انڈیا کا 'مشن شکتی' کہیں اپنے لیے ہی خطرہ تو نہیں؟

مشن شکتی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈیا کی خلائی ایجنسیوں اسرو اور ڈی آر ڈی او نے مشن شکتی یہ تصویر جاری کی ہے جس میں ایک میزائل سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سیٹلائٹ کو نشانہ بنایا گيا

انڈیا نے 27 مارچ کو سیٹلائٹ شکن میزائل یعنی اے سیٹ کا کامیاب تجربہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اس صلاحیت کا حامل چوتھا ملک بن گیا ہے۔

انڈیا کے اس تجربے پر جہاں برسر اقتدار حکومت فخر کا مظاہرہ کر رہی ہے وہیں چین اور امریکہ نے اس سے پیدا ہونے والے ملبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس تجربے کے دوران انڈین سائنسدانوں نے دیسی ٹکنالوجی سے زمین کے قریبی مدار میں قائم اپنے ہی سیٹلائٹ کو نشانہ بنایا جس سے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر 700 کلوگرام کے مائکروسٹار سیٹلائٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور اس کے نتیجے میں خلا میں ملبہ بکھر گيا۔

امریکہ کے نگراں وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے سیٹلائٹ شکن ہتھیار کا تجربہ کرنے والے ممالک کو متبنہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خلا میں ملبہ اکٹھا کرنے کا خطرہ مول نہ لیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے امریکی فوج کے ساؤدرن کمانڈ سے فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے کہا 'میرا یہی پیغام ہوگا کہ ہم سب خلا میں رہتے ہیں اور ہمیں وہاں گندگی نہیں پھیلانی چاہیے۔ خلا ایسی جگہ ہو جہاں ہم اپنے کاروبار کریں۔ ایسی جگہ ہو جہاں لوگوں کو اپنے کام کرنے کی آزادی ہو۔'

چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ 'ہم سب کو خلا میں امن و امان بحال رکھنا چاہیے۔'

یہ بھی پڑھیے

’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

انڈیا کا خلائی مشن میں نیا ریکارڈ

بی بی سی نے جب اس بابت دفاعی امور کے ماہر سابق کموڈو ادے بھاسکر سے دریافت کیا کہ کیا امریکہ اپنی تنبیہ میں حق بجانب ہے تو انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی خلا میں ملبہ پھیلانے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیر اعظم مودی نے قوم کے نام خطاب میں انڈیا کی نئی قوت کا اظہار کیا

اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ 'یورپی سپیس ایجنسی کے مطابق خلا میں بڑی مقدار میں ملبہ ہے۔ دس سینٹی میٹر سے بڑے ٹکڑے جنھیں ملبہ کہا جاتا ہے ان کی تعداد تقریباً 34 ہزار ہے اور دس سینٹی میٹر سے چھوٹے اور ایک سینٹی میٹر سے بڑے ٹکڑے تقریباً دس لاکھ ہیں جبکہ اس سے چھوٹے ٹکڑے تقریباً 12 کروڑ ہیں اور یہ انڈیا کے ٹیسٹ کرنے سے قبل وہاں پھیلے ہوئے ہیں جس کی ذمہ داری انڈیا سے پہلے ایسے تجربے کرنے والے ممالک کے سر آتی ہے جن میں امریکہ، روس اور چین شامل ہیں۔'

ہم نے ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ ملبے زمین کی جانب بھی آ سکتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ زمین کے مدار کی مختلف سطحیں ہیں۔ بعض اوقات یہ زمین کی جانب بھی آسکتے اگر وہ زمین سے زیادہ نزدیک ہیں اور اس کے قوت کشش کے دائرے میں آتے ہیں لیکن اگر زیادہ دور ہوں تو عام طور پر یہ خلا میں ہی منتشر پھرتے ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ عام طور پر سیٹلائٹ کے تین مدارج میں ہوتے ہیں۔ 'ایک لو آربٹ ہوتا جو زمین کے فضا سے لے کر دو ہزار کلو میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔ دوسرا وسطی مدار کا علاقہ ہے جو کہ زمین سے دو ہزار سے 20 ہزار کلو میٹر کے فاصلے کے درمیان ہوتا ہے جبکہ اس سے اوپرتقریباً 36 ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک جیوسنکرانس سیٹلائٹ گھوم رہے ہوتے ہیں اور اگر کسی سبب وہ ناکارہ ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں تو وہ وہیں گھومتے رہتے ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ انڈیا نے جو تجربہ کیا وہ لو آربٹ میں 300 کلومیٹر کے فاصلے پر کیا ہے اور مدار کے اس حصے کا ملبہ ہفتہ دس روز میں مزید منتشر ہو جاتا ہے اور دھیرے دھیرے زمین کی جانب آ جاتا ہے اور سمندر یا زمین میں گر جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق کموڈور ادے بھاسکر سابق صدر جمہوریہ اور سائنسداں اے پی جے عبدالکلام سے ملتے دیکھے جا سکتے ہیں

یہی سوال ہم نے معروف سائندان اور شاعر گوہر رضا سے کیا تو انھوں نے کہا کہ 'یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ جو تجربہ ہے وہ دانستہ طور پر مار کر توڑنے والا تجربہ ہے جیسا کہ انڈیا نے کیا۔ اس میں ہدف کو نشانہ لگایا جاتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا اور وہ ملبے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اب اس کے بعد دنیا کا کوئی کمپیوٹر یہ نہیں بتا سکتا کہ ان ٹکڑوں کا راستہ کیا ہوگا وہ کدھر جائيں گے۔ ان ٹکڑوں کی رفتار مختلف ہوگی اور کس سمت میں جا رہے ہوں گے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اس لیے سائنسی طور پر مجھے یہ دعویٰ غلط نظر آتا ہے کہ وہ ملبہ ختم ہو جائے گا۔ زمین پر قوت کشش کی وجہ سے مبلے رک جاتے ہیں لیکن خلا میں وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں گے۔'

سائنسی امور پر لکھنے والے صحافی پلّو باگلا نے اپنے ایک مضمون میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جب یکم اپریل کو انڈیا اپنے مشرقی ساحل سے پی ایس ایل وی سیٹلائٹ لانچ کرے گا تو یہ ملبے اس سے ٹکرا سکتے ہیں۔ یا یہ کہیں کہ انڈیا کا 'مشن شکتی' اپنے ہی سیٹلائٹ کے لیے خطرہ تو نہیں بن گیا ہے؟

اس کے جواب میں سائنسدانوں نے کہا کہ اصولی طور پر ایسا ہو سکتا ہے لیکن خلا میں پہلے سے ہی بہت سے ملبے تیر رہے ہیں اور ہر ایک سیٹلائٹ لانچ کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

گوہر رضا کا کہنا تھا کہ 'خلا میں جو ملبہ پیدا ہو رہا ہے وہ بہت تیز رفتاری کے ساتھ چل رہا ہے اور یہ کسی بھی چیز سے ٹکرا سکتا ہے۔ یہ اپنے سیٹلائٹ سے بھی ٹکرا سکتے ہیں یا دوسرے ممالک کے سیٹلائٹ سے بھی ٹکرا سکتے ہیں یا پھر ہم جو میزائل بھیج رہے ہیں ان سے بھی ٹکرا سکتے ہیں۔'

انڈیا کے وزیر اعظم نے 'مشن شکتی' کے اعلان کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ اس تجربے سے انڈیا مزید محفوظ ہوا ہے۔

سائنسداں گوہر رضا نے اس کے بارے میں کہا کہ 'میرے خیال سے ایسے تجربات نہیں کرنے چاہیے۔ اس سے کوئی ملک محفوظ نہیں ہوتا۔ بار بار اس لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے کہ ہم محفوظ ہو جاتے ہیں، لیکن میرے خیال میں جب ایسی ٹیکنالوجی تیار کرتے ہیں تو ہم محفوظ ہونے کے بجائے ساری انسانیت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔'

اگر اس طرح کے تجربات خطرناک ہیں تو کیا ایسے میں کسی بین الاقوامی کنوینشن یا معاہدہ نہیں ہونا چاہیے؟

اس سوال کے جواب میں ادے بھاسکر نے کہا کہ 'میں زور دے کر کہتا ہوں کہ ایک بین الاقوامی پروٹوکول یا معاہدے کی سخت ضرورت ہے۔ آربیٹل سیفٹی اور سکیورٹی بہت اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں گلوبلائزیشن کی لہر بہت حد تک سیٹلائٹس پر مبنی ہے اور اب اس کے سائز بھی چھوٹے ہو رہے ہیں اور ایسی صورت میں نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ سیٹلائٹ مدار میں 25 سے 30 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتے رہتے ہیں اور جس قدر زمین سے یہ نزدیک ہیں اسی قدر تیزی سے چکر لگاتے ہیں۔ اس لیے ان تمام چیزوں کے مد نظر ایک بین الاقوامی کنونشن کی سخت ضرورت ہے۔'

یہی سوال جب گوہر رضا سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ 'میرے خیال سے اس پر پابندی ہونی چاہیے۔ اس پر بین الاقوامی کنونشن ہونا چاہیے۔ یہ ٹکنالوجی خطرناک ٹکنالوجی ہے کیونکہ اگر ہم اپنی فضاؤں میں ایک بار ایسا کوڑا اکٹھا کر دیں گے تو وہ ہمیشہ رہنے والا کوڑا ہو سکتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں