ایک دن میں آخر کتنا پانی پینا چاہیے؟

ایک دن میں آخر کتنا پانی پینا چاہیے؟ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’آپ کو خوب پانی پینا چاہیے۔ ہر روز آٹھ گلاس یا دو لیٹر پانی تو پینا ہی چاہیے۔‘

ایسے بن مانگے مشورے تو ہم سبھی کو ملتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن پانی کے بارے میں اس طرح کے خیالات ہمیشہ سے نہیں ہیں۔

انیسویں صدی کے آغاز تک زیادہ پانی پینا بری بات سمجھا جاتا تھا۔ سماج کے اونچے طبقے کے افراد زیادہ پانی پینا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ پیٹ کو پانی سے بھرنا تو غریبوں کا کام ہے۔ وہ ایسا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

صحت بہتر بنانے کے چند آسان طریقے

'سمندر کا کھارا پانی میٹھا ہوسکے گا'

اچھی نیند کے چھ نسخے

تاہم آج کل دنیا بھر میں خوب پانی پیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بوتل بند پانی کی مانگ سوڈے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں بھی لوگ خوب پانی پی رہے ہیں۔ ایسا اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ دن رات لوگوں کو خوب پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ زیادہ پانی پینے کو اچھی صحت کا راز اور خوبصورت جلد کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ پانی پی کر کینسر اور وزن سے چھٹکارے کے نسخے بھی عام ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہر روز آٹھ گلاس پانی پینے کا رواج شروع کہاں سے ہوا؟ کیوں کہ کبھی کسی ریسرچ نے یا کسی سائنسدان نے تو یہ دعویٰ کیا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 1945 میں امریکہ میں فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ آف نیشنل ریسرچ کونسل نے بڑوں کو مشورہ دیا کہ انہیں ہر کیلوری کو ہضم کرنے کے لیے ایک ملی لیٹر پانی پینا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ دن میں دو ہزار کیلوری لینے والی خاتون ہیں تو آپ کو دو لیٹر پانی پینا چاہیے۔ ڈھائی ہزار کیلوری لینے والے مردوں کو دو لیٹر سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔

اس میں صرف سادہ پانی شامل نہیں ہے۔ بلکہ پھلوں، سبزیوں اور دوسری پینے کی چیزوں سے ملنے والا پانی بھی شامل ہے۔ پھلوں اور سبزیوں میں 98 فیصد تک پانی ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانی جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے جسم کے کل وزن کا دو تہائی حصہ پانی ہی ہوتا ہے۔ پانی جسم سے خراب عناصر کو باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہمارے جسم کا درجہ حرارت درست رکھنے کے لیے، جوڑوں کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے علاوہ بھی پانی کئی اہم کام کرتا ہے۔ جسم کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔

ہم پسینے، پیشاب اور سانسوں کے ذریعہ پانی جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں بے حد ضروری ہے کہ ہم جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پانی کے بارے میں وہم

ہر روز آٹھ گلاس پانی پینے کا وہم پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں سے رائج یہ خیال اس قدر حاوی ہے کہ اس معیار سے دیکھیں تو ہم پانی کی کمی سے بری طرح متاثر ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ہمیں پانی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنا جسم مانگے۔

امریکہ میں ٹفٹس یونیورسٹی کے ماہر ارون روزینبرگ کہتے ہیں کہ ’پانی کے توازن کو بنانا انسان نے ہزاروں برس کے ارتقائی سفر میں سیکھا ہے۔ آج انسان کے جسم میں پانی کا توازن پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔ ‘

کسی بھی صحت مند جسم میں جیسے ہی پانی کی ضرورت ہوتی ہے، دماغ کو فوری طور پر پتہ چل جاتا ہے۔ دماغ انسان کو پیاس کا احساس دلاتا ہے۔ دماغ کا ایک ہارمون گردوں کو بھی اشارہ کرتا ہے کہ وہ پیشاب کو گاڑھا کر کے جسم سے نکلنے والے پانی کی مقدار کو کم کرے اور پانی بچائے۔

یہ بھی پڑھیے

’تھوڑی سی شراب نوشی بھی مضرِ صحت‘

'میں جمعے سے اتوار کی شام تک سوتی رہی'

برطانیہ کی ڈاکٹر اور کھلاڑیوں کی صحت کی مشیر کرٹنی کپس نے کہا کہ ’اگر آپ اپنے جسم کی بات سنیں گے، تو یہ خود ہی بتا دیتا ہے کہ کب پیاس لگی ہے۔ لوگوں کی یہ سوچ غلط ہے کہ پیاس لگنے کا مطلب ہے کہ پانی پینے میں بہت دیر ہو گئی ہے۔ ہزاروں برسوں سے انسان ایسی ہی علامات پر پیاس بجھاتا آیا ہے۔ ایسا سوچنا ہی غلط ہے کہ آپ کا جسم پانی کی کمی کا غلط اشارہ دے گا۔‘

’اگر آپ کا جسم دیگر تمام معاملات میں درست کام کرتا ہے تو پیاس کے معاملے میں غلط کیسے ہو سکتا ہے؟‘

پیاس لگنے پر پانی پینا سب سے بہتر ہوتا ہے۔ لیکن ہم چائے۔ کافی، کولڈ ڈرنک جیسی دوسری چیزیں پی کر بھی پانی کی قلت پوری کر سکتے ہیں۔ کیفین کے کچھ سائڈ افیکٹ ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن متعدد تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ چائے اور کافی جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Getty

پانی پینا صحت کے لیے اچھا ہے

سائنسدانوں کو اب تک اس بات کے ثبوت نہیں ملے کہ خوب پانی پینا چاہیے۔ پیتے ہی جانا چاہیے۔ بلکہ ان کا خیال ہے کہ پانی تب پیجیے جب آپ کو پیاس محسوس ہو۔

ہلکی پھلی پیاس کے مرحلے سے بچنے میں بھی کچھ فائدے ضرور ہیں۔ بعض تجزیوں کے مطابق اس سے دماغ کو کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

باقاعدگی سے پانی پی کر ہم وزن بھی کم کر سکتے ہیں۔ امریکہ کے ورجینیا پالیٹیکنک انسٹیٹیوٹ کی برینڈا ڈیوی کہتی ہیں کہ کم پانی پینے والوں کے مقابلے میں زیادہ پانی پینے والوں کا وزن زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ہلکی پھلکی پیاس یا پانی کی کمی ہونا بہت عام بات ہے اور میادہ تر لوگوں کو اس مرحلے کا احساس نہیں ہوتا اور اتنی سی کمی بھی آپ کے موڈ اور توانائی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ خوب پانی پینے سے آپ کی جلد صاف رہتی ہے، لیکن سائنسدانوں کو اس بات کے بھی ثبوت نہیں ملے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا واقعی زیادہ پانی صحت کے لیے اچھا ہے؟

ہم میں سے جو لوگ ہر روز آٹھ گلاس پیتے ہیں وہ نقصان نہیں کر رہے۔ لیکن جسم کی طلب سے زیادہ پانی پیتے رہنے کے چند نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس سے جسم میں سوڈیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ سوڈیم کی کمی سے دماغ اور پھیپھڑوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر کورٹنی کپس نے بتایا کہ ہم جسم سے ملنے والے اشاروں کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی سے پانی پیتے چلے جاتے ہیں، یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر کپس کے مطابق گزشتہ تقریباً ایک دہائی میں کم سے کم پندرہ ایتھلیٹ کسی ایونٹ کے دوران زیادہ پانی پینے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ اپنے جسم کے کے نظام پر بے اعتباری ہے اور جتنی طلب ہو اس سے زیادہ پانی پینا ہے۔

جوہانا پیکینہیم برطانوی ایتھلیٹ ہیں۔ انہوں نے سنہ 2018 کی لندن میراتھن میں حصہ لیا۔ اس دوران انہوں نے خوب پانی پیا۔ دوڑ ختم ہونے کے بعد ان کے دوستوں نے انہیں اور پانی پلا دیا۔ پھر وہ زیادہ پانی پینے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئیں۔ انہیں ایمبولینس میں ہسپتال لے جانا پڑا اور وہ دو دن تک بے ہوش رہیں۔ جوہانا کہتی ہیں کہ ان کا ہر دوست میراتھن دوڑنے کے لیے یہی مشورہ دیتا ہے کہ خوب پانی پیو۔

اب وہ لوگوں سے کہتی ہیں کہ زیادہ پانی پینے کے بن مانگے مشورے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں