مردوں میں کاسمیٹک سرجری کا بڑھتا رجحان اور خطرات

کاسمیٹک سرجری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مردوں پر بھی ظاہری طور پر اچھا دِکھنے کے لیے اتنا ہی دباؤ ہوتا ہے جتنا خواتین پر۔ یہ کہنا ہے کہ سیو فیس نامی ادارے کا جو ان ماہرین کی فہرست مرتب کرتا ہے جو فلرز اور بوٹوکس (کاسمیٹک سرجری کے طریقے) اپلائی کرتے ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے کئے گئے سروے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اٹھارہ سے تیس سال کی عمر کے تقریباً 50 فیصد مرد شاید ان طریقوں پر غور کرتے ہیں۔

انگلینڈ میں حکومت ایسے کاسمیٹک طریقوں کے خلاف ایک مہم شروع کرنے والی ہے جن کے بعد میں برے نتائج سامنے آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

سوشل میڈیا پر اچھا لگنے کے لیے کاسمیٹک سرجری کا رجحان

’چینی خواتین کی اولین پسند ایک ستواں ناک‘

'میرے بچے کو گورا بنا دو'

بی بی سی کے ریڈیو ون اور وکٹوریا ڈاربی شائر پروگرام کی جانب سے کیے گیے سروے کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہیں کہ جن لوگوں نے ماضی میں اچھے دکھائی دینے کے لیے کاسمیٹک سرجریاں یا مختلف اشیا یا طریقۂ کار استعمال کیے ان میں بوٹوکس اور پیٹ کے ایمپلانٹس سب سے عام تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سیو فیس کمپنی کا کہنا ہے کہ اب ان کی ویب سائٹ پر عورتوں کی نسبت مرد زیادہ آتے ہیں اور مردوں کی جانب سے شکایات کی تعداد میں بھی حیران کن طور پر اضافہ ہوا ہے۔

سیو فیس کی ایشٹن کولنز کہتی ہیں کہ ’یقیناً مردوں میں ان کاسمیٹک سرجری کے طریقوں کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے نتیجہ میں ان مردوں کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں جن کی سرجری خراب ہونے سے وہ مسائل سے دوچار ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ مردوں میں اپنے جسم کے خدو خال کو بدلنے کی کچھ حد تک وجہ سوشل میڈیا پر مختلف تصاویر کے علاوہ لو آئی لینڈ اور جورڈی شور جیسے ٹی وی پروگرامز ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ 30 سال سے کم عمر مرد ایک پرکشش جسم کے خواہش مند ہیں۔

Image caption مائک اپنی چھاتی کے متعلق فکرمند ہیں اور اسے کم کرنے کے لیے سرجری کروانے کا فیصلہ کیا

بی بی سی سروے میں تقریباً دو ہزار مرد و خواتین سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے جسم کا کون سا حصہ بدلنا چاہتے ہیں تو ان میں 34 فیصد مردوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی چھاتی اور پیٹ میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

مائک جو اپنی چھاتی کے متعلق فکرمند ہیں، کہتے ہیں نے اسے کم کرنے کے لیے سرجری کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے ریڈیو ون کے پروگرام نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’آپ اگر ورزش کرنے کے لیے جم جائیں تو آپ اس کے بارے فکرمند رہتے ہیں، آپ جہاں بھی جائے آپ بڑھی ہوئی چھاتی سے پریشان ہوتے ہیں۔‘

اپنے آپریشن کے دو ہفتوں بعد وہ زور دیتے ہیں کہ انھیں اس سے کوئی مسائل نہیں ہوئے اور وہ درحقیقت خوش ہیں کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اب میں زیادہ پراعتماد محسوس کرتا ہوں، یہ اپنے آپ کو زیادہ مردانہ وجاہت کا احساس دلاتا ہے۔‘

Image caption مائک اپنی چھاتی کی سرجری کروانے کے دو ہفتوں بعد پراعتماد محسوس کرتے ہیں

ڈائرن کارٹل ایک آن لائن پرسنل ٹرینر ہیں وہ کہتے ہیں بہت سے مرد اُن کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنے پیٹ کے خدو خال کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

’میں نے بھی جب پہلے ورزش شروع کی تھی تو میں سکس پیکس چاہتا تھا، جب میں جوان تھا میں سکس پیکس چاہتا تھا، ہر مرد سکس پیکس چاہتا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ سکس پیک ہونے کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ صحت مند ہیں اور اپنے من پسند جسم کے حصول کے لیے وہ متوازن غذا اور ورزش کا مشورہ دیتے ہیں۔

’سکس پیکس کے لیے سرجری کا سوچنا پریشان کن ہے، یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اور جو یہ سب کر رہے ہیں وہ کسی مشکل کو دعوت دے رہے ہیں۔‘

’میں مشورہ دیتا ہو کہ آپ ایسا نہ کریں، اگر آپ اچھا کھائیں، اچھی ورزش کریں اور اپنا انداز زندگی تبدیل کریں تو وہ آپ کے لیے کچھ ایسا کرنے جس سے جلد نتائج سامنے آئیں سے زیادہ فائدہ مند ہے۔

ڈائرن کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آن لائن انفلوئنسرز (انٹرنیٹ پر اثر انداز ہونے والے لوگ یا عوامل) اور سیلبرٹیز (مشہور شخصیات) اپنے سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے جسم کے بارے میں سچ نہیں بولتے۔

ان تمام سیلبریٹیز کا بہترین جسم ہوتا ہے تاہم اگر بچپن میں آپ کا جسم ایسا نہیں تھا تو یہ ایک مسئلہ ہے۔

اگر یہ تمام مشہور شخصیات ارادتاً اس بات کو بڑھاوا دے رہے ہیں کہ سکس پیکس ہونے کا مطلب صحت مند ہونا ہے تو یہ غلط ہے ایسا نہیں ہوتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DIREN KARTEL
Image caption ڈائرن کارٹل ایک آن لائن پرسنل ٹرینر ہیں، بہت سے مرد اُن کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنے پیٹ کے خدو خال کو بہتر بنانا چاہتے ہیں

سیو فیس کی ایشٹن کولنز کو اس بات کا خدشہ ہے کہ کچھ مردوں کے کاسمیٹک سرجری کے بدترین طریقوں کا شکار ہونے کے امکان زیادہ ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ ایسے طریقوں کو اپنانے کے بارے میں بات کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں.

ان کا کہنا ہے کہ مردوں کے لیے دوستوں میں اس مسئلہ پر کھل کر بات کرنا عورتوں کی نسبت اب بھی مشکل ہیں جو انھیں غلط ہاتھوں اور کاسمیٹک کے برے طریقے اپنانے سے محفوظ رکھتے ہیں۔‘

’بہت سارے ایسے مرد ہیں جو سوشل میڈیا پر ان طریقوں کے لیے سب سے سستی قیمتیں تلاش کرتے ہیں۔ جو انھیں ناچاہتے ہوئے پیچیدگیوں کی طرف لے جاتا ہے.‘

(ڈیلٹا پول نے 15 اور 18 اپریل کے درمیان 18-30 سال کی عمر کے 2،033 برطانوی بالغوں کا سروے کیا)

اسی بارے میں