دن کی روشنی اور رات کی نیند کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

رات کی نیند تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انتہائی کم عرصے کے لیے بھی نیند سے محرومی ہماری صحت کو متاثر کر سکتی ہے

سونے اور بیداری کا عمل اہم انسانی رویوں میں سے ایک ہے۔ ہم اپنی زندگی کا تقریباً ایک تہائی حصہ سوتے گزار دیتے ہیں اور اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔

سوتے وقت ہمارا دماغ معلومات کو یاد کرتا اور اس پر کام کرتا ہے۔ ہمارا جسم نامیاتی مادے کو صاف کرتا اور اپنی مرمت کرتا ہے جس سے ہم جاگنے کے بعد صحیح طرح سے کام کر سکتے ہیں۔

حتیٰ کہ انتہائی کم عرصے کے لیے بھی نیند سے محرومی ہماری صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہم میں سے اکثر کا ایک رات نہ سونے کے باعث برا حال ہو جاتا ہے اور نیند کے بغیر تین راتوں کے بعد ہمارا کام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔

ایک مطالعے کے مطابق 17 سے 19 گھنٹے جاگنے سے بہت سے معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت بالکل ویسے ہی متاثر ہوتی ہے جیسے ایک شراب پینے والے کی۔

یہ اثرات وقت کے ساتھ بد سے بدتر ہوتے جاتے ہیں۔ نیند کے بغیر گزارا گیا سب سے طویل ترین وقت گیارہ دن سے زیادہ تھا جس کے نتیجے میں شدید نفسیاتی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ پوری توجہ سے کام کرنے اور قلیل مدتی حافظے سمیت دماغ میں خلل جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔

لیکن جہاں سائنس دان ایک عرصہ قبل نیند کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں وہیں اس میں قدرتی روشنی کے اہم کردار کو کبھی کبھی نظرانداز بھی کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیند کی کمی سے دماغ کیسے متاثر ہوتا ہے؟

اچھی نیند کے چھ نسخے

’ادھوری نیند دفتر میں لڑائی اور خراب رویے کا سبب‘

باڈی کلاک کو ترتیب دینا

روشنی کے اہم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آنکھوں میں موجود خصوصی سینسرز کے ذریعے ہمارے روزمرہ کے معمول یا ہماری باڈی کلاک یعنی جسم کی گھڑی کو ترتیب دیتی ہے۔

ہماری آنکھ ہمارے ماحول میں روشن اور تاریک دورانیے کا پتہ چلا لیتی ہے اور ہمارے جسم کے معمول کو ترتیب دیتی ہے تاکہ آپ کے جسم اور دن کے اوقات میں مطابقت پیدا ہو۔

اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی آنکھوں کو کوئی شدید نقصان پہنچتا ہے وہ اپنے باڈی کلاک کو بری طرح سے متاثر محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں سونے میں دشواری ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رات کو کام کرنے والے خاص طور پر نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں

روشنی تک رسائی کے بغیر انسانی جسم کا نظام معمول سے ہٹ جاتا ہے۔

ہوائی جہاز کے سفر کی تھکان روشنی کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے۔ نئی جگہ اور نئے ٹائم زون میں روشنی سے سامنا ہمارے جسم کو مقامی وقت کے مطابق ترتیب دینے میں مدد کرتا ہے اور ہمیں سونے کا صحیح وقت بتاتا ہے۔

اٹھارویں صدی میں، دنیا میں زیادہ تر لوگ کھلے آسمان تلے کام کرتے تھے اور انھیں دن سے رات کی تبدیلی کا پتہ ہوتا تھا۔

آج، ہم میں سے اکثر ان ماحولیاتی اشاروں سے محروم رہتے ہیں کیونکہ ہم عمارتوں کے اندر کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں اب زراعت اور ماہی گیری کی نوکریاں صرف ایک فیصد ہیں۔

ہم روشنی سے محروم نوع بن چکے ہیں، جس کا ہماری نیند کے معیار پر فرق پڑ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں صحت پر دیرپا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ روشنی کی یہ مناسب مقدار ہر انسان میں مختلف ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم کو روشنی کی ضرورت ہے جو کہ عمارتوں کے اندر کام کرنے والے بہت سے افراد کو دستیاب نہیں ہوتی۔

ایک قابل توجہ منفی اثر سیزنل ایفیکٹو ڈس آرڈر( SAD) ہے، جو کہ ذہنی دباؤ کی ایک قسم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دو سے آٹھ فیصد یورپی شہری اس میں مبتلا ہیں اور اس کو سورج کی روشنی کی عدم فراہمی سے منسلک کیا جاتا ہے۔

اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی جگہوں پر قدرتی روشنی کی کمی مسائل پیدا ہونے کی وجہ بنی ہے۔

رات میں کام کرنا

ہم میں سے اکثر خاطر خواہ قدرتی روشنی حاصل نہیں کر رہے اور رات کی ڈیوٹی کرنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ مسئلہ ہے۔

انھیں ایسے وقت پر کام کرنا پڑتا ہے جب باڈی کلاک جسم کو سونے کے لیے تیار کر چکی ہوتی ہے اور چستی اور کام کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ وہ بے شک دن میں سونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اکثر کم دورانیے یا اچھی نیند نہیں ہوتی۔

درحقیقت جب وہ نیند میں ہوتے ہیں تو کام کرتے ہیں اور تب سوتے ہیں جب انھیں نیند نہیں آتی اور اس کے صحت پر ایسے منفی اثرات ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں اب معلوم ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رات کی ڈیوٹی کرنے والے 97 فیصد ملازمین کئی سال کام کرنے کے باوجود بھی اپنے کام کے انداز میں ڈھلنے میں ناکام ہو جاتے ہیں

اس سے فوری طور پر غیر معمولی جذباتی ردعمل اور معلومات کو صحیح طرح سے استعمال کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

رات کی شفٹ میں کام کرنے سے صحت کے بہت سے پہلو متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے انسان کی زندگی میں سے چھ سال تک کا عرصہ کم ہو سکتا ہے۔

رات کی ڈیوٹی کرنے والے 97 فیصد ملازمین کئی سال کام کرنے کے باوجود بھی اپنے کام کے انداز میں ڈھلنے میں ناکام رہتے ہیں۔

وہ اپنی جسمانی صحت کو بدلنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان کے دفتر یا فیکٹری میں مہیا کی جانے والی مصنوعی روشنی ماحولیاتی روشنی کے مقابلے میں بہت مدہم ہوتی ہے، ایک روشن دن میں دوپہر کی قدرتی روشنی، دفتر کی روشنی کے مقابلے میں 250 مرتبہ زیادہ روشن ہوتی ہے۔

جب رات کو کام کرنے والا گھر جانے کے لیے نکلتا ہے اور قدرتی روشنی کے سامنے آتا ہے تو اندرونی نظام کو اشارے ملتے ہیں کہ یہ بیدار ہونے کا وقت ہے۔

ہارورڈ کے ایک مطالعے کے مطابق کام کی جگہ چمکتی روشنی میں رہنے اور دن میں قدرتی روشنی سے دور رہنے کی وجہ سے رات کی ڈیوٹی کرنے والے ملازمیں مکمل طور پر رات کو جاگنے والے بن جاتے ہیں۔

قدرتی روشنی کا فروغ

نرسنگ ہومز میں رہنے والے بھی اکثر سورج کی روشنی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔

چار دیواری کے اندر روشنی انتہائی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہاں رہنے والے اکثر بہت کم قدرتی روشنی حاصل کر سکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بری نیند کی شکایت عام ہے۔

ایک ڈچ مطالعے نے نرسنگ ہومز میں روشنی کی مقدار کو بڑھایا، جبکہ ممکنہ حد تک سونے کے کمروں کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کی۔

اس سے دن کے اوقات میں سونے میں کمی جبکہ رات کی نیند کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی جس سے ذہنی صلاحیت میں بہتری آئی۔

روشنی سے محرومی صرف قدرتی روشنی کی عدم دستیابی نہیں، بلکہ یہ صحیح وقت پر روشنی کی فراہمی سے متعلق بھی ہے۔

رات میں استعمال ہونے والی لائٹ سے ہماری باڈی کلاک سست روی کا شکار ہو جاتی ہے جس کے باعث ہم اگلے روز تاخیر سے جاگتے ہیں۔ صبح کی روشنی باڈی کلاک کو متحرک کرتی ہے جس کی وجہ سے ہم جلدی اٹھ جاتے ہیں۔

جب انسان کھلے آسمان کے نیچے کام کرتے تھے تو یہ مسئلہ نہیں تھا، کیونکہ ہمیں صبح اور رات دونوں کا سامنا رہتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے بہت سے لوگ اپنی نیند کو بہتر بنا سکتے ہیں

لیکن آج کل ہم میں سے زیادہ تر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے سائیکل کے کچھ حصے کا ہی تجربہ کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر یونیورسٹی کے طلبا کے بارے میں درست ہے جو دیر سے دن کا آغاز کرتے ہیں اور پھر شام میں زیادہ وقت باہر گزراتے ہیں۔

رات کی تاریکی میں استعمال ہونے والی روشنی ان کے باڈی کلاک کو تاخیر کا شکار کر دیتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ دیر سے بیدار ہوں گے اور دیر سے سوئیں گے۔ یہ نوجوانوں اور بالغوں میں ہارمونل تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جس سے باڈی کلاک دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔

سگریٹ نوشی، الکوحل کا استعمال اور غیر حفاظتی سیکس کے صحت پر نتائج کے بارے میں بہت زیادہ معلومات موجود ہیں لیکن نیند کی اہمیت اور اس میں روشنی کی اہمیت کے بارے میں ہم کم جانتے ہیں۔

اس معاملے پر مزید تحقیق اور زیادہ آگاہی لوگوں کو نیند کے بارے میں اپنی ترجیحات بنانے اور سورج کی روشنی زیادہ استعمال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ حکومتوں، تعلیمی اداروں اور کام کاج کی جگہوں پر بنائی گئی پالیسیوس پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

رات کو بستر پر جانے سے قبل روشنی کا کم استعمال، اور زیادہ سے زیادہ صبح کی روشنی کا استعمال، وہ آسان طریقے ہیں جن کے ذریعے زیادہ تر لوگ اپنی نیند کو بہتر کر سکتے ہیں۔


اسی بارے میں