نیویارک کی ایک علاقے میں خسرہ کی وبا پھیلنے کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یورپ اور امریکہ خسرہ کے مسئلے سے دوچار ہیں

امریکی شہر نیویارک میں ایک کاؤنٹی نے خسرہ کی وبا پھیلنے کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ نیو یارک کی راک لینڈ کاؤنٹی میں خسرے کے 153 کیسز کے بعد ایسے بچوں کو عام مقامات پر جانے سے منع کیا گیا ہے جنہیں ٹیکے نہیں لگے ہیں۔

ایمرجنسی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پانچ سو ڈالر کا جرمانہ اور چھ ماہ قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ اعلان واشنگٹن، کیلیفورنیا، ٹیکساس اور اِلونائے کی ریاستوں میں خسرہ پھیلنے کے بعد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ویکسینیشن: سات غلط فہمیاں جنھیں دور کرنا ضروری ہے

بلوچستان: دو اضلاع میں خسرے کی وبا، چار بچے ہلاک

خواندہ مائیں بچوں کی ویکسینیشن میں مددگار؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طبی عملے کو بچوں کے وجلدین کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے

امریکہ میں مذہبی یا دیگر بنیادوں پر بچوں میں ایسی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ٹیکے لگوانے میں کمی آئی ہے۔ کچھ والدین ایسی گمراہ کن خبروں کی بنیاد پر بھی ٹیکے لگوانے سے پرہیز کرتے ہیں کہ اس سے بچوں کو 'آٹیزم' ہو سکتا ہے۔

روزنامہ نیو یارک ٹائمز کے مطابق راک لینڈ کاؤنٹی میں یہ وبا انتہائی قدامت پسند یہودی برادری میں زیادہ پھیلی ہے۔ کاؤنٹی کے سربراہ ایڈ ڈے کا کہنا ہے کہ طبی عملے کو مقامی رہائشیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ غیر ذمہ دارانہ اور نا قابلِ قبول رویہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راک لینڈ کاؤنٹی میں یہ وبا انتہائی قدامت پسند یہودی برادری میں زیادہ پھیلی ہے

انھوں نے بتایا کہ جب عملہ متاثرہ لوگوں کے گھر پہنچا تو انھوں نے کہا کہ ہم اس بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔ مقامی اخبار راک لینڈ کاؤنٹی کے مدیر ڈیلن سکرلوف نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں ملک میں خسرہ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

پہلی رپورٹ چھ ماہ پہلے موصول ہوئی تھی اور آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ حکام مذہبی فرقوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ٹیکے لگوائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خسرہ سے ہر سال تقریباً نوے ہزار لوگوں کی موت ہوتی ہے

یورپ اور امریکہ خسرہ کے مسئلے سے دوچار ہیں لیکن اب ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ تبدیلی خسرہ کے جرثومے میں نہیں انسانی رویے میں آئی ہے۔

اس سے بچوں کو 'آٹیزم' ہو سکتا ہے، اس افواہ نے متعدد بچوں کو اس ٹیکے سے محروم رکھا ہے اور بہت سے والدین خسرہ کے خطرات سے لاعلم ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں خسرہ اب بھی عام ہے جو ہر سال تقریباً نوے ہزار لوگوں کی جان لیتا ہے ۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو آسانی سے جنگل کی آگ کی طرح پھیل سکتی ہے۔

باقی دنیا میں خسرہ کے ٹیکوں کی تاریخ

خسرہ ایک انتہائی متعدی مرض ہے اور اس سے نہایت پیچیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جن میں پپیپھڑوں اور دماغ کو نقصان پہنچنا بھی شامل ہے۔

لیکن ان خطرات کے باوجود کئی ممالک میں خسرے کی ویکسین لگوانے کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔

مثلاً برطانیہ میں حکومت اس سلسلے میں نئی قانون سازی کا سوچ رہی ہے جس میں معاشرتی رابطوں کی ویب سائیٹس کو اس بات پر مجبور کرنا بھی شامل ہے کہ وہ انٹرنیٹ سے ایسا مواد ہٹائیں جو خسرے کے ٹیکوں کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرتا ہے۔

یورپ میں سنہ 2018 میں خسرہ کے 82 ہزار پانچ سو کیس سامنے آئے تھے، جو کہ گذشتہ عشرے میں کسی بھی سال میں سب سے زیادہ تھے اور سنہ 2017 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھے۔

عالمی ادارۂ صحت نے ویکسین کے خلاف مہم کو سنہ 2019 میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں