نااہل مرد بڑے عہدوں تک کیسے پہنچ جاتے ہیں

اتنے سارع نااہل مرد بڑے عہدوں تک کیسے پہنچ جاتے ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ماہر نفسیات اور ’وآئے سو مینی انکمپیٹنٹ مین بیکم لیڈرز‘ کے مصنف ڈاکٹر ٹومس چامورو پریمیوزک کا خیال ہے کہ ’بات جب رہنماؤں کی آتی ہے تو ہم قابلیت کے بارے میں اتنا غور نہیں کرتے جتنا اصل میں کرنا چاہیے۔‘

اپنی کتاب میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی خواتین کے رہنما بننے یا بڑے عہدوں پر فائز ہونے کی راہ میں مشکل کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ہمیں مردوں میں نااہلی اتنی پسند ہے کہ ہم انھیں اس کے بدلے نوازنے میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔

یہ بھی پڑھیے

مرد و خواتین کرکٹرز مساوی کیوں نہیں؟

فیس بک خواتین کو کاروبار سکھائے گی

نااہلی کی جیت کیوں ہوتی ہے؟

ٹومس نے کہا کہ کاروبار یا سیاست میں رہنما کا انتخاب کرنا ایک بے حد ذمہ داری کا کام ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو یہ دیکھے بغیر بھرتی کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے یا ملک کے لیے فائدہ مند بھی ہیں یا ان میں اس عہدے کے لیے قابلیت بھی ہے یا نہیں؟

انھوں نے بتایا کہ ’ہم فیصلہ تو کر لیتے ہیں لیکن وہ شخص رہنما کے طور پر کیسا کام کر رہا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہوتا۔ اور نتیجتاً بجائے یہ دیکھنے کے کہ اس میں ٹیم کی رہنمائی کی قابلیت بھی ہے یا نہیں ہم ان کے انداز وغیرہ سے متاثر ہو جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹومس کا خیال ہے کہ ہم ایسے مردوں کی خود اعتمادی پر ان کی قابلیت سے زیادہ غور کرتے ہیں۔ اور ہم اپنی رائے مختصر سی ملاقات یا سیاست دانوں کے معاملے میں ٹی وی پر نظر آنے والے پیغامات کی بنیاد پر بنا لیتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ کہ ہم ان کے کرشماتی انداز پر ان کی عاجزی سے زیادہ غور کرتے ہیں۔

ہم زیادہ تر ایسے رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں جو زبردست شخصیت کے مالک ہوں، ان کا دل بہلانے والا انداز ہو اور جن کے ساتھ مزا آئے۔ لیکن اس سے یہ کیسے پتا چلے گا کہ وہ اچھے افراد بھی ہیں اور ان کی رہنمائی میں آپ کی ٹیم کو فائدہ پہنچے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اور تیسری اہم اور فکر کی بات یہ کہ ہم ایسے رہنماؤں کو بھی پسند کرنے لگ جاتے ہیں جن کو خود اپنے آپ سے عشق ہوتا ہے اور ہر وقت اپنی تعریف کرتے رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب کوئی شخص اپنا ذاتی ایجنڈا آگے بڑھاتا ہوا نظر آتا ہے تو انہیں مسترد کرنے کے بجائے ہم اکثر محسوس کرنے لگتے ہیں کہ واہ یہ شخص رہنمائی کرنے کے قابل لگتا ہے۔‘

شخصیات سے متعلق دنیا بھر سے دہائیوں میں حاصل مختلف ڈیٹا کے مطابق اوپر بتائی جانے والی تین باتیں مردوں میں خواتین کے مقابلے زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بڑے یا رہنمائی والے عہدوں پر زیادہ مرد رہنما کیوں فائز ہوتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہم بار بار غلطی دہراتے رہتے ہیں

ٹومس کہتے ہیں کہ نظریاتی طور پر تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ کسی کام کو وہی شخص انجام دے جو اس کے لیے بہترین ہو، لیکن اس بات کے ثبوت کہاں ہیں؟

اعدادوشمار کے اعتبار سے ٹومس نے بتایا کہ ’کئی بار ایچ آر یا نوکری کے لیے بھرتی کرنے والے لوگ بھی ادارے کے لیے چھوٹے ٹارگٹ پر غور کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسے کہ وہ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ اگر اس شخص کا انتخاب کیا تو یہ اچھا دکھے گا یا یہ میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ یا کسی خاص مشکل کو جلد حل کر لے گا۔ یا یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ یہ شخص وہی کرے گا جو میں اسے کرنے کے لیے کہوں گا۔‘

’ہر ادارے میں رہنمائی کے لیے لوگوں کا انتخاب اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ کوئی شخص ٹیم یا ساتھ کام کرنے والوں کو کس طرح متاثر کرے گا۔ ان کی ترقی بھی اسی بنیاد پر ہونی چاہیے کہ وہ ٹیم کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹینس کھلاڑی روجر ٖیڈر اس لیے ٹورنامینٹس نہیں جیتتے کہ وہ مرد ہیں۔ وہ اس لیے فاطح ہوتے ہیں کہ ان میں جیتنے کی صلاحیت ہے۔

اس ٹرینڈ کو کیسے توڑا جائے؟

کسی بھی ادارے کو تین بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

1. ان خوبیوں پر غور کریں جو کسی کو ایک اچھا رہنما بناتی ہیں۔

  • قابلیت
  • لوگوں سے نمٹنے کی صلاحیتیں
  • عاجزی
  • خود آگہی
  • سالمیت
  • نیا سیکھنے کی چاہ اور سیکھنے کی صلاحیتیں

2. جبلت سے زیادہ ڈیٹا اور معلومات پر اعتبار کیجیے

کسی شخص کی قابلیت کو سمجھنے کے لیے اس کی تب تک کی کارکردگی اور امتحان میں اس کی کارکردگی پر غور کریں۔

ٹومس نے بتایا کہ ہر ادارے کے پاس بے شمار معلومات ہوتی ہے لیکن وہ اس معلومات کا استعمال کرنے کے بجائے بیشتر وہ کر گزرتے ہیں جو ان کا دل چاہتا ہے۔

3. اگر آپ بھرتی کرتے وقت یہ دھیان رکھیں کہ مردوں اور خواتین کے درمیان توازن ہو تو آدھا مسئلہ تو یہیں حل ہو گیا

لیکن بہت دھیان سے، کیوں کہ کئی بار غلط رہنما اس لیے بھی بھرتی کر لیا جاتا ہے کہ اسے اس کے ہنر کے بجائے جنس کی بنیاد پر منتخب کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا مسئلے کا حل خواتین کی بھرتی ہے؟

ٹومس کہتے ہیں ’بالکل نہیں۔ حل یہ ہے کہ بھرتی کے دوران افراد کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر پرکھا جائے نہ کہ ان کے جنس کی بنیاد پر۔ ‘

ٹومس نے کہا کہ ’اگر ہر ادارہ قابلیت کو اپنا مقصد بنا کر چلے تو اس میں خواتین رہنما زیادہ ہی نہیں بلکہ مردوں سے زیادہ ہوں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

انٹرنیٹ، خواتین اور بلیک میلنگ

خواتین مے نوشی میں مردوں کے برابر

ٹومس کا خیال ہے کہ ’خواتین اپنی جن خوبیوں کی وجہ سے مردوں سے بہتر کام کرتی ہیں وہ ہے ان کی عاجزی، سیکھنے کی صلاحیت، خود آگہی، لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ہنر اور ان کی قابلیت۔ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں خواتین مردوں سے بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔‘

اسی بارے میں