فیس بُک کی جانب سے سفید فام قوم پرست اور علیحدگی پسند عناصر پر ’پابندی کا اعلان‘

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سماجی رابطوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بُک کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے سے فیس بُک اور انسٹاگرام پر 'سفید فام قوم پسند اور علیحدگی پسند عناصر کی تعریف، حمایت اور نمائندگی' کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

فیس بُک نے عہد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے فیس بُک پر شائع کیے جانے والے مواد کی شناخت کرنے اور اس پر پابندی لگانے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گا۔

فیس بک کے وہ صارفین جو ویب سائٹ پر قابل اعتراض الفاظ اور جملوں کی تلاش کر رہے ہوں انھیں فیس بک اُس تنظیم کی ویب سائٹ پر لے جائے گا جو انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہے۔‎

اسی حوالے سے جاننے کے لیے مزید پڑھیے

کیا فیس بک کی ریگولیشن ممکن ہے؟

قتل کی لائیو ویڈیو پر فیس بک کی پریشانی

فیس بک لائیو پر بیٹی کے قتل کی ویڈیو

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گرد کی جانب سے حملوں کی لائیو ویڈیو فیس بُک پر چلانے کے بعد فیس بُک کو کافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

ماضی میں فیس بُک نے سفید فام قوم پرست افراد کی جانب سے فیس بُک پر ڈالے جانے والے مواد کو نسل پرستانہ تصور نہیں کیا تھا۔ اس میں فیس بُک کی طرف سے صارفین کو سفید فام نسلی ریاستوں کے قیام کے لیے دیگر صارفین کو دعوت دینے کی اجازت دینا شامل ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ سفید فام قوم پرستی کو اظہار رائے کا قابل قبول طریقہ سمجھتی تھی جیسے 'امریکن پرائیڈ اور باسق علیحدگی پسند (سپین میں علیحدگی پسند علاقے کے لوگ) جو کہ لوگوں کی شناخت کا اہم حصہ ہیں'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیس بُک نے تسلیم کیا کہ 50 لوگوں کی موت کی وجہ بننے والے حملوں کی ویڈیو کو فیس بُک سے اتارے جانے سے قبل 4000 سے زائد بار دیکھا گیا۔

لیکن 27 مارچ کو شائع کی گئی بلاگ پوسٹ میں فیس بُک کا کہنا تھا کہ 'سول سوسائٹی اور ماہرین اور سکالرز' سے تین ماہ کی مشاورت کے بعد یہ طے پایا گیا کہ سفید فام قوم پرستی کو سفید فام برتری اور منظم نفرت کرنے والے گروہوں سے 'معنی خیز طریقے سے علیحدہ' نہیں کیا جا سکتا۔

نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملوں کے بعد کئی عالمی رہنماؤں نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر شائع کیے جانے والے شدت پسند مواد کے حوالے سے زیادہ ذمہ دارنہ رویہ اپنانے کو کہا۔

شیئر کیے جانے والے مواد کی ممکنہ ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس 'صرف پیغام کی ترسیل کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ناشر بھی ہیں۔'

فیس بُک نے تسلیم کیا کہ 50 لوگوں کی موت کی وجہ بننے والے حملوں کی ویڈیو کو فیس بُک سے اتارے جانے سے قبل 4000 سے زائد بار دیکھا گیا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر ویڈیو کی 12 لاکھ کاپیاں اپ لوڈ کرتے ہوئے بلاک کر دی گئیں جبکہ تین لاکھ کو حذف کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن

فرانسیسی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے گروہ نے فیس بُک اور یوٹیوب پر فوٹیج شائع کرنے کی اجازت دینے پر مقدمہ دائر کیا ہے۔

ٹیکنالوجی سے منسوب دیگر گروپس نے بھی حملے کی ویڈیو کو شیئر ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔

ریڈیٹ ویب سائٹ پر پہلے سے موجود 'واچ پیپل ڈائے' (Watch People Die) کہلانے والے فورم پر حملے کی ویڈیو شیئر ہونے کے بعد فورم بند کر دیا۔

سٹیم گیمنگ نیٹ ورک چلانے والی والوو کارپوریشن کا کہنا ہے انھوں نے صارفین کی طرف سے کرائسٹ چرچ حملہ آور کی تعریف میں پیش کیے گئے سو پیغامات اپنی ویب سائیٹ سے اتارے۔

اسی بارے میں