’کام ہمیں مار رہا ہے، لیکن کسے پرواہ‘

لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا ڈھانچہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سروے کے مطابق امریکہ اور برطانیہ میں غیرحاضریوں کے سبب ظایع ہونے والے دنوں میں سے پچاس فیصد کی وجہ دفتری کام سے جڑا ذہنی دباؤ ہے۔

سٹینفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری فیفر نے یہ بات صرف محاورتاً نہیں کہی کہ ’کام لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے۔‘

پروفیسر فیفر سٹینفرڈ گریجوئیٹ سکول آف بزنس کے رکن ہیں اور وہ پندرہ کتابوں کے مصنف یا شریک مصنف ہیں۔ انہوں نے انتظامی نظریہ اور ہیومن ریسورسز جیسے موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں۔ انہیں انتظامی امور کے موضوعات پر بہت اہم دانشور تصور کیا جاتا ہے۔

ان کی تازہ ترین کتاب کا نام ہے ‘ڈائنگ فار پے چیک’ یعنی تنخواہ کے چیک کے لیے مرنا۔ گزشتہ برس شائع ہونے والی اس کتاب میں مصنف نے بحث کی ہے کہ جدید زندگی کے متعدد پہلو جیسا کہ طویل دفتری اوقات، گھر اور خاندان کے درمیان وقت کا توازن برقرار نہ رکھ پانا اور معاشی عدم تحفظ ملازموں کی جسمانی اور جذباتی صحت کا تباہ کر رہے ہیں۔

‘غیر ہمدرد’

انہوں نے بیالیس برس کے جاپانی شخص کینجی ہمادا کے کیس کا حوالا دیا ہے جو ٹوکیو میں اپنے دفتر میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب ہلاک ہوگئے تھے۔ ہمادا ہفتے میں پچھتر گھنٹے کام کرتے تھے اور کام پر پہنچنے کے لیے انہیں تقریباً دو گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ جب انہیں دل کا دورہ پڑا وہ چالیس دن سے لگاتار کام کر رہے تھے۔

یہ کیس ان متعدد مثالوں میں سے ایک ہے جو پروفیسر فیفر نے کتاب میں دی ہیں اور اسے غیر ہمدرد مزدور نظام قرار دیا ہے۔ اور یہ صرف جاپان میں نہیں۔

Image caption پروفیسر فیفر نے دعویٰ کیا ہے کہ کام کا دہنی دباؤ امریکہ میں ایک لاکھ بیس ہزار اموات کا سبب بن رہا ہے۔

پروفیسر کی رسرچ کے مطابق اکسٹھ فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ذہنی دباؤ نے ان کو بیمار کردیا ہے جبکہ سات فیصد کو یقین ہے کہ کام کی وجہ سے ان کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔

فیفر کا اندازہ ہے کہ ہر برس ایک لاکھ بیس ہزار امریکیوں کی موت میں ذہنی دباؤ کا کردار ہے۔ ان کے خیال میں ذہنی دباؤ کی وجہ سے امریکی کمپنیوں کو تین سو بلین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاپان میں ایسے لوگوں کے لیے ایک اصطلاح موجود ہے جو کام کے دباؤ کی وجہ سے مرتے ہیں: کروچی۔

پروفیسر فیفر کی بی بی سی سے گفتگو

کتاب میں آپ نے لیبر سسٹم کو زہریلا قرار دیا ہے۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ جدید کام کی زندگی ملازمین کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے؟

جدید طرز زندگی صحت کو متاثر کر رہی ہے اس کا ثبوت موجود ہے۔ طویل دفتری اوقات، ملازمتیں ختم ہونا، صحت کی سہولیات میسر نہ ہونا اور مسلسل ذہنی دباؤ، سخت معاشی عدم تحفظ کے علاوہ کام اور خاندان کے درمیان عدم توازن اور بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ .

کام غیر مہربان بن گیا ہے۔ ایک طرف کاروباری کمپنیاں ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب ’گگ اکانومی‘ نے ملازتوں سے متعلق عدم تحفظ پیدا کردیا ہے۔

ذمہ دار کون؟

انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں کمپنیوں کے ڈائریکٹر کہتے تھے کہ یہ بہت اہم ہے کہ ملازموں، صارفین اور شیئر ہولڈرز کے مفادات کا خیال رکھا جائے۔ لیکن اب تمام تر توجہ شیئر ہولڈرز کے مفادات پر مرکوز ہے۔

Image caption جیفری فیفر، کتاب کے مصنف

مثال کے طور پر انویسٹمینٹ بینکوں میں ایک عادت عام پائی جاتی ہے کہ ملازمین کام سے تھوڑے وقت کے لیے گھر جاتے ہیں، نہاتے ہیں اور واپس کام پر آجاتے ہیں۔ اس نظام کے کی وجہ سے کئی ملازمین منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ کوکین اور دیگر منشیات کا استعمال کرتے ہیں تاکہ جاگتے رہیں۔

کیا بعض شعبے دیگر شعبوں سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں؟

فیکٹری ملازمین، پائلٹ اور ٹرک ڈرائیوروں کے کام کرنے کے گھنٹے محدود ہیں۔ لیکن کئی شعبوں میں کتنے گھنٹے کام کیا جائے گا اس کی کوئی حد نہیں۔

آپ نے کتاب میں کہا ہے کہ کام، موت کی پانچویں بڑی وجہ ہے؟

ہوسکتا ہے اس سے بھی زیادہ۔ آجر اس کے ذمہ دار ہیں۔ اور حکومتیں اس کی ذمہ دار ہیں جو اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تقریباً اکسٹھ فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ذہنی دباؤ نے انہیں بیمار کیا ہے

کیا سیاستدان مدد کر سکتے ہیں؟

ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ جو کچھ ہورہا ہے اسے روکنے کے لیے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہم انفرادی سطح پر کچھ نہیں کر سکیں گے۔

اگر آپ نظام میں موجود مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا حل بھی نظام کی مداخلت سے ہی ہوگا جو کہ کسی طرح کی قانونسازی کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔

جب آپ کمپنیوں کے ڈائریکٹروں سے بات کرتے ہیں تو وہ آپ سے کیا کہتے ہیں؟

ڈیٹا پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ لیکن یہ بہت حساس معاملہ ہے، لوگوں کو مسئلہ نظر آتا ہے لیکن کوئی کچھ کرنا نہیں چاہتا، گو کہ خراب صحت کی وجہ سے خرچے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کام کے حالات شدید بیماریوں جیسا کہ ذیابیطس اور دل کے امراض کی وجہ بنتے ہیں۔

لیکن کیا کمپنیاں یہ نہیں کہیں گی کہ لیبر سسٹم میں تبدیلی سے ان کے منافع میں کمی آئے گی؟

یہ درست نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ذہنی دباؤ کا شکار ملازم کام چھوڑنے کا ذیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار ملازم کم پیداواری ہوتے ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ میں کی گئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دفاتر سے غیرحاضروں میں سے پچاس فیصد کی وجہ کام کی وجہ سے ہونے والا ذہنی دباؤ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیفر کے مطابق ذہنی دباؤ کی وجہ سے امریکی کمپنیوں کو سالانہ تین سو بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

دی امیریکن انسٹی ٹیوٹ آف سٹریس کے تخمینوں کے مطابق ذہنی دباؤ ہر برس تین سو بلین ڈالر کے نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ملازمین کا بیمار ہونا بہت مہنگا ہے۔ ایسے ملازم جو بیمار ہوں اور کام پر بھی آئیں ان کی صلاحیتیں بھی بہت کم ہوں گی، جس کی وجہ سے کاروبار کو بہت نقصان ہوگا۔

ملازم کس طرح کام کے حالات بدل سکتے ہیں؟

سب سے پہلے تو ملازمین کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خود اٹھانی ہے۔ اگر آپ ایسی جگہ کام کرتے ہیں جہاں وہ آپ کے کام اور خاندان کے لیے وقت کا توازن قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتے تو وہاں سے چلے جانا چاہیے۔ کچھ لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ کام نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر آپ ایسے کمرے میں ہیں جو دھوئیں سے بھرا ہے تو آپ وہاں سے چلے جانے کی کوشش کریں گے کیونکہ اس کے آپ کی صحت کے لیے بہت مضر اثرات ہوں گے۔

لوگوں کو ایسے قوانین کا مطالبہ بھی کرنا چاہیے جو ان کے تحفظ کے لیے لازمی ہوں اور مل کر اپنا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اس کی قیمت معاشرے کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

متعلقہ عنوانات