ماحولیاتی تبدیلی: کیا ہم کیڑے کھا کر دنیا کو بچا سکتے ہیں؟

جھینگر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیا آپ کچی مچھلی کی رکابی میں کچھ کرارے جھینگر ڈال کر کھانا پسند کریں گے؟

ایک وقت تھا جب ہم میں سے کئی لوگ کچی مچھلی اور بند گوبھی کی ایک قسم ’کیل‘ کے پتے کھانے اور تخم ملنگا سے بنے مشروب پینے سے کتراتے تھے۔ لیکن آج ہزاروں لوگ بغیر کچھ سوچے لنچ بریک کے دوران سویا سوس میں ڈبوئے ہوئے سوشی رول کھا جاتے ہیں۔

لیکن کچی مچھلی کی ڈش میں کچھ کرارے جھینگر ڈال کر کھانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

گذشتہ ہفتے لندن میں ابوکاڈو نامی ایک مشہور سوشی ریستوراں نے اپنے گاہکوں کو جھینگر کھلائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جھینگر صحت مندانہ اور ماحول دوست غذا ہے۔

ابوکاڈو ریستوراں کی منیجنگ ڈائریکٹر کارا آلڈرِن کا ماننا ہے کہ اگلے کچھ برسوں میں کیڑے مکوڑے ہماری روزمرّہ کی غذا کا حصہ بن جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے!

مستقبل کے پانچ کھانے انسان، زمین دونوں کے لیے مفید

کیا آپ ان کراہت انگیز کھانوں میں سے کوئی چکھنا چاہیں گے؟

کیا اپنا پیشاب پینا صحت کے لیے مفید ہے؟

’آلودہ انڈوں پرتُو تُو میں میں سے باز رہیں‘

گذشتہ سال سے سینسبری نے اپنی 250 دکانوں میں لاروے بطور ہلکی پھلکی خوراک بیچنا شروع کر دیے ہیں۔

سموکی بار بی کیو والے کرارے جھینگر کے پیکٹ اب اوکاڈو سٹور پر صرف ڈیڑھ پونڈ کے عوض خریدے جا سکتے ہیں۔

ان جھینگروں کی تشہیر یہ کہہ کر کی جاتی ہے کہ پروٹین سے لیس یہ صحت مندانہ خوراک ماحول دوست بھی ہے۔ اس خوراک کو گوشت اور مچھلی کے روایتی پکوانوں کا ایک متبادل بھی کہا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کیڑے کھانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ دنیا بھر میں تقریباً دو ارب لوگ کیڑے کھاتے ہیں۔ محققین نے اسے 'انٹوموفجی' کا نام دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EAT GRUB
Image caption لندن میں ابوکاڈو نامی مشہور سوشی ریستوران کے مطابق جھینگر صحت مندانہ اور ماحول دوست خوراک ہے

'کیڑے کھانا ماحول کے لیے مفید'

پروں سمیت پورے کیڑے کو کھایا جا سکتا ہے جبکہ ہم گائے کا صرف 40 فیصد حصہ کھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سنہ 2013 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کیڑے کھانے سے نہ صرف انسان اپنی غذائی ضروریات پوری کرسکتا ہے بلکہ اِس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔

لندن کے امپیریئل کالج سے منسلک ڈاکٹر ٹِلی کولنز پُر امید ہیں کہ عنقریب کیڑے کھانا بہت عام سی بات ہو جائے گی کیونکہ انکے کئی ماحولیاتی فوائد ہیں۔

'مغربی دنیا میں انسانی وجود کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر ہمیں گوشت کی خوراک کو ترک کرنا ہو گا۔ ترقی پذیر ممالک میں غذائی قلت کے مسائل کا سامنا ہے اور ایسے میں کیڑے مکوڑے خوراک کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں۔'

دلچسپ بات یہ ہے کہ کیڑوں کی کاشت کے لیے انتہائی کم زمین، پانی اور دیگر وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کیڑے گائے کی نسبت 80 فیصد کم میتھین گیس خارج کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیداوار بڑھانے کے لئے بڑی تعداد میں ایمازون جنگل کی کٹائی کی گئی تاکہ سستا گائے کا گوشت بنا کر پوری دنیا میں بھیجا جا سکے

ڈاکٹر کولنز کہتی ہیں کہ ضائع شدہ خوراک کی مدد سے بھی کیڑوں کو خوراک فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا کرنے سے ہم ایک مکمل طور پر ضائع شدہ چیز سے پروٹین بنا سکتے ہیں۔

لیکن تمام کیڑے روایتی گوشت کے مقابلے میں ماحول دوست نہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی سے منسلک علمِ حیاتیات کی ماہر شارلٹ پین کہتی ہیں کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مقامی علاقے سے حاصل کیا گیا گوشت درآمد کیے گئے کیڑوں کے مقابلے میں زیادہ ماحول دوست ثابت ہوں۔

'برطانیہ کی منڈیوں میں میسر کیڑوں سے بنائی گئی مختلف اشیا ماحول پر الگ الگ اثرات چھوڑتی ہیں۔'

شارلٹ کا مزید کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کیڑوں کے مصنوعات کی تصدیق کا عمل اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ یہ تحریک پچھلی کچھ دہائیوں کے دوران کاروباری زراعت کی طرح ماحول کے لیے ایک خطرہ نہ بن جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پچھلے سال سے سیسبری نے اپنے 250 اسٹورز میں بطور ہلکی پھلکی خوراک بھونرے بیچنا شروع کردیے ہیں

'کیڑوں کی کثیر پیداوار حل نہیں'

کتاب ’آن ایٹنگ انسیکٹس‘ کے شریک مصنف جوشوا ایونز کہتے ہیں کہ کیڑے کھانا شاید اتنا ماحول دوست متبادل نہیں جتنا لوگ تصور کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے 'اگر ہمیں یہ لگتا ہے کہ کیڑے کھانے سے یک فصلی اور کثیر پیداوار کے تباہ کن نتائج بدل جائیں گے تو ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔'

کینیڈین اخبار گلوب اینڈ میل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بیسویں صدی کے وسط میں سویابین سے بھی کچھ اِسی قسم کی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ سویابین کو رجسٹرڈ شدہ شے بنایا گیا جس سے 'یک فصلی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑی تعداد میں ایمازون جنگل کی کٹائی کی گئی تاکہ سستا گوشت بنا کر پوری دنیا میں بھیجا جا سکے۔'

ایونز نے مزید بتایا کہ 'اب سویابین کی جگہ کیڑے پیدا کرنے کا عمل شروع کیا گیا تو تاریخ دہرائی جائے گی۔'

دوسری طرف وِیگن سوسائٹی (صرف سبزیوں کی وکالت کرنے والے) کے مطابق اگر ہم سنجیدگی سے اپنی غذائی عادات کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو سبزیوں پر مبنی خوراک ہی واحد حل ہے جس سے آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ویگن سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹو جارج گِل کا کہنا ہے کہ 'اس بات کو بڑی حد تک تسلیم کیا جا چکا ہے کہ جانوروں سے بنی اشیا کو کھانے سے ماحول پر برے اثرات پڑتے ہیں مگر اسے اب تک کسی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔'

جانوروں کی پیداوار سے منسلک لوگ اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتے ہیں اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم تب تک پیرس معاہدے پر عمل نہیں کر پائیں گے جب تک ہم قومی سطح پر سبزیوں پر مبنی خوراک نہ اپنا لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر کولنز کے مطابق کچھ کیڑے بہت لذیذ ہوتے ہیں

'چاشنی میں ڈبوئے ہوئے کیڑے لذیذ ہوتے ہیں'

اُڑنے والے کیڑے کو کھانے کے لیے اٹھانا یا اسے کھانا اب بھی بہت سے لوگوں کو خوفناک لگتا ہے۔

امپیریئل کالج لندن کی ایک تحقیق کے مطابق والدین کی نسبت بچے کیڑے کھانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ڈاکٹر کولنز کے مطابق کم عمری میں انسانوں کے لیے اپنی خوراک بدلنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

'کچھ کیڑے بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کے کئی ذائقے اور غذائی فوائد ہیں جو سبزیوں کی خوراک کے ساتھ اچھا مرکب بناتے ہیں۔'

شارلٹ پین کہتی ہیں کہ 'عموماً لوگ نئی چیز آزمانے سے ڈرتے ہیں اور اکثر کیڑوں کو خوش ذائقہ نہیں سمجھتے۔ لیکن اب خوش قسمتی سے زیادہ لوگ کیڑے کی خوراک کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میں نے اس شعبے میں پچھلے آٹھ سال کام کرنے کے دوران کیڑوں کی خوراک کے بارے میں لوگوں کے رویوں میں تبدیلی دیکھی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ CHARLOTTE PAYNE
Image caption شارلٹ پین کہتی ہیں کہ اب خوش قسمتی سے زیادہ لوگ کیڑے کی خوراک کے بارے میں بات کر رہے ہیں

جنوری میں ریڈیو 1 کی ڈی جے اڈیل رابرٹس نے اپنی ڈاکومنٹری ’گربز اپ: ایٹنگ انسیکٹس فار اے ویک‘ کے دوران پورے ایک ہفتے تک کیڑے کھائے۔

انھوں نے بتایا 'اس کے بعد کھائے جانے والے کیڑوں کے بارے میں میرا نظریہ بدل گیا۔ اب اگر یہ کیڑے مجھے کسی ریستوراں کے مینیو یا ڈِش میں دِکھ جائیں تو میں انھیں کھانے کے بارے میں ضرور سوچوں گی۔'

وہ کہتی ہیں 'یہ بہت لذیذ ہوتے ہیں اگر آپ انھیں پکانے کا صحیح طریقہ جانتے ہیں۔'

اڈیل نے بتایا کہ اُس وقت سے لے کر اب تک وہ باقاعدگی سے کیڑے نہیں کھاتیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کیڑے عام طور پر بازاروں میں باآسانی دستیاب نہیں ہوتے۔

'ابھی بھی یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ کیڑے کہاں سے خریدے جائیں۔'

ان کے مطابق اب کافی مصنوعات بازاروں میں اور آن لائن نظر آجاتی ہیں لیکن ان کی تعداد دوسری پروٹین والی غذاؤں کی نسبت کم ہے۔

'آپ کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ کہاں سے یہ اشیا خریدی جا سکتی ہیں۔ اسکے علاوہ کئی مصنوعات اب پروسیسڈ حالت میں دستیاب ہیں جو میں ویسے بھی خریدنا پسند نہ کروں۔'

اسی بارے میں