پاکستانیوں کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے؟

غصہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تقریباً 150 ممالک کے ڈیڑھ لاکھ افراد سے کیے گئے اس سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہر تیسرا شخص ذہنی تناؤ کا شکار ہے جبکہ ہر پانچ میں سے ایک شخص نے بتایا کہ وہ یا تو اداس ہے یا پھر وہ ناراض ہے۔

ایک عالمی سروے کے مطابق لوگ اب زیادہ ناراض رہتے ہیں، زیادہ تناؤ میں ہوتے ہیں اور زیادہ پریشان رہتے ہیں۔

تقریباً 150 ممالک کے ڈیڑھ لاکھ افراد سے کیے گئے اس سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہر تیسرا شخص ذہنی تناؤ کا شکار ہے جبکہ ہر پانچ میں سے ایک شخص نے بتایا کہ وہ یا تو اداس ہے یا پھر وہ ناراض ہے۔

عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی 'گیلپ گلوبل ایموشنز رپورٹ' میں لوگوں سے ان کے مثبت اور منفی تجربات کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سب سے منفی ملک افریقہ میں واقع چاڈ اور اس کے بعد نائیجر رہا جبکہ سب سے مثبت لاطینی امریکہ کا ملک پیراگوئے رہا۔

پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا۔

محققین نے اس سروے میں شامل افراد کے تجربات پر توجہ مرکوز کی اور وہ تجربات بھی جو انھیں سروے کے دن سے ایک دن پہلے والے دن ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جنوبی ایشیا میں پاکستانی سب سےزیادہ خوش قوم

دنیا میں سب سے زیادہ خوشی کس ملک میں؟

انڈیا کے لوگوں کے مقابلے میں پاکستانی زیادہ خوش کیوں؟

سروے میں شامل افراد سے اس طرح کے سوالات پوچھے گئے کہ کیا گذشتہ روز آپ بہت مسکرائے تھے یا بہت ہنسے تھے؟ اور کیا آپ کے ساتھ لوگ عزت سے پیش آئے تھے؟ یہ سوالات لوگوں کے روزانہ کے تجربات جاننے کے لیے پوچھے گئے تھے۔

تقریباً 71 فیصد لوگوں نے کہا کہ سروے کے دن سے قبل والے دن انھوں نے خاطر خواہ مزا کیا۔


مثبت تجربات والے پانچ سرفہرست ممالک

  • پیراگوئے
  • پاناما
  • گوئٹے مالا
  • میکسیکو
  • ایل سلواڈور

منفی تجربات کے حامل پانچ سرفہرست ممالک

  • چاڈ
  • نائجر
  • سیرالیون
  • عراق
  • ایران

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سب سے زیادہ تناؤ یونان میں نظر آيا

پاکستان: کبھی خوشی کبھی غم

ہم نے اسی سروے کے حوالے سے ٹوئٹر پر پاکستان میں مختلف شخصیات سے یہ سوال پوچھا کہ انھیں غصہ کیوں اور کس وجہ سے آتا ہے۔

اس سوال پر مصنف محمد حنیف نے چھوٹتے ہی جوابی ٹویٹ کی ’سوشل میڈیا پولز (جائزے)‘۔

معروف گلوکارہ زیب النسا بنگش کا خیال تھا کہ تخلیقی شعبے میں آپ پر دباؤ ہوتا ہے کہ آپ غصہ دکھائیں۔ اور لوگ آپ کے بارے میں رائے بنا لیتے ہیں اگر آپ غصہ نہ دکھائیں۔‘

تو جب سوال کیا گیا کہ غصہ کس بات پر زیادہ آتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس منفیت پر غصہ آتا ہے جو تنقیدی سوچ کی آڑ میں کی جاتی ہے۔‘

جبکہ ایک صارف خوشحال کو ’لوڈشیڈنگ‘ پر غصہ آتا ہے، صحافی رمشہ جہانگیر کو ’وٹس ایپ گروپس‘ پر غصہ آتا ہے۔ ویسے ان گروپس سے خوش کون ہے؟

صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی سے جب پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’مجھے جھوٹ اور ظلم پر غصہ آتا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Imran Raza Kazmi
Image caption عمران رضا کاظمی جلد غصے میں نہیں آتے

ہداہت کار اور فلمساز عمران رضا کاظمی سے جو پوچھا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’بے شک ہم ایک غصے والی قوم ہیں۔‘

اپنے بارے میں انھوں نے کہا ’میرے غصے کا پیمانہ بہت بڑا ہے، میں آسانی سے غصے میں نہیں آتا مگر بدتمیزی سے میرا پارہ چڑھ جاتا ہے۔‘

سابق سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے رہنما عثمان سیف اللہ خان نے جواب دیا ’میں غصے میں نہیں آتا مگر بہت ساری چیزوں پر مجھے غصہ آتا ہے جن میں سے ایک غیر ذمہ داری ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Imran Abbas
Image caption اداکار عمران عباس کو بہت غصہ آتا ہے جب وہ کسی کو چھوٹ بولتے ہوئے پکڑتے ہیں

اداکار عمران عباس سے جب ہم نے یہ سوال کیا کہ انھیں کس بات پر غصہ آتا ہے تو انھوں نے کہا ’مجھے جھوٹ پر شدید غصہ آتا ہے۔ دوسرا جب لوگ سڑک پر گندگی پھینکتے ہیں تو میں روک کر انھیں منع کرتا ہوں اور جب مجھے یہ سننے کو ملتا ہے کہ یار یہ پاکستان ہے تو بہت برا لگتا ہے۔‘

دوسرا عمران عباس نے کہا کہ ’جب لوگ بیرون ملک جا کر ہوائی سفر کے دوران یا ایئرپورٹ بلکہ باہر بھی جو نازیبا یا غلط حرکتیں کرتے ہیں تو اس پر بہت غصہ آتا ہے کیونکہ آپ بیرونِ ملک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس سے آپ اپنے ملک کا امیج خراب کر رہے ہوتے ہیں۔‘

شہر یار رضوان کو ’فیس بُک پر یکسانیت والی پوسٹس‘ پر غصہ آتا ہے جبکہ سپورٹس رپورٹر فیضان لاکھانی کو ’معاشرتی اخلاقیات‘ کے نہ ہونے پر غصہ آتا ہے۔

سیکورٹی ماہر نوبرٹ المیڈا نے ہم سب کے قومی دکھ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ’ہر چیز کی فوٹو کاپیاں فراہم کرنے، شناختی دستاویزات کی کاپیاں اور پھر ایک سرکاری افسر سے تصدیق جو اس بات کی گواہی دیتا ہے مگر واضح طور پر غلط بیانی کر رہا ہوتا کہ کیونکہ وہ نہیں جانتا آپ کہاں سے آئے ہیں۔‘

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا ’ڈرائیونگ کرنے پر میں غصے سے پاگل ہو جاتا ہوں۔ صرف غصے میں نہیں آتا۔ قوانین کا کوئی نہیں خیال کرتا اور قانون توڑنے کے کوئی نتائج نہیں۔‘

اسی بارے میں