پولیو ویکسین مخالف مہم: درجنوں اکاؤنٹس بند، فیس بک کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی

فون تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ پولیو کے بارے میں منفی معلومات کی تشہیر روکنے میں پاکستان کی مدد کرے گی

پاکستان میں حالیہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران پھیلنے والی افواہوں سے اس مہم پر بہت منفی اثر پڑا اور اب یہ تعطل کا شکار ہے۔

ان افواہوں کے پھیلاؤ میں بڑا ہاتھ سوشل میڈیا کا بھی تھا اور اب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سوشل میڈیا پر انسدادِ پولیو مہم کے خلاف مواد شائع کرنے والے 174 اکاؤنٹس بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی ٹی اے کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں ادارے نے فیس بُک کے 130 اور ٹوئٹر کے 14 اکاؤنٹس اور یو ٹیوب پر پولیو کی ویکسین کے خلاف افواہیں پھیلانے والی 30 ویڈیوز بلاک کر دی ہیں۔

سمارٹ فون سے پولیو کے خلاف جنگ

پاکستان میں پولیو ورکروں پر حملوں کے بعد پولیو مہم معطل

پنجاب میں رواں برس کا پہلا پولیو کیس: پولیو ختم کیوں نہیں ہو رہا؟

ساتھ ہی ساتھ پاکستان کی حکومت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک سے اپنے صفحات پر موجود پولیو ویکسین مخالف مواد ہٹانے کے لیے کہا ہے۔

پاکستان میں پولیو مہم کے فوکل پرسن بابر عطا نے درخواست میں لکھا کہ ایک طرف تو پاکستان میں پولیو ختم کرنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس کے بعد سے پولیو کے کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔ لیکن دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر موجود صفحوں پر ہونے والے پروپیگنڈا سے اس مہم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے قطروں کے حوالے سے والدین کے شبہات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیوز کے ذریعے ہوا دی جاتی ہے جس کے نتیجے میں کئی والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جو پولیو ویکسین سے محروم رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس وقت پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد تین لاکھ 21 ہزار ہے جن میں سے 58 ہزار کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پولیو کے قطروں کی مخالفت کی وجہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کو قرار دیا جا رہا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بابر عطا نے بتایا کہ ’پشاور کے کیس میں ایک خبر نجانے سے کہاں آئی اور کچھ منٹوں میں وہ کہاں تک پھیل گئی۔ تو ہم سب کو ایک لائحہ عمل پر کام کرنا ہوگا جس کے تحت فیس بُک کو ایسا سارا مواد اپنی ویب سائٹ سے ہٹانے میں ہماری مدد کرنی پڑے گی۔‘

جمعرات کو ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں بابر عطا نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ان کی فیس بُک سے بات چیت جاری ہے جبکہ انھوں نے لکھا کہ گوُگل سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

امت اخبار کے خلاف کاروائی کی درخواست

دوسری جانب حکومت سندھ نے بھی انسدادِ پولیو کے لیے قائم ایمرجنسی آپریشن سینٹر اسلام آباد کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے امت اخبار کے خلاف کاروائی کرنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ اخبار اپنی کوریج سے مسلسل پاکستان میں جاری پولیو کے پروگرام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے نہ صرف مہم کی افادیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ پولیو ٹیم کے اراکین کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sindh Govt

خط میں امت اخبار کے خلاف الزام عائد کیا گیا ہے کہ جب بھی وہ پولیو مہم کے خلاف پراپگینڈا کرتے ہیں، پولیو ورکرز کے خلاف تشدد اور جان لیوا واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اور اپیل کی کہ ’متعلقہ حکام اخبار کے خلاف قدم اٹھائیں کیونکہ یہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔‘

پولیو کے خلاف آن لائن مہم

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یونین کونسل کے رکن، کلیم اللہ نے بتایا کہ پولیو کے خلاف اتنی بڑی تعداد میں انکار آنے کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ پر پولیو مہم کے خلاف موجود افواہیں ہیں جس کے نتیجے میں زیادہ تر بچے پولیو مہم کے دوران 'دستیاب نہیں' کی فہرست میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'جب پولیو اہلکار گھروں میں جاتے ہیں تو والدین اپنے بچوں کو ظاہر نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ نانی یا کسی اور رشتہ دارکے گھر گئے ہیں۔'

کلیم اللہ نے کہا کہ اس کا حل یوں نکالا گیا ہے کہ اب بس اڈوں پر ہر آنے جانے والی بسوں میں موجود بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا نظام شروع کیا جا رہا ہے اور 'ساتھ ہی جن علاقوں میں یہ بچے جاتے ہیں ہم وہاں پر موجود اپنی ٹیموں کو خبر دے دیتے ہیں تاکہ وہ وہاں ان کو پولیو کے قطرے پلا دیں۔'

فیس بُک پر یہ کون سے صفحات ہیں؟

پاکستان کی طرف سے فیس بُک کو پولیو ویکسین مخالف مہم کے بارے میں دی گئی تفصیلات میں کچھ ایسے صفحات شامل ہیں جو نہ صرف پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈا پھیلارہے ہیں بلکہ لوگوں کو پولیو ورکرز کے خلاف بھی اُکسا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پولیو ٹیم کی مانیٹرنگ کا نظام پورے ملک میں قائم کیا گیا ہے‘

اب تک حکومتِ پاکستان نے آٹھ صفحات کی نشاندہی کی ہے جس میں پولیو کے خلاف مختلف قسم کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔

پشاور کے علاقے نوتھیا قدیم کی ایک شہری سے جب بی بی سی نے مارچ میں انٹرویو کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیوں اپنے نواسے نواسیوں کو پولیوں کے قطرے نہیں پلانا چاہتیں تو ان کا جواب تھا کہ میں نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو میں دیکھا تھا کہ اس (قطروں) میں زہر ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بھی اسی طرح کی ایک ویڈیو کی نشاندہی کی ہے جسے شہیر سیالوی نامی ایک شخص نے پوسٹ کیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ’بیرونی ممالک پولیو کے نام پر پاکستانی آبادی کو زہر پلا کر مارنا چاہتے ہیں۔‘

ان کے اس صفحے کو اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ اور شیئر کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ فیس بُک پر وائرل ہونے والی مختلف پوسٹ میں کیپٹن یاسر رسول نامی شخص نے لکھا ہے کہ ’پولیو کے قطروں میں پولیو وائرس ملا کر بچوں کو پلایا جارہا ہے۔‘ اس کے علاوہ اس صفحے پر لکھا ہے کہ "پولیو وائرس سے کینسر پھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔"

اس بارے میں حکومت نے کہا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں کے خلاف جو افواہیں پھیلائی جارہی ہیں ان کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

کراچی پوسٹ نامی ایک صفحے پر بھی شہیر سیالوی کی ویڈیو میں پیش کیے گئے بیانات کو چھاپتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی روکنے کی یہ بیرونی سازش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود صفحوں پر ہونے والے پروپیگنڈا سے انسدادِ پولیو مہم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

پشتون ایکسپریس نامی صفحے پر پولیو سے مرنے والے بچے کی خبر کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان قطروں سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ جبکہ حکومتی ارکان اس واقعے کو غلط رپورٹنگ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس واقعے میں بچے کی موت پولیو کے قطرے پینے سے نہیں ہوئی تھی۔

فیس بُک کا ردّعمل

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیس بُک کی ترجمان نے بتایا کہ ’ہم فیس بُک کے ذریعے پھیلنے والی غلط اطلاعات کو بہت سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور اس کے خلاف حکومتِ پاکستان کی پوری مدد کریں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں کسی بھی شکایت کے بارے میں پتا چل جائے کہ اس پلیٹ فارم سے پھیلنے والی خبر ویکسینیشن کے بارے میں غلط ہے تو ہم فیس بُک کے ذریعے اس کی مزید تقسیم روک دیتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’جس صفحے سے ایسی غلط بات بھیجی جاتی ہے ہم اس کی رینکنگ کم کر دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو وہ اپنی نیوز فیڈ میں نہیں نظر آئے۔‘

فیس بُک کی ترجمان نے بتایا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یونیسیف کے ارکان سے بھی بات چیت جاری ہے اور جو مواد جاری مہم کے خلاف جا رہا ہے اور فیس بُک کمیونٹی سٹینڈرڈز کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس کی تقسیم روک کر فیس بُک سے ہٹا دیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں