ڈمنشیا: دنیا میں صحت کا سب سے بڑا چیلنج

ایک خاندان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بڑھتی عمر کے ساتھ ڈمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

برطانیہ کے ایک خیراتی ادارے الزائمر رسرچ نے کہا ہے کہ آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج ڈمنشیا کی بیماری ہے۔

ڈمنشیا کی پہلی بار تعریف ایک جرمن ڈاکٹر الوا الزائمر نے 1906 میں ایک ایسی عورت کے پوسٹمارٹم کے بعد کی جو بڑی حد تک اپنی یاداشت کھو چکی تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ اس عورت کا دماغ سکڑ چکا تھا اور اس کے اعصابی خلیوں پر اور ان کے گرد نقائص پیدا ہو چکے تھے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈمنشیا کا مرض بہت کم تھا اور اس کے بارے میں تحقیق کو چند دہائیاں ہی گزری تھیں۔ لیکن آج کے زمانے میں ہر تین سیکنڈ میں کسی نہ کسی میں ڈمنشیا کی تشخیص ہو رہی ہے۔ کچھ امیر ممالک میں یہ سب سے زیادہ جان لیوا بیماری بن چکی ہے اور اس کا بالکل کوئی علاج نہیں۔

تو یہ بیماری آخر ہے کیا؟ یہ اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہی ہے؟ اور اس کے خلاف کیا کوئی امید کی کرن ہے؟

مزید پڑھیے:

صحت بہتر بنانے کے چند آسان طریقے

ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے کتنی دیر سونا ضروری ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption 1906 میں ڈاکٹر الوا الزائمر نے ایک ’غیر معمولی‘ بیماری کا پتہ چلایا جس سے پچاس کی دہائی میں ایک عورت کی یاداشت چلی گئی، اسے وہم ہونے لگےاور پھر وہ اس سے مر گئی۔

کیا ڈمنشیا اور الزائمر ایک ہی ہیں؟

نہیں۔ ڈمنشیا بہت سی دماغی بیماریوں میں پائی جانے والی ایک علامت کا نام ہے۔

یاداشت کا چلے جانا ڈمنشیا کا سب سے عام پہلو ہے، خاص طور پر حال ہی میں بیتے ہوئے واقعات کو یاد کرنے میں مشکل۔

اس کی دیگر علامات میں انسان کے رویوں، موڈ اور شخصیت میں تبدیلی سامنے آتی ہے، وہ جانی پہچانی جگہوں پر کھو جاتا ہے یا گفتگو کے دوران درست لفظ۔ اس کو یاد نہیں آتا۔ بات اس حد تک بھی بڑھ جاتی ہے کہ لوگوں سے یہ فیصلہ بھی ہوتا کہ انہیں کچھ کھانا ہے یا پینا۔

الزائمر وہ سب سے عام بیماری جس سے ڈمنشیا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ’ویسکولر ڈمنشیا‘ اور ’پارکنسن‘ بھی اس میں شامل ہیں۔

کیا یہ ہمارے دور میں صحت کا سب بڑا چیلنج ہے؟

دنیا بھر میں آج کے دور میں 5 کروڑ افراد ڈمنشیا کے ساتھ جی رہے ہیں، لیکن 2050 تک یہ تعداد 13کروڑ تک پہنچے کا امکان ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سن 2000 کے بعد سے ڈمنشیا سے اموات کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں یہ موت کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔ لیکن کچھ امیر ممالک میں یہ موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

انگلینڈ اور ویلز میں ہر آٹھویں ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر موت کی وجہ ڈمنشیا درج ہو رہی ہے۔

ڈمنشیا اور کینسر یا دل کی بیماریوں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اس کا کوئی علاج نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے اس بیماری کی رفتار آہستہ ہو جائے۔

برطانوی خیراتی ادارے الزائمر رسرچ کی چیف ایگزیکیٹیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈمنشیا ہمارے دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔‘

ماہرین کے مطابق جوں جوں یہ بیماری شدت اختیار کرتی ہے مریض کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں اور اسے ہر وقت دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے اور ڈمنشیا کے مریضوں کی دیکھ بھال کا سالانہ خرچ ایک ٹرلین ڈالر کے قریب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ LMB
Image caption کیمبرج یونیورسٹی میں مولیکیولر بائیالوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کی ایک ٹیم نے دماغی بیماری کے بارے میں انتہائی اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بیماری اتنی عام کیوں ہو رہی ہے؟

اس کا جواب بہت آسان ہے۔ ہماری عمریں بڑھ رہی ہیں اور ڈمنشیا کا سب سے زیادہ رسک بڑھتی عمر کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔

اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں ڈمنشیا میں تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اگر ہم کسی فلسفی کی طرح سوچیں تو شاید یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈمنشیا وہ قیمت ہے جو ہم جان لیوا انفیکشن، کینسر اور ہارٹ اٹیک سے نمٹنے میں کامیابی کے بدلے میں ادا کر رہے ہیں۔

لیکن ایک غیر متوقع اور امید افزا رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے جس نے بہت سے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اس رجحان کے تحت دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کچھ ممالک میں بڑی عمر کے لوگوں میں ڈمنشیا کے مریضوں کی شرح کم ہو رہی ہے۔ کچھ جائزوں میں معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ، ہسپانیہ اور امریکہ میں ڈمنشیا میں کمی ہوئی ہے اور کچھ ممالک میں اس بیماری کے بڑھنے کی شرح رک گئی ہے۔

اس کی بڑی وجہ دل کی صحت میں بہتری اور تعلیم کو قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دماغ کو ان کا فائدہ ہوتا ہے۔

اگر میں زیادہ دیر تک زندہ رہوں تو کیا مجھے ڈمنشیا ہو جائے گا؟

ایسا ضروری نہیں۔ ایک وقت ایسا تھا جب لوگ سمجھتے تھے کہ ڈمنشیا بوڑھے ہونے کا نارمل حصہ ہے۔ لیکن تحقیق نے یہ واضح کیا ہے کہ ڈمنشیا بیماری سے ہوتا ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی عمر 90 سال سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں ڈمنشیا کے کوئی آثار نہیں ہوتے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کی پروفیسر تارا سپائرز جونز کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو 100 سال کی عمر میں بھی ٹھیک رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بڑھتی عمر کے ساتھ ڈمنشیا کے مرض کا ہونا لازمی نہیں

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم ابھی یہی نہیں سمجھ سکے کے دماغ میں کیا خرابی پیدا ہوتی ہے؟

پروفیسر سپائرز جونز کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ابھی ہمیں پوری سمجھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات میں بہت کمی ہے۔

’ہمیں نہیں معلوم نیورون مرتے کیوں ہیں، ہمیں ان کے مرنے کی اصل وجہ معلوم نہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ دماغ میں جمع ہونے والا کون سا پروٹین خطرناک ہے، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ جمع ہی کیوں ہوتا ہے، وہ جہاں جمع ہوتا ہے وہیں کیوں ہوتا ہے، دماغ میں پھیلتا کیوں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ڈمنشیا کی سب قسموں پر بات کرنے کی بجائے ہماری توجہ صرف الزائمر پر ہے۔ ڈمنشیا کی ہر قسم کی خصوصیات الگ ہیں۔

مختلف طرح کی پروٹین کے لیے ہو سکتا ہے مختلف علاج کی ضرورت ہو اور کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ’مِکسڈ ڈمنشیا‘ ہوتا ہے۔

ہماری معلومات میں کمی کیوں؟

اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ دماغ کی ساخت بہت پیچیدہ ہے اور دوسری وجہ تحقیق کے لیے پیسوں کی کمی۔

انسانی دماغ کائنات کی سب سے پیچیدہ چیز ہے جو 100 ارب نیورونز سے بنا ہے۔ ایک پروفیسر کے مطابق اگر دنیا میں ہر شخص(تقریباً ساڑھے سات ارب) کے پاس کمپیوٹر ہو اور وہ سب مل کر کام کریں تو پھر بھی ان کی صلاحیت دماغ سے 10 گنا سے بھی کم ہو گی۔ اس کے باوجود بھی دماغی امراض کے بارے میں ہونے والے تحقیقی مقالوں کی تعداد کینسر کے مقابلے میں بارہ گنا کم ہے۔

المختصر ہماری توجہ ہی اس طرف نہیں۔

ڈمنشیا کا مکمل علاج ہمارا ہدف ضرور ہے لیکن ایسا علاج بھی جو اس بیماری کو تھوڑا لیٹ کر دے بہت فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ بہت سے بڑی عمر کے لوگوں کے لیے اگر یہ بیماری 5 سال بھی دیر سے آئے تو ان کی موت اس تکلیف سے پہلے واقع ہو جائے گی۔

کیا میرا دماغ اس بیماری کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption صحت مند دماغ(دائیں) ڈمنشیا کا شکار دماغ(بائیں)

پروفیسر سپائرز جونز کا کہنا ہے کہ دماغ حیران کن حد تک طاقتور ہوتا ہے۔ اگر سٹروک سے دماغ کے خلیے مر جائیں تو کسی حد تک حرکت بحال کی جا سکتی ہے لیکن یہ نئے خلیوں کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ بچ جانے والے خلیے از سرِ نو اپنی وائرنگ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ الزائمر کی تشخیص سے پہلے ہی دماغ میں بہت سا نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔

ڈمنشیا سے بچنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

اس بات کی گارنٹی تو نہیں دی جا سکتی لیکن کچھ ایسے اقدامات ضرور ہیں جن کی مدد سے آپ ڈمنشیا کا امکان کم کر سکتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہتر طرز زندگی سے ہم تین میں سے ایک کیس کم کر سکتے ہیں۔ جو تبدیلیاں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ان میں وسط عمر میں قوت سماعت میں کمی کا علاج، زیادہ دیر تک تعلیم کے حصول کا سلسلہ جاری رکھنا، تمباکونوشی سے اجتناب، ڈپریشن کا بروقت علاج، جسمانی طور پر متحرک رہنا، سماجی طور پر تنہائی سے بچنا، موٹاپے، بلڈ پریشر اور ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچنا شامل ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اقدامات کیسے دماغ کو محفوظ کرتے ہیں۔ کیا یہ واقعی ڈمنشیا کو روکتے ہیں یا پھر دماغ کو ڈمنشیا سے نمٹنے کے لیے تیار کرتے ہیں مثلاً خلیوں کے درمیان بہتر روابط پیدا کرتے ہیں اور دماغی نظام کو اتنا لچکدار بناتے ہیں ہیں کہ جب نیورونز مرنا شروع ہوں تو اس عمل کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پروفیسر سپائرز جونز کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی صحت بہت اچھی ہے اور وہ اپنا خیال رکھتے ہیں الزائمر کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔

کیا امید کی کوئی کرن ہے؟

ڈمنشیا کے بارے میں تحقیق پر اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے۔ اس کا موازنہ ایڈز کی بیماری سے کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں 1980 کی دہائی میں سمجھا جاتا تھا کہ اس سے موت لازمی ہے لیکن اب لوگ اینٹی وائرل ادویات کی مدد سے تقریباً معمول کی زندگی گزار لیتے ہیں۔

پروفیسر سپائرز جونز کا کہنا ہے کہ کینسر سے ہم نے یہ سیکھا کہ جب ہم کسی بیماری کے بارے میں بہت تحقیق کرتے ہیں تو بہتر نتائج حاصل ہو جاتے ہیں اور مشکل بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس برس کچھ ٹرائل مکمل ہونے والے ہیں جن سے اگلے ایک یا دو برسوں میں بہتر نتائج کی امید کی جا رہی ہے۔

کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگلے دس برسوں میں ہم پہلی بار ڈمنشیا کا علاج دیکھیں گے، جو مکمل علاج تو نہیں ہو گا، جس کے لیے ہمیں مزید انتظار کرنا ہو گا۔ ان ماہرین کے مطابق اس سے کم سے کم بیماری کچھ لیٹ ضرور ہو جائے گی اور مریض کی حالت تیزی سے خراب نہیں ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں