کے مطابق ان سوٹس میں اوپر والے حصے یعنی قمیض والے حصے میں مسئلہ ہے۔

ناسا کے پاس انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر صرف دو درمیانے سائز کی سپیس سوٹ کے اوپر والے حصے ہیں تاہم ان میں سے صرف ایک سپیس واک کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

دوسرے سوٹ کو سپیس واک کے لیے تیار کرنے میں کئی گھنٹے درکار تھے اس لیے عملے نے سوچا کہ خلاباز بدلنا زیادہ آسان اور محفوظ ہوگا۔

ہیوسٹن سپیس سنٹر کی ترجمان برینڈی ڈین نے بتایا کہ خلابازوں کے خلاء میں جانے کے بعد سوٹ کے سائز میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایس پی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہر شخص کی ضروریات میں تبدیلی مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ ہر کسی کا جسم کششِ ثقل نہ ہونے پر مختلف ردِعمل ظاہر کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں