فیس بک کا مر جانے والے صارفین کی پروفائل منظم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سماجی رابطے کی سائٹ فیس بک نے کہا ہے کہ وہ اپنے مر جانے والے صارفین کے دوستوں اور رشتہ داروں کو وصول ہونے والے نوٹیفیکیشنز کے ایک عام اور پریشان کن مسئلے کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے حل کریں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ وہ مرنے جانے والے لوگوں کو تقریبات پر بلانے کے یا سالگرہ کی مبارک باد دینے کے ’دردناک‘ مشورے روکنا چاہتے ہیں۔

لوگوں کی پروفائل پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ’ٹرِبیوٹ‘ کا علیحدہ حصہ ہو گا اور ان لوگوں کی ٹائم لائن ویسے ہی رہے گی جیسے انھوں نے چھوڑی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی چیف کا فیس بک اکاؤنٹ کیوں بند کیا؟

فیس بک خواتین کو کاروبار سکھائے گی

فیس بک کے پنجے کہاں کہاں

فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈبرگ نہ کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ فیس بک ایسی جگہ بن کر رہے جہاں ہمارے پیاروں کی یادیں برقرار رہیں۔‘

فیس بک کے صارفین نے ماضی میں پریشانی کا اظہار کیا ہے جب ان کو مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ کرنے کی رائے دی جاتی ہے۔

2009 کے بعد سے فیس بک صارفین کسی کی پروفائل کو ’میموریلائز‘ کر سکتے ہیں، جس سے کسی کے نام کے ساتھ ’ریمیمبرنگ‘ یا ان کو یاد کرنے کا سٹیٹس لگایا جاتا ہے اور ان کے دوست اس پر اپنے پیغامات چھوڑ سکتے ہیں (فیس بک کے مطابق تین کروڑ سے زائد لوگ ہر مہینے یہ کرتے ہیں)۔

ایک دفعہ کوئی پروفائل یادگار بن جائے تو لوگوں کو اس کی نوٹیفیکیشنز آنا بند ہو جاتی ہیں۔ لیکن ایسے صارف جن کی پروفائل کو ابھی تک یادگار نہیں بنایا گیا، ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت استعمال کر کے ان کو لوگوں کی ٹائم لائن پر آنے سے روکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'ہم امید کرتے ہیں کہ فیس بک ایسی جگہ بن کر رہے جہاں ہمارے پیاروں کی یادیں برقرار رہیں'

خصوصی اختیارات

فیس بک نے اپنی ویب سائٹ پر مردہ لوگوں کے حوالے سے چند اور بھی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

ان کی پروفائل کو میموریلائز کرنے کے بعد ان پر لکھے جانے والے ٹرِبیوٹس کی ان کے ’ورثا‘ قرار دیے جانے والے لوگ جانچ پڑتال کر سکیں گے۔ یہ ایسے خصوصی فیس بک صارفین ہوں گے جن کو کسی انسان کی موت کی صورت میں ان کی پروفائل چلانے کے اختیارات دیے جائیں گے۔

شیرل سینڈبرگ نے مزید سمجھاتے ہوئے کہا ’یہ نمائندے کسی کے مرنے کے بعد ان کے ٹربیوٹس سیکشن کو معتدل کر سکیں گے، لوگوں کے نام کے ’ٹیگ‘ لگا اور ہٹا سکیں گے، اور یہ اختیار بھی رکھیں گے کہ لکھی گئی چیزوں کو کون پڑھ سکتا ہے اور کون نہیں۔‘

’اس سے وہ ایسے مواد کو فلٹر کر سکیں گے جو شاید مرنے والے کے خاندان اور دوستوں کے لیے دیکھنا مشکل ہو۔‘

18 سال سے کم عمر صارفین ایسا نمائندہ منتخب نہیں کر سکیں گے لیکن مرنے والے نابالغوں کے والدین یا سرپرست فیس بک سے اختیارات کی درخواست کر سکتے ہیں۔

یہ تبدیلیاں کچھ حد تک ان کے سسٹم کے غلط استعمال کے بعد آئیں ہیں، جیسے کہ کسی کا شرارت کے طور پر فیس بک کو بتا دینا کہ کوئی فوت ہو گیا ہے اور ان کے اکاؤنٹ کو بند کروا دینا۔

اسی بارے میں