65 سالہ جو کیمرون کو درد محسوس نہیں ہوتا

Jo Cameron تصویر کے کاپی رائٹ Peter Jolly/REX/Shutterstock

جو کیمرون کو اپنی جلد کے جلنے کا احساس صرف تب ہوتا ہے جب وہ گوشت جلنے کی بو سونگھیں۔ اکثر اوقات وہ اوون میں اپنا بازو جلا بیٹھتی ہیں لیکن انھیں متنبہ کرنے والا کوئی درد محسوس نہیں ہوتا۔

ایسا اس لیے ہے کیوں کہ وہ کرہ ارض پر موجود ان دو لوگوں میں سے ایک ہیں جن میں نایاب جینیاتی تبدیلی پائی جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر انھیں درد محسوس نہیں ہوتا، اور انہوں نے کبھی بے چینی یا خوف بھی محسوس نہیں کیا۔

65 برس کی عمر تک انھیں اس کا احساس نہیں ہوا تھا۔ جب ڈاکٹروں کو یقین نہیں آیا کہ انہیں ایک انتہائی خطرناک آپریشن کے بعد درد کش گولیوں کی ضرورت نہیں ہے، تب انہیں احساس ہوا کہ وہ مختلف ہیں۔

جب انھوں نے اپنے ہاتھ کا آپریشن کرایا تو ڈاکٹروں نے انہیں خبردار کیا کہ انہیں درد کی توقع کرنی چاہیے۔

لیکن جب انہیں کچھ محسوس نہیں ہوا تو ان کے اینیستھیٹسٹ ڈاکٹر دیوجیت شری واستا نے انھیں یونیورسٹی کالج آف لندن (یو سی ایل) اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں درد کے جینیاتی ماہرین کے پاس بھیجا۔

یہ بھی پڑھیے

آہستہ آہستہ تھپکنے سے ’درد میں کمی‘

دردکش ادویات سے دل کی بیماری کا خطرہ

’ترک اچار میں چھپا ہے سر درد کا علاج‘

مختلف ٹیسٹ کرانے کے بعد ماہرین کو ان میں جین کی تبدیلی کا پتا چلا جس کا مطلب تھا کہ انھیں دوسروں کی طرح درد محسوس نہیں ہوتا۔

’ناقابل یقین حد تک صحت مند نہیں‘

ایورنس کے قریب، وائٹ برج کی رہائشی جو نے بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ڈاکٹروں کو ان کی بات کا یقین نہیں آیا جب انھوں نے سرجری کے بعد کہا کہ انہیں درد دور کرنے والی گولیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں ہم نے آپریشن تھیٹر میں جانے سے قبل مذاق کیا جب میں نے ضمانت دی کہ مجھے درد کش گولیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jo Cameron
Image caption جو کیمرون (بائیں) کو 65 سال کی عمر میں احساس ہوا کہ وہ مختلف ہیں

جب انھیں معلوم ہوا کہ میں نے کوئی درد کش گولی نہیں لی تو انہوں نے میرے میڈیکل ریکارڈ کا معائنہ کیا اور تب انہیں پتا چلا کہ میں نے کبھی درد کش گولیاں نہیں مانگیں۔

اس کے بعد انہیں برطانیہ میں ماہرین کہ پاس بھیجا گیا۔

ایک بار تشخیص ہونے کہ بعد جو کو معلوم ہوا کہ وہ ’ناقابل یقین حد تک صحت مند‘ نہیں ہیں، جیسا کہ انہیں یقین تھا۔

وہ کہتی ہیں جب میں مڑ کر پیچھے دیکھتی ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ مجھے کبھی بھی درد کش گولیوں کی ضرورت نہیں پڑی، لیکن اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں پڑتی تو آپ یہ سوال بھی نہیں کرتے کہ آپ کو کیوں ضرورت نہیں پڑ رہی۔

آپ وہی ہیں جو آپ ہیں جب تک کہ کوئی اس چیز کی نشاندہی نہ کرے آپ بھی اس بارے میں سوال نہیں کرتے۔ میں ایک خوش مزاج شخصیت تھی جس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرے بار ے میں کچھ مختلف ہے۔

یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ انہیں بچہ پیدا کرتے وقت بھی درد محسوس نہیں ہوا تھا۔ ’یہ صرف عجیب تھا، لیکن مجھے کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔ یہ واقعی بہت خوشگوار تھا۔‘

جو نے سکاچ بونٹ چلی چیلینج میں بھی حصہ لیا

جو کچھ بھی تبدیل نہیں کریں گی، لیکن وہ درد کو ایک اہم چیز مانتے ہوئے کہتی ہیں ’درد کے پیچھے کوئی وجہ ہے، یہ آپ کو متنبہ کرتا ہے اور آپ الارم کی گھنٹیاں سنتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Jo Cameron
Image caption جو، اپنے شوہر اور ماں کے ساتھ

’جب کچھ غلط ہو تو اس کے بارے میں انتباہ اچھا ہو گا۔ مجھے پتہ نہیں چلا میرا پٹھا ختم ہو گیا ہے جب تک کہ وہ واقعی ختم نہیں ہو گیا۔ جسمانی طور پر میں آرتھرائٹس کے ساتھ نہیں چل سکتی تھی۔‘

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ عام طور پر شفا یاب ہونے کے لیے جتنا وقت درکار ہوتا ہے شاید وہ اس سے کہیں زیادہ تیزی سے شفا حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ جینز کا یہ خاص مجموعہ انہیں بھولکڑ اور کم بے چین بناتا ہے۔

اسے خوشی کا جین یا بھول جانے والا جین کہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’میں اپنی پوری زندگی خوش اور بھولکڑ ہونے کے باعث لوگوں کو پریشان کرتی رہی ہوں۔ اب مجھے ایک بہانہ مل گیا ہے۔‘

کیا جو کے جینز دوسروں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں؟

جو کہتی ہیں کہ حال ہی ان کی گاڑی کو ’معمولی ٹکر‘ لگی تھی، دوسرے لوگوں کے لیے یہ ایک پریشان کن تجربہ ہوتا، لیکن انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

مجھ میں ایڈرینالین (جو دوران خُون میں اثر انداز ہو کر ہیجان پیدا کرتا ہے) نہیں ہے۔ آپ کو خطرے کا احساس ہونا چاہیے یہ انسان ہونے کے لیے ضروری ہے، لیکن میں اسے تبدیل نہیں کروں گی۔

وہ کہتی ہیں دوسرا ڈرائیور ’بری طرح کانپ‘ رہا تھا لیکن وہ پرسکون تھیں۔ ’مجھے اس ردِعمل کی سمجھ نہیں آتی۔۔۔ یہ بہادری نہیں ہے، لیکن مجھے خوف نہیں آتا۔‘

محققین کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہے جو جیسے اور افراد بھی ہوں۔

ڈاکٹر دیوجیت شری واستا کہتے ہیں ’درد کش ادویات میں تمام تر ترقی کے باوجود آج بھی سرجری کے بعد دو مریضوں میں سے ایک درمیانے درجے سے شدید درد کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ہمارے نتائج کی بنا پر کوئی نیا علاج تیار کیا جا سکتا ہے۔‘

’نتائج ایک نایاب درد شکن کی دریافت کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو ممکنہ طور پر سرجری کے بعد درد سے آرام اور زخم کو جلدی بھرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے ان 330 ملین مریضوں کو مدد مل سکتی ہے جو ہر سال دنیا بھر میں سرجری سے گزرتے ہیں۔‘

جو کا کیس برٹش جرنل آف آنیستھیزیا میں شائع ہوئے پیپر کا موضوع ہے جس کے مصنف یونیورسٹی کالج آف لندن کے ڈاکٹر شری واستا اور ڈاکٹر جیمز کوکس ہیں۔

ڈاکٹر کوکس کا کہنا ہے درد محسوس نہ کرنے والے افراد طبی تحقیق کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، ایسے افراد سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جینیاتی تبدیلیاں، درد محسوس کرنے پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں۔ لہذا ایسے افراد جنہیں درد محسوس نہیں ہوتا، ہم ان کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ سامنے آئیں۔

’ہمیں امید ہے کہ وقت کے ساتھ ہمارے نتائج سرجری کے بعد ہونے والے درد، بے چینی، ممکنہ طور پر شدید درد، پی ٹی ایس ڈی اور زخموں کے بھرنے کے لیے کی جانے والی کلینکل ریسرچ میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں