پے پیل کو پاکستان لانے کا طریقہ یہ ہے

تصویر کے کاپی رائٹ PAYPAL

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی کمپنی پے پیل نے پاکستان میں اپنی سروسز دینے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان سے مصنوعات باہر بھجوائی تو جاتی ہیں لیکن یہاں اب تک انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ہی پیسے وصول کرنے کی سہولت موجود نہیں۔ پے پیل دراصل ایسی ہی ایک کمپنی ہے جو دنیا بھر میں سالہاسال سے یہ سروسز فراہم کر رہی ہے۔

اگرچہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے اس کی مزید تفصیلات تو پیش نہیں کی گئیں تاہم ٹوئٹر پر اس وقت پے پیل ٹرینڈ کر رہا ہے۔

پے پیل کیا ہے، ایسی کیا وجوہات ہیں جو اب بھی پاکستان میں یہ سہولت موجود نہیں اور ایسا کرنا حکومت کے لیے کس قدر پیچیدہ ہے اور سب سے بڑھ کر ایک عام آدمی کو اس سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے بی بی سی نے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر سے منسلک رہنے والے ڈیجیٹل امور کے ماہر بدر خوشنود سے بات کی۔

پے پیل کیا ہے؟

اس کا سادہ سا کام ہے۔ یہ آن لائن زیادہ تر چھوٹی رقوم کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے پے ٹو پیئر کا نام بھی دیا جاتا ہے یعنی لوگوں کے درمیان رقم کا تبادلہ۔ دنیا میں بہت ہی کم ممالک ہیں بشمول پاکستان جہاں پے پیل نہیں ہے۔

اب تو موبائل پے منٹ کے کچھ سسٹم آ رہے ہیں لیکن پہلے دنیا بھر میں یہی طریقہ استعمال ہوتا ہے۔ اس میں صرف آپ کو جسے رقم بھجوانی ہے اس کا ای میل چاہیے ہوتا ہے اور آپ اپنی رقم کی ترسیل بیرون ملک کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

ای کامرس: آپ انٹرنیٹ پر اپنا کاروبار کیسے کر سکتے ہیں؟

پاکستانی صارفین انٹرنیٹ پر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟

مثال کے طور پر بہاولپور ملتان یا کہیں بھی کوئی خاتون کپڑے بنا کر باہر بھجوا رہی ہیں۔ بھیجنا تو آسان ہے لیکن اگر وہ اس کے بدلے میں پیسے یعنی اپنی اجرت لینا چاہتی ہیں تو وہ گھر بیٹھ کر یہ لے سکتی ہیں۔ اس میں آپ کو گھر سے نکل کر ایزی پیسہ یا ویسٹرن یونین کے کاؤنٹر پر نہیں جانا پڑتا۔

انٹرنیشنل ای کامرس کے لیے یہ بہت اہم ہے۔ جو لوگ چھوٹے کاروبار سے منسلک ہوتے ہیں وہ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ مقامی طور پر آپ کے لیے یہ آسان ہے۔

آپ کے ملک میں الیکٹرانک کامرس کا سائز کتنا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PA

اس کی مثال یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ برس پورے پاکستان کے اندر الیکٹرانک ٹرانزیکشنز یعنی آن لائن خرید و فروخت کی لاگت ایک ارب سے زیادہ رہی۔

یہاں یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ اس میں دراز، اوبر، کریم وغیرہ شامل نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی پے منٹ کے لیے گیٹ وے لوکل نہیں ہیں۔ مطلب آپ جب کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں تو ٹرانزیکشن باہر ہوتی ہے، آپ کے ملک کی مقامی سطح پر ای کامرس میں شامل نہیں ہوتی۔

یہ پورے پاکستان میں دکانوں میں ہونے والی خریداری کے مقابلے میں نصف فیصد ہے جبکہ انڈیا میں آن لائن خریداری دو فیصد ہے اور امریکہ میں نو فیصد ہوتی ہے اور چین میں یہ 23 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

پے پیل پاکستان کے لیے کیوں اہم؟

پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد چھ کروڑ سے زیادہ ہے لیکن یہ صارفین آن لائن خریداری نہیں کر سکتے کیونکہ پے منٹ کے سسٹم یہاں اچھے نہیں۔

دنیا بھر میں پے پیل کی مانگ اور حیثیت کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی کامرس بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ وہ اپنی برآمدات کو بڑھائے۔ یہ تب ہو گا جب آپ باہر چیزیں بھجوائیں اور وہاں سے پیسے بھی وصول کریں اور یہ صرف بڑی کمپنیوں کی سطح پر نہ ہو بلکہ لوگ چھوٹی سطح پر بھی یہ کریں۔

اس وقت پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے اوپر ہے جبکہ ہماری برآمدات تقریباً 20 ارب ڈالر ہیں۔

اس کے مقابلے میں سنگا پور جس کی کل آبادی 50 لاکھ ہے، کی برآمدات 372 ارب ڈالر ہیں۔

یہ نہیں کہ پاکستان میں ہنر کی کمی ہے ہر کسی کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر ہے لیکن مسئلہ مارکیٹ میں رسائی اور پیسے کا ہے۔ اب یہ دونوں چیزیں ہو بھی جائیں تو یہاں کے ہنر مند افراد کے لیے مسئلہ پے پیل جیسی کمپنی کی جانب سے دی جانے والی سہولت کی عدم دستیابی کا ہے۔

پے پیل کو پاکستان آنے میں کیا مسئلہ ہے؟

پے پیل جس ملک میں بھی کام کرتی ہے وہ اس ملک کے قانون کے مطابق چلتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کے ملک کا قانون اور متعلقہ فنانشل لاء کتنے مضبوط ہیں اور ان پر عملدرآمد کتنا ہوتا ہے۔

اس وقت اس بڑی کمپنی کے پاکستان میں آنے سے معذرت کی وجہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی رینکنگ ہے، کیونکہ اگر ان کی چھوٹی چھوٹی پے منٹ بھی غلط جگہ پر استعمال ہو گئی تو ان کی ساکھ بھی خراب ہو گی۔

اور اگر اس طرح کے اقدامات ہوتے بھی ہیں تو متعلقہ کمپنی یہ جاننا چاہے گی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان چیزوں کا سد باب کرنے اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کتنے فعال ہوتے ہیں تاکہ دوبارہ کوئی ایسا نہ کرے اور کوئی بھی کمپنی یہ مطالبات ضرور کرتی ہے۔

ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ پے پیل اور بین الاقوامی کمپنیاں یہاں آئیں لیکن زبانی کلامی ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔

ہماری حکومت ان سے یہ تو کہتی ہے کہ آپ آ جائیں لیکن حکومت کو ان سے بیٹھ کر واضح طور پر بات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے کیا تحفظات ہیں اور پھر پاکستان ان مسئلوں کو حل کرے۔

اور یہ صرف پے پیل کے ساتھ نہیں دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ بھی یہ بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

پاکستان پے پیل کے مقابلے میں چھوٹی کمپنیوں کو لا سکتا ہے۔ اس میں گوگل پے منٹ، وی چیٹ، واٹس ایپ، سٹرائپ، ایمازون شامل ہیں۔ اگر پاکستان پہلے لیول پر ان کمپنیوں سے بھی بات کرے، انھیں لے کر آئے تو یہ بہت اچھا ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے پے پیل کے لیے جو قانونی اور مقامی سطح پر مسئلہ ہے وہ بھی حل ہو جائے گا۔ ہمارے قوانین بہتر ہوں گے تو پے پیل بھی پاکستان میں دلچسپی لے گا۔

اور یاد رکھیے کہ ابھی آنے والے نئے بزنس ماڈلز میں سبھی کمپنیاں آپ سے یہی ڈیمانڈ کریں گی یہ بات صرف پے پیل تک محدود نہیں۔۔۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں