مردوں کے لیے مانع حمل گولی بنانا اتنا مشکل کیوں ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک ممتاز طبی کانفرنس میں ماہرین نے بتایا ہے کہ مردوں کے لیے بنائی جانے والی نئی مانع حمل گولی نے ابتدائی حفاظتی مرحلہ (سیفٹی ٹیسٹ) کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔

دن میں ایک بار کھائے جانے والی یہ گولی سپرم بنانے والے ہارمونز کو قابو کرے گی۔

تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسے بازار میں لانے میں ابھی ایک دہائی تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

عورتوں کے لیے مانع حمل گولی پچاس سال پہلے برطانیہ میں بنائی گئی تھی تو پھر مردوں کے لیے اس طرح کی گولی بنانا اتنا مشکل کیوں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے:

کونڈوم یا نس بندی، مانع حمل کا کون سا طریقہ کامیاب ہے؟

خواتین کو مساوی حقوق دینے والے صرف چھ ممالک

کچھ لوگو ں کا کہنا ہے کہ مردوں کے لیے مانع حمل گولی بنانے میں سماجی اور کاروباری سطح پر زیادہ خواہش موجود نہیں تھی۔ لیکن رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگر یہ گولیاں بازار میں آئیں تو بہت سے مرد اس کا استعمال ضرور کریں گے۔

ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ عورتوں کو یہ اندیشہ ہے کہ آیا مرد یہ گولیاں باقاعدگی سے کھائیں گے بھی یا نہیں۔

برطانیہ کی اینگلیا رسکِن یونیوسٹی کے 2011 کے ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 134 میں سے 70 خواتین کو اس بات کا خدشہ تھا کہ ان کے شوہر یا پارٹنر کو ہر روز یہ دوا لینا یاد رہے گا یا نہیں۔

ہامونز کو قابو کرنے والی اس دوا کو بنانے میں سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ اس کے استعمال سے مردوں میں جنسی خواہش کی کمی یا جنسی کمزوری نہ پیدا ہو۔

ایک صحت مند مرد میں ہارمونز کی وجہ سے مسلسل نئے سپرم سیلز بنتے رہتے ہیں۔

ہارمونز کے لیول کو کم کیے بغیر عارضی طور پر سپرم کو پیدا ہونے سے روکنے کے مضر اثرات یا سائڈ افیکٹس پیدا ہونےکا اندیشہ تھا۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن یونیورسٹی اور بائیو میڈ کی جانب سے مردوں کے لیے بنائی جانے والی یہ تازہ ترین دوا اپنے مقصد میں کامیاب رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ریاست نیو اورلینز میں ہونے والی کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں چالیس مردوں پر ہونے والا سیفٹی ٹیسٹ کافی امید افزا رہا ہے اور ٹرائل کے بعد ان لوگوں کا ہارمون لیول واپس اپنی عمومی سطح پر آ گیا۔

اس عمل میں سائیڈ افیکٹس بھی بہت ہی کم رہے۔

عضو تناسل کی کمزوری

تجرباتی بنیاد پر نئی گولی کھانے والے پانچ مردوں نے بتایا کہ ان کے جنسی میلان میں تھوڑی سے کمی ہوئی ہے، جبکہ دو نے عضو تناسل میں کسی قدر کمزوری کا بتایا، لیکن کسی شخص نے یہ نہیں کہا کہ معمول کی جنسی زندگی میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ کسی نے گولی لینا چھوڑا۔

اس نئی تحقیق کی سربراہ پروفیسر کرسٹینا وانگ اور ان کی ٹیم اپنی دریافت پر بہت خوش ہیں، تاہم وہ اس کے نتائج کے بارے ابھی قدرے محتاط ہیں۔

پروفیسر کرسٹینا وانگ کہتی ہیں کہ ’ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری یہ نئی گولی، جو اصل میں مردوں کے ہارمونز پر دو طرح سے اثر انداز ہوتی ہے، اس سے سپرم کی پیداوار تو کم ہو گی لیکن مردوں کی جنسی زندگی اپنی جگہ قائم رہے گی۔‘

تاہم، یہ جاننے کہ لیے کہ آیا یہ گولی بچوں کی پیدائش پر قابو (برتھ کنٹرول) پانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی، اس کو بڑے پیمانے پر زیادہ عرصے کے لیے ٹیسٹ کرنا پڑے گا۔

’باڈی جیل یا جیلی‘

پرفیسر وانگ مردوں کے لیے جن مانع حمل چیزوں پر تحقیق کر رہی ہیں ان میں صرف یہ گولی شامل نہیں بلکہ ہارمونز پر اثر انداز ہونے والی دیگر اشیاء بھی شامل ہیں۔

پرفیسر وانگ اور ان کی ٹیم نے ایک جیل بھی بنائی ہے جس کو اب بین الاقوامی سطح پر ٹیسٹ کیا جائے گا۔ یہ ایک کریم یا جیل ہے جسے کمر اور کاندھوں پر لگایا جاتا ہے جہاں سے یہ آپ کی جلد میں داخل ہو جاتی ہے۔

اس جیل میں شامل پروجسٹِن ہارمونز سے جسم میں سپرم کی پیدائش میں رکاوٹ آ جاتی ہے جس سے سپرم کی شرح کم ہو جاتی یا نہ ہونے کے برابر ہو جاتی ہے، لیکن اس جیل میں شامل ٹیسٹوسرون کی وجہ سے آپ کی جنسی طلب برقرار رہتی ہے۔

اس کے علاوہ پرفیسر وانگ اور یونیورسٹی آف واشنگٹن سے منسلک ڈاکٹر سٹیفنی پیج اور ان کے دیگر ساتھی ایک اور مرکب، ڈی ایم اے یو، پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ مرد اسے ایک مانع حمل گولی یا کیپسول کی کی طرح روزانہ لے سکیں گے۔

اس گولی کو ابتدائی طور پر ایک سو مردوں پر ٹیسٹ کیا گیا ہے اور اس ٹیسٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے اب اسے زیادہ لوگوں پر ٹیسٹ کرنے میں بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔

مزاج پر برے اثرات‘

کچھ دیگر سائنسدان مردوں کے لیے ایک ایسے مانع حمل انجیکشن پر بھی کام کر رہے ہیں جو ہر مہینے لگوانے سے بچوں میں وقفے یا برتھ کنٹرول کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن تجربے میں حصہ لینے والے کچھ مردوں کی طرف سے اس شکایت کے بعد کہ اس انجیکشن سے موڈ خراب رہتا ہے اور کچھ دیگر برے اثرات بھی ہیں، ماہرین نے اگلے تجرباتی مرحلے کے لیے مزید مردوں کا اندراج روک دیا ہے۔

ایسے مردوں کے لیے جو ہارمونز نہیں کھانا چاہتے، سائنسدان ایسے طریقوں پر بھی تحقیق کر رہے ہیں جن سے بغیر مضر اثرات کے، جسم سے سپرم خارج ہونے کے عمل کو روکا جا سکے، یعنی ایک قسم کی نس بندی۔

اس سلسلے میں سائنسدان ’ویسا جیل‘ نامی ایک پولیمر والے انجیکشن پر بھی کام کر رہے ہیں جو خصیوں سے عضو تناسل کی جانب جانے والے سپرم میں شامل ہو کر ایک مانع حمل گولی کا کام کر سکے۔ ایسے مانع حمل ٹیکے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسے ضرورت پڑنے پر روکا بھی جا سکتا ہے۔

ابھی تک اس ٹیکے کو جانوروں پر ٹیسٹ کیا گیا ہے تاہم ماہرین کو حال ہی میں تحقیق کے لیے مزید رقم دی گئی جس کے بعد اسے انسانوں پر بھی بحفاظت ٹیسٹ کیا جا سکے گا۔

ممکنہ فائدہ مند کاروبار

یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے منسلک پروفیسر رچرڈ اینڈرسن کا شمار برطانیہ کے ان بڑے ماہرین میں ہوتا ہے جو مردوں کے لیے ایک مانع حمل جیل یا کریم کو ٹیسٹ کرنے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھے ابتدائی نتائج کے باوجود دوا ساز کمپنیاں مردوں کے لیے کوئی نئی مانع حمل چیز بازار میں لانے میں سُستی کا شکار رہی ہیں، حالانکہ کئی مرد اور ان خِاتون ساتھی اس قسم کی چیز کو بخوشی قبول کریں گے۔

’میرا خیال ہے کہ دوا ساز صنعت ابھی تک قائل نہیں ہوئی کہ اس چیز کی مانگ کتنی ہو گی۔ یہ ایک طویل کہانی ہے اور اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس میدان میں زیادہ سرمایہ کاری بھی نہیں کی گئی ہے۔`

ملی جُلی تاریخ

پروفیسر رچرڈ اینڈرسن کا مزید کہنا ہے کہ اس شعبے میں دواساز صنعت کے کم کردار کی وجہ سے ماہرین کو خیراتی اور تعلیمی اداروں کی جانب سے مالی مدد پر انحصار کرنا پڑا، جس کی وجہ سے مردوں کے لیے مانع حمل ادویات وغیرہ میں تاخیر ہو گئی۔

یونیورسٹی آف شفیلڈ کے پروفیسر ایلن پیسی کہتے ہیں کہ ’ابھی تک مردوں کی مانع حمل گولی بنانے کی تاریخ ملی جلی رہی ہے اور اس میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی، لیکن اب یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اس سلسلے میں نئے تجربے کیے جا رہے ہیں۔

’لیکن اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ آیا کتنی دوا ساز کمپنیاں ایسی ہیں جو کامیاب تجربات کے بعد اس قسم کی کوئی چیز بازار میں لانے کو تیار ہیں۔ ابھی تک ایسی کمپنیاں بہت کم رہی ہیں جو یہ کام کرنا چاہتی ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے لیکن لگتا ہے اس کی وجہ سائنس نہیں بلکہ کاروباری ترجیحات ہیں۔‘

اسی بارے میں