عورت کے پستان میں موجود دودھ کی نالیوں کا خاکہ انٹرنیٹ پر وائرل

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’دودھ کی نالی؟ یہ کیا ہوتی ہے؟‘

’کیا یہ میرے پاس ہے؟‘

’مجھے پِستان نہیں چاہیئیں۔‘

پھول کی شکل کے ان پٹھوں کو دیکھ کر ٹوئٹر پر کچھ لوگوں کا یہ ردِعمل تھا۔

خواتین کے پستان میں دودھ پیدا کرنے والے گلینڈ کچھ حصوں میں بٹا ہوا ہے اور انتہائی تنگ نالیاں ہر حصے سے دودھ لے کر جاتی ہیں۔

تاہم کچھ لوگوں کے لیے یہ عام بات نہیں تھی۔ انٹرنیٹ پر بظاہر بہت سے لوگ یہ تصویر دیکھ کر حیران رہ گئے۔

کچھ ہی دنوں میں یہ تصویر وائرل ہوگئی ہے اور اسے 130000 مرتبہ لائیک کیا جا چکا ہے۔ بہت سے لوگ اس سے حیران ہیں اور کچھ کو تو یہ ناپسندیدہ بھی لگی۔

تاہم بچوں کو دودھ پلانے کا معاملہ آنے پر لوگوں کا ردِعمل قدرے بہتر ہونے لگا اور کچھ لوگوں کو ان پھول نما نالیوں کی قدرتی خوبصورتی نظر آنے لگی۔

ممکن ہے ٹوئیٹ کرنے والے بہت سے لوگوں نے بچپن میں دودھ پیا ہو۔

یہ گلینڈز عورت کے بچہ پیدا کرنے کے بعد دودھ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ انھوں نے کبھی ایسی بائی لوجیکل تصویر نہیں دیکھی اور بچوں کو سکولوں میں صرف مردوں کے جسم کی تصاویر ہی کیوں دکھائی جاتی ہیں۔

مگر کچھ لوگوں کو ان تصاویر کا مزاحیہ پہلو بھی نظر آیا۔