رپورٹ: فیس بک نے تین ارب جعلی اکاؤنٹس بند کر دیے

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فیس بک نے اپنی تازہ ترین ’نافذ العمل رپورٹ‘ شائع کر دی ہے جس میں اکتوبر 2018 سے مارچ 2019 کے دوران مختلف اکاؤنٹس اور پوسٹس کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان چھ ماہ کے دوران فیس بک نے پہلی مرتبہ تین ارب جعلی اکاؤنٹس کو بند کیا ہے۔

اس کے علاوہ 70 لاکھ سے زائد نفرت انگیز پوسٹس کو بھی ہٹایا گیا ہے جو کہ ایک بہت بڑا ریکارڈ ہے۔

پہلی مرتبہ فیس بک نے حذف شدہ پوسٹس پر آنے والی نظرثانی کی درخواستوں کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان میں سے کتنی پوسٹس کا جائزہ لینے کے بعد انھیں دوبارہ بحال کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

فیس بک: مارک زکربرگ کی جانب سے نئی تبدیلیوں کا اعلان

مرنے والوں کو دعوت اور مبارکباد کے پیغامات اب ختم

فیس بک: بند کیے جانے والے اکاؤنٹس،صفحات میں کیا تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جعلی اکاؤنٹس

فیس بک کے مطابق ہٹائے گئے جعلی اکاؤنٹس کی تعداد میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ کچھ ’برے عناصر‘ خود کار طریقوں کے استعمال سے انھیں تخلیق کر رہے تھے۔

فیس بک کے مطابق اس سے پہلے کے یہ جعلی اکاؤنٹس کسی نقصان کا سبب بنتے، ان میں سے زیادہ تر کو چند ہی منٹوں میں شناخت کر کے ہٹا دیا گیا ہے۔

فیس بک اب ایسے تمام پوسٹس کی تفصیلات بھی جاری کرے گی جن کو منشیات اور اسلحہ فروخت کرنے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔

فیس بک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے دوران اسلحہ فروخت کرنے والے دس لاکھ پوسٹس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

فیس بک پر دیکھے جانے والے مواد کی تفصیلات

رپورٹ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، تشدد اور دہشت گردی پراپیگنڈہ پر مشتمل مواد دیکھنے کی تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک پر دیکھے جانے والے مواد کے ہر 10 ہزار حصوں میں:

  • 14 سے بھی کم لوگوں نے عریانی پر مشتمل مواد دیکھا۔
  • تقریبا 25 افراد نے تشدد یا گرافک مواد دیکھا۔
  • تین سے بھی کم افراد نے بچوں سے زیادتی یا دہشت گرد پراپیگنڈہ سے متعلق مواد دیکھا۔

مجموعی طور پر، فیس بک کے ماہانہ فعال صارفین میں سے تقریباً پانچ فیصد کے اکاؤنٹس جعلی تھے۔

نظر ثانی کی درخواستیں

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری 2019 سے مارچ 2019 کے دوران فیس بک کو نفرت انگیز پوسٹس ہٹانے پر دس لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ جن میں سے تقریبا ایک لاکھ پچاس ہزار پوسٹس کو نظر ثانی کے بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا۔

فیس بک کے مطابق ’رپورٹ میں ان پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے ذریعے ہمارا پلیٹ فارم استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے زیادہ احتساب اور ذمہ داری پیدا کی جا سکے۔‘

اسی بارے میں