سروگیسی: بچوں کو ’بیچنے‘ کے مترادف یا ’تحفہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حالیہ عرصے میں سروگیسی یا کسی دوسرے کی کوکھ سے بچے کی پیدائش ہونا عام ہوتا جا رہا ہے۔

اس کی وجوہات میں آئی وی ایف جیسی تکنیکوں میں ہونے والی پیش رفت، روایتی رویوں میں نرمی اور دیر سے بچے پیدا کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان شامل ہیں۔

پچھلی دو دہائیوں میں عالمی سطح پر یہ رجحان بڑھا ہے۔ اس بارے میں حتمی اعداد وشمار تو میسر نہیں لیکن 2012 میں سروگیسی سے جڑی صنعت کا سالانہ حجم 6 بلین ڈالر تھا۔

صرف برطانیہ میں سروگیسی کے ذریعے ہونے والی پیدائش کے بعد جاری کیے گئے ولدیت کے احکامات کی شرح 2011 میں 121 سے 2018 میں 368 تک، یعنی تین گنا بڑھ گئی ہے۔ سروگیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ والدین اس قسم کے حکم نامے جارے کروانے کے پابند نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یوکرین کی غریب ماؤں کی کوکھ کرائے پر دستیاب

’حاملہ ہونا چاہتی ہوں لیکن بچہ نہیں چاہتی‘

شہ سرخیوں میں

سروگیسی دو طرح کی ہو سکتی ہے: جیسٹیشنل، جہاں سروگیٹ ماں کی کوکھ میں بیضہ (ایگ) اور نطفہ (سپرم) داخل کیے جاتے ہیں، اور روایتی، جہاں سروگیٹ ماں کا اپنا بیضہ استعمال ہوتا ہے۔

سروگیسی خاص طور پر ان جوڑوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے جو قدرتی طور پر بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ اس عمل کے ذریعے وہ گود لینے کے طویل اور مشکل عمل سے گزرے بغیر ’اپنے‘ بچوں کے والدین بن سکتے ہیں۔

زیادہ تر کیسز میں یہ تمام چیزیں آرام سے ہو جاتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے سروگیسی کی مقبولیت بڑھی ہے، اس کے ساتھ ہی سروگیٹس کے ساتھ برے سلوک اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کی کہانیاں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیبی گیمی اور ان کی سروگیٹ ماں

مثال کے طور پر بیبی گیمی کا کیس، جس میں الزام لگایا گیا کہ ایک آسٹریلوی جوڑا سروگیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے جڑواں بچوں میں سے صحت مند بچی پِپاہ کو تو اپنے ساتھ آسٹریلیا لے گیا، لیکن اس کے جڑواں بھائی گیمی، جو ڈاؤنز سِنڈروم کے ساتھ پیدا ہوا، اسے جان بوجھ کر تھائی لینڈ میں ہی چھوڑ دیا گیا۔

اس کے بعد ایک عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بچے کو ترک نہیں کیا گیا تھا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ اس آسٹریلوی باپ پر دراصل ماضی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز ثابت ہو چکے تھے۔ اس سے سروگیٹ بچوں کے بارے میں تشویش ایک بار پھر بحث کا موضوع بنی۔

کمزور کو نشانہ بنایا جاتا ہے

بچوں کے بارے میں تشویش کے ساتھ ساتھ ایسی مثالیں بھی ہیں جہاں سروگیٹ ماؤں کو ایجنٹس ابتر حالات میں رکھتے ہیں اور ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اکثر اوقات معاشرتی اور معاشی طور پر کمزور خواتین کو سروگیسی کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں پیسوں کا لاچ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یوکرین میں سروگیسی کے لیے 20000 ڈالر تک کی رقم دی جا سکتی ہے، جو کہ وہاں کی اوسط سالانہ آمدنی سے 8 گنا زیادہ ہے۔

تاہم اس طرح کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ سروگیٹ ماؤں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور سخت قوائد نہ ماننے یا بچے ضائع ہو جانے کی صورت میں ایجنسیز انہیں پیسے دینے سے انکار کر دیتی ہیں۔

اس طرح کے مسائل کی وجہ سے کئی ممالک نے سروگیسی پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ پچھلے سال اقوام متحدہ نہ کہا تھا کہ کمرشل سروگیسی، یعنی پیسوں کے لیے کی گئی سروگیسی بچے بیچنے کے مترادف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC NEWS
Image caption یوکرین بین الاقوامی سروگیسی کے لیے کافی مقبول ہو گیا ہے۔

صحت سیاحت میں اضافہ

سروگیسی کے بارے میں قوانین ہر ملک میں مختلف ہیں۔

جرمنی اور فرانس جیسے ممالک میں اسے خواتین کا احترام نہ کرنے، اور کسی اور کے مقاصد کے لیے انہیں استعمال کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس لیے اس پر مکمل پابندی ہے۔

برطانیہ جیسے کچھ دیگر ممالک میں اسے ایک عورت کی طرف سے دوسری عورت کو دیا گیا تحفہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کی اجازت تو ہے مگر خرچوں کو چھوڑ کر اس کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کی جاتی۔

امریکی ریاست کیلیفونیا، روس اور یوکرین میں اس کے برعکس کمرشل سروگیسی کی اجازت ہے۔ وہاں اسے ایک عورت کی خود مختاری اور اپنی مرضی سے اس عمل میں شامل ہونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کِم کارڈیشئن نے بھی سروگیسی کا استعمال کیا ہے

لیکن کچھ ایسے ممالک جہاں سروگیسی کی جاتی ہے، وہاں اس بارے میں کوئی ضوابط واضح نہیں۔ ان میں کینیا اور نائجیریا شامل ہیں۔

مختلف ممالک میں مختلف قوانین کے ہونے کا مطلب ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں اس کی اجازت نہیں تو لوگ کسی دوسرے ملک میں جا کر ایسا کر سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے اسی مقصد سے انڈیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور نیپال جیسے ممالک کا رُخ کیا۔ اور پھر وہاں خواتین کے ساتھ برے سلوک کی اطلاعات کے بعد ان ممالک نے غیر ملکیوں کے لیے اپنے کلینک بند کر دیے۔

لیکن ایک ملک پابندی لگا دیتا ہے تو اس کی جگہ کوئی دوسرا ملک لے لیتا ہے۔

قانونی مسائل

کچھ مملک سروگیٹ ماؤں کو قانونی والدہ کی حیثیت دیتے ہیں، جبکہ کچھ پیدائش کے لمحے سے یہ حق ان والدین کو دیتے ہیں جنھوں نے سروگیسی کا عمل کروایا تھا۔ قانون میں تضاد کی صورت میں خطرہ ہوتا ہے کہ بچوں کو کسی بھی ملک کا شہری تصور نہیں کیا جائے گا۔

کیا بین الاقوامی معاہدہ ممکن ہے؟

بین الحکومتی ادارہ ’دی ہیگ کانفرنس آن انٹرنیشنل لا‘ کوشش کر رہا ہے کہ سروگیسی سے پیدا ہونے والے بچوں کی ولدیت کے بارے میں ایسے کچھ قوائد بنائے جائیں جن پر بین الاقوامی سطح پر عمل درآمد کیا جائے۔

تاہم دنیا بھر میں سروگیسی کے بارے میں متضاد رویوں کی وجہ سے شاید اس طرح کا بین الاقوامی معاہدہ طے پانا مشکل ہو۔

اس کا مطلب ہے کہ حکام ایک بہت ہی مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔ سروگیسی کی صنعت دنیا بھر میں متضاد قوانین کی وجہ سے پنپ رہی ہے، مگر متضاد رویوں کی وجہ سے اس پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

سروگیسی ایک طرف بےانتہا خوشی کا سبب بن سکتی ہے تو دوسری طرف غریب اور مظلوم خواتین کے استحصال کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔

اسی بارے میں