کراچی: پولیس فائرنگ سے ڈیڑہ سالہ بچے کی ہلاکت، چار پولیس اہلکار گرفتار

کراچی پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کراچی میں پولیس کی فائرنگ سے ڈیڑہ سالہ بچے احسن کی ہلاکت کے بعد چار پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ آئی جی سندھ اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

آی جی سندھ کلیم امام کا واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہم بہت معذرت خواہ ہیں کہ ایسا ہوا ہے۔'

احسن کی ہلاکت کا واقعہ کراچی کے علاقے صفورا چورنگی کے قریب پیش آیا ہے، احسن کے والد کاشف کی مدعیت میں سچل تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں کاشف نے بتایا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ بیکری سے سامان لینے آئے تھے اور پندرہ بیس منٹ کے بعد رکشہ کرائے پر کرا کے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک گولیاں چلنے کی آواز آئی اس وقت ان کا 20 ماہ کا بیٹا احسن ان کی گود میں تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نقیب اللہ محسود بے قصور قرار، تمام دائر مقدمات خارج

’نمرہ بیگ کی ہلاکت پولیس کی گولی سے ہوئی‘

’امل عمر بل‘ پر والدین کو اعتراض

’احسن نے چیخ ماری اور نیچے کی طرف ہوگیا میری بیوی نے آواز دے کر کہا کہ احسن کے سینے سے خون نکل رہا، سامنے دیکھا تو موٹر سائیکل پر سوار چار پولیس اہلکار فائرنگ کر رہے تھے۔‘

’ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کا بیٹا فوت ہوگیا ہے، میری ٹانگ میں گولی لگی۔‘

سچل پولیس نے ہیڈ کانسٹیبل پیار علی، خالد اقبال اور کانسٹیبل عبدالصمد اور امجد خان کو حراست میں لے لیا ہے، اہلکاروں کا تعلق موٹر سائیکل اسکواڈ سے ہے۔ یہ فورس پنجاب کی ڈولفن پولیس کی طرز پر سٹریٹ کرائم روکنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

ڈی آئی جی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ لوٹ مار کی شکایت پر صفورا چورنگی پر ایک عارضی چوکی بنائی گئی تھی پولیس نے موٹر سائیکل سوار لٹیروں پر فائرنگ کی جس کی زد میں رکشہ آگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’پولیس میں بھرتی کا معیار‘

ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کا کہنا ہے کہ پولیس میں بھرتی کا معیار ایک جیسا نہیں رہا جو بھرتی ہوتا ہے وہ تیس چالیس سال ادارے میں رہتا ہے۔

’ان کی کوشش ہے کہ تربیت میں بہتری لائیں۔ کہاں پر فائرنگ کرنی چاہیے اس بارے میں ہماری تربیت میں بہت زیادہ فوکس ہے، ہماری بار بار تاکید ہے کہ بھرے بازار میں فائرنگ نہیں کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کی جو صورتحال ہے اس میں بھرے بازار میں ایک شخص لٹ رہا ہوتا ہے، وہاں جو سپاہی موجود ہے اس کی کتنی بھی تربیت ہو لیکن اس وقت وہ اپنا دماغ استعمال کرتا ہے۔

’اس وقت فیصلے میں اس سے خطا ہوجاتی ہے۔ پولیس اہلکار نے رد عمل کا اظہار کرنا ہے اگر نہیں کرے گا تو کہیں گے کہ بزدل ہے اور پولیس میں بزدلی کی بھی سزا ہے۔‘

امیر شیخ کا کہنا ہے کہ اس کیس میں بچے کی ماں نے کہا کہ اہلکاروں نے جان بوجھ کر مارا ہے، ان کے خاندان کے ساتھ کیا کوئی دشمنی تھی یہ ساری باتیں تفتیش میں آئیں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل نے کہا ’اگر کسی صورتحال میں مشتبہ افراد پولیس پر فائر کرتے ہیں یا پولیس والوں کو لگتا ہے کہ ان کی جان خطرے میں ہے تو اپنا دفاع کرنا ان کا حق ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے اسلحہ کا استعمال آخری حربہ ہوتا ہے اس سے پہلے وہ اپنے تمام آپشنز کو استعمال کرتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی کی ماضی کی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’وہاں اسلحے کا استعمال پولیس اور رینجرز کو عام حالات سے زیادہ کرنا پڑتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Empics
Image caption گذشتہ سال اگست میں دس سالہ بچی امل عمر بھی ایسے ہی واقعے میں جان بحق ہو گئی تھیں

کراچی میں فائرنگ کے تبادلے میں بے گناہ ہلاکتیں

مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق کراچی میں اس سال کی ابتدا سے چار ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن میں پولیس اور مشتبہ افراد کے درمیان فائرنک کے تبادلے میں بے گناہ شہری مارے گئے۔

اس سے پہلے دس سالہ بچہ، ایک رکشہ ڈرائیور اور میڈیکل کی طالبہ نمرہ بیگ فائرنگ کے ایسے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ گذشتہ سال اگست میں دس سالہ بچی امل عمر بھی ایسے ہی ایک واقعے میں جاں بحق ہو گئی تھیں۔

سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ابھی تک میڈیا پر چار ایسے واقعات ہیں جو منظر عام پر آئے ہیں لیکن ہو سکتا ہے اصل میں ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ احتساب کا ہے انھوں نے الزام لگایا کہ ایسے واقعات کے بعد پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ فائرنگ کا الزام ڈاکوؤں پرلگا دیں۔

’امل عمر کے کیس میں پچھلے سال ایسا ہی ہوا۔ انھوں کہا ڈاکوؤں کی گولی تھی بعد میں جب دباؤ بڑھا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں فرانزک رپورٹ دکھائیں، سب دکھائیں تو چوتھے دن انھوں نے مان لیا کہ پولیس کی گولی تھی۔‘

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کے دوران پولیس انکاؤنٹر کی عادی ہو کر گولی چلانے سے بے خوف ہو گئی اور بعد میں ان کی نئی ٹرینگ نہیں ہوئی۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ’کون سا اسلحہ کب اور کیسے استعمال کرنا ہے پولیس کو اس کی کوئی ٹریننگ نہیں ہے۔ وہ کھل کر گولیاں چلاتے ہیں کیوںکہ ان کو پتا ہے بعد میں ڈاکوؤں پر الزام لگا دینا ہے۔‘

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ سنہ 2002 کا پولیس آرڈر احتساب کے لحاظ سے بہتر تھا کیونکہ اس کے اندر ’پبلک سیفٹی کمیشن‘ کا ذکر تھا جو پولیس کے متعلق شکایات موصول کرتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے قانون سازی کر کے اس قانون کو ختم کیا اور پرانے قانون کو نافذ کر دیا اور جب سول سوسائٹی آئی جی کے تبادلے کے مسئلے پر سندھ ہائی کورٹ گئی تو انھوں نے حکومت کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا۔

’ہائی کورٹ نے ملاجلا فیصلہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت قانون تبدیل کرنے کا حق رکھتی ہے اور آئی جی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔ اس سے آئی جی سندھ خود مختار تو ہوگئے لیکن ان کی کوئی جواب دہی بھی نہیں رہی۔‘

اسی بارے میں