’مشن جوراسک ‘ ڈائنو سار کو تلاش کرنے کی مہم کا آغاز

کھدائی تصویر کے کاپی رائٹ THE CHILDREN'S MUSEUM OF INDIANAPOLIS

برطانوی سائنسدان ڈائنو سارز سے متعلق دہائیوں پر مشتمل اپنی سب سے بڑی تحقیق کا آغاز کرنے والے ہیں۔

انھیں اس تحقیق میں امریکی اور ہالینڈ کے اداروں کی خدمات حاصل ہیں جس کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس تحقحق سے امریکی ریاست وائومنگ کی ’بیڈ لینڈ‘ جسے پوشیدہ خزانہ سمجھا رہا ہے کا کھوج لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

امریکی ریاست وائومنگ نے اس حوالے سے سب سے زیادہ مشہور نمونے حاصل کیے ہیں اور بین الاقوامی گروپ ایک مربع میل (260) ہیکٹر زمین کھودے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈائنوسار کے ڈی این اے کی ساخت دریافت

انسانوں کے قدیم ترین 'اجداد کی باقیات' دریافت

پروفیسر فل میننگ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ناقابلِ یقین سائٹ ہے۔

یونیورسٹی آف مانچیسٹر پیلونٹولوجسٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا ’برطانیہ میں ہم اس طرح کا کچھ بھی نہیں دیکھتے ہیں۔ پورا ڈائنو سار زمین سے باہر آ رہا ہے لیکن ہمارے پاس یہاں موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ THE CHILDREN'S MUSEUM OF INDIANAPOLIS

’اور اس کے لیے ہمارے پاس جو فنڈ ہے وہ ایک وقت میں فٹ بال کی پچ سائز کے علاقوں کھودنے کی اجازت دیتا ہے، اگر ضرورت ہو تو۔‘

اس منصوبے کے دیگر حصے داروں میں چلڈرن میوزیم آف انڈیاناپولس، لیڈن کی نیچرل بائیو ڈائیورسٹی سینٹر، نیدر لینڈ اور لندن کی نیچرل ہسٹری آف میوزیم شامل ہیں۔

پروفیسر مینگ اور مانچیسٹر کی ساتھی ڈاکٹر وکٹوریہ چلڈرن میوزیم کے غیر معمولی سائنسدان ہیں اور وہ اس تحقیق کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے لیکن اس تحقیق کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس کے لیے 100 سے زیادہ ماہرین کی ضرورت ہو گی۔

اس منصوبے کو ’مشن جیوراسک‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑے جغرافیائی دور کا حوالہ ہے جس میں چٹانوں کا مطالعہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ THE CHILDREN'S MUSEUM OF INDIANAPOLIS

امریکی ریاست وائومنگ کے خاص شمالی حصے میں سائنسدانوں کو ایک یونٹ یا فارمیشن تک رسائی دی جائے گی جسے موریسن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

این ایس ایم کے ڈاکٹر سوسنہ میڈمینٹ نے بتایا ’یہ نمونے تقریباً 145 سے 157 ملین سال قبل جمع کیے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ اس فارمیشن کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا گیا، آپ کے تمام پسندیدہ ڈائنو سارز جنھیں آپ نام دے سکتے ہیں جب آپ سات سال کے تھے جیسا کہ سٹیگوسوروس، برچیوسوروس، برونسووسس اور آلوسورس لیکن ہم شمال میں ہوں گے جس کا کم مطالعہ کیا گیا اور جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ تھوڑی سی مختلف مخلوق ہے۔‘

’لہذا ہم ایسے جانوروں کو تلاش کرنے کی امید کر رہے ہیں جنھیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔‘

پروفیسر میننگ اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے کیے جانے والے ابتدائی کام نے اس حوالے سے امید ہیدا کی ہے۔

متعدد ٹن ہڈیوں کو برآمد کیا گیا ہے، بشمول دو بڑے سوروپڈ ڈائنو سارز کے فواسل سمیت، جن میں 24m طویل برچیوسوروس اور 30 میٹر طویل وصولی بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ THE CHILDREN'S MUSEUM OF INDIANAPOLIS

پروفیسر میننگ کا کہنا ہے ’ہم نے مرغی کے سائز کے تھروپاڈز (ڈائنا سور کی ایک قسم جو گوشت خور تھے) حاصل کیے ہیں جن میں سے جدید پرندوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگر ہم اس مواد کو مزید تلاش کر سکتے ہیں تو ہم پرواز کے ارتقا کے بارے میں کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘

یہ ٹیم ایک قدیم ماحول کے ذریعے کام کرے گی بشمول ایک دریا اور سیلاب کا سامان جبکہ دوسری ٹیم بظاہر بحری تاریخ کو ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔

پروفیسر باریٹ کا کہنا ہے کہ مشن جوراسک سنہ 1980 کی دہائی کے نائیجریا منصوبے کے بعد این ایچ ایم کے لے اس قسم کی سب سے بڑی مہم تھی۔

اسی بارے میں