نیدرلینڈز: ڈاکٹر نے مریضوں کی رضامندی کے بغیر ان میں اپنے سپرم منتقل کیے

جان کرباٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چند بچوں نے ایک عرصہ دراز انتظار کیا کہ اپنے والد سے متعلق انھیں وضاحت مل پائے

نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک فرٹیلٹی ڈاکٹر پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے مریضوں کی رضامندی کے بغیر اپنے سپرم ان میں داخل کیے اور اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ اس عمل کی بدولت وہ 49 بچوں کے والد ہیں۔

فرٹیلٹی ڈاکٹر اولاد کے خواہش مند ایسے والدین کا علاج کرتے ہیں جنھیں طبعی وجوہات کی بنا پر اولاد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہو۔

ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ڈاکٹر جین کربانے، جو دو سال قبل وفات پا چکے ہیں، نے اپنے کلینک میں متاثرہ عورتوں کو اپنے سپرمز کی مدد سے حاملہ کیا۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کی تصدیق جمعے کے روز ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

تین بچوں کا باپ ’بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں’ تھا

وہ باپ جو بچوں کو دولت اسلامیہ سے بچا لایا

ماں یا باپ کی دوسری شادی اور بچے

ڈاکٹر جین کے سپرم سے پیدا ہونے والے ایسے ہی ایک بچے جوئی کا اس موقع پر کہنا ہے کہ ’آخر کار یہ کہانی اپنے انجام کو پہنچی‘ کیونکہ اب وہ جانتے ہیں کہ انجہانی ڈاکٹر ہی ان کے والد ہیں۔

نیدر لینڈ کے نشریاتی ادارے این او ایس سے بات کرتے ہوئے جوئی نے بتایا کہ ’گذشتہ 11 برسوں کی تلاش کے بعد اب میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتا ہوں، مجھے خوشی ہے کہ آخر کار یہ بات واضح ہو گئی ہے۔‘

ایسے 49 بچوں کی عدالت میں نمائندگی کرنے والے وکیل ٹم بیوٹرز کا کہنا تھا کہ وہ کئی سال کی غیر یقینی کے بعد مقدمے کے نتیجے سے خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آخر کار ان بچوں کو پتا چل گیا ہے کہ انکے والد کون ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہت سے بچے 80 کی دہائی میں پیدا ہوئے

سنہ 2017 میں ان بچوں کے والدین نے پہلی مرتبہ اس گتھی کو سلجھانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کو شک تھا کہ ان تمام 49 بچوں کا آپس میں کوئی رشتہ ہے۔

عدالت نے ان میں سے ایک ایسے کیس کی سماعت کی جس میں ایک بچے کی جسمانی طور پر ڈاکٹر جین سے بہت مشابہت تھی۔

اپریل 2017 میں ڈاکٹر جین کی وفات کے بعد ان کے گھر سے کچھ اشیا ضبط کر لی گئیں۔ وفات کے وقت ان کی عمر 89 سال تھی۔

’سنگین شکوک و شبہات‘

نیدر لینڈ کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ’ججوں نے سنہ 2017 میں حکم جاری کیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جا سکتا ہے مگر اس کے نتائج کو اس وقت تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک بقایا زیر سماعت مقدمات کا کوئی نتیجہ نہیں آ جاتا۔‘

رواں سال فروری میں رادرم (وہ علاقہ جہاں ڈاکٹر جین کا کلینک واقع تھا) کی ضلعی عدالت نے حکم دیا کہ ٹیسٹ کے نتائج آخر کار جاری کیے جا سکتے ہیں۔

قانونی فرم ریکس ایڈووکیٹ کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق ’نتائج سنگین شکوک و شبہات واضح کرتے ہیں کے ڈاکٹر جین نے کلینک میں عورتوں کی فرٹیلیٹی کے لیے اپنے ہی سپرم کا استعمال کیا۔‘

ڈاکٹر جین اپنے آپ کو تولیدی شعبے کے بانی مانتے تھے۔

ان کا کلینک سنہ 2009 میں جھوٹے اعداد وشمار اور تجزیے اور ڈونرز کی شناخت میں رد و بدل جیسے الزامات لگنے کے بعد بند ہو گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں