ایورسٹ پر ہلاکتیں: چار وجوہات جن کی بنا پر کوہ پیمائی کا سیزن خراب ہوا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایورسٹ کی ’جان لیوا قطاریں‘

گذشتہ دو دہائیوں سے ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کی سالانہ ہلاکت کی اوسط چھ رہی ہے۔ لیکن رواں موسم بہار میں اب تک دنیا کی سب سے بلند چوٹی پر کم از کم دس افراد کی ہلاکت یا گمشدگی کی اطلاعات ہیں۔

اس سال نیپالی حکومت کی جانب سے ریکارڈ 381 کوہ پیماؤں کو پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔

اس کا مطلب اس برس دراصل 600 افراد ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ ان میں 381 پرمٹ یافتہ کوہ پیماؤں کے ساتھ ان کا امدادی عملہ بھی شامل تھا۔

اگرچہ ماؤنٹ ایورسٹ پر بہت زیادہ ہجوم کو ہلاکتوں کا سبب قرار دیا جا رہا ہے مگر ان میں دیگر عوامل کا کردار بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’کوہ پیماؤں کا ہجوم، خراب موسم‘ ایورسٹ پر اموات کی وجہ

کوہ پیماؤں پر ایورسٹ اکیلے سر کرنے پر پابندی

ماؤنٹ ایورسٹ کی چٹان ’ہلیری‘ تباہ ہو گئی

ساز گار موسم کو کھو دینا

بہت سے کوہ پیما مئی کے آغاز میں ماؤنٹ ایورسٹ پر جمع ہونے شروع ہوئے تھے یہ وہ ہی وقت تھا جب حکام سمندری طوفان فانی کے اثرات کے متعلق پریشان تھی جو پہلے ہی بنگلہ دیش اور انڈیا سے ساتھ ٹکرا چکا تھا۔

سمندری طوفان کے نیپال کے ساتھ ٹکرانے سے پہلے ہی کوہ ہمالیہ کے سلسلہ میں موسم خراب ہو گیا تھا جس نے حکومت کو وہاں ہر کم از کم دو دن کے لیے تمام کوہ پیمائی کی سرگرمیوں کو معطل کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

تیز ہواؤں سے تقریباً 20 خیمے اڑ گئے تھے اور تنبیہ کے بعد متعدد کوہ پیما جو پہلے ہی بلند مقامات والے کیمپس کی جانب گامزن تھے انھیں واپس لوٹ کر بیس کیمپ پر آنا پڑا تھا۔

دیر تک موسم خراب رہنے کا مطلب ہے کہ کیلوں کی مدد نصب رسی لگانے کے عمل میں تاخیر ہوئی جو کوہ پیماؤں کو چوٹی تک جانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس اثنا میں بیس کیمپ پر ہجوم جمع ہونا جاری رہا۔

ماؤنٹ ایورسٹ جو چین اور نیپال کی سرحد کے درمیان واقع ہے کو چین کی جانب سے بھی چڑھا جا سکتا ہے۔

حالانکہ چینی حکومت کوہ پیمائی کے کم پرمٹ جاری کرتی ہے اور بہت سے کوہ پیماؤں کو اس جانب کی چڑھائی سر کرنا کم دلچسپ لگتا ہے۔

مئی کے وسط میں کیلوں کی مدد سے لگنے والی رسی نصب ہونے کے بعد چڑھائی کے سازگار موسم کا دورانیہ 19 اور 20 مئی کو تھا۔

لیکن اس وقت بہت کم کوہ پیماؤں کی ٹیموں نے چوٹی سر کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ زیادہ تر کوہ پیماؤں نے 22 مئ سے 24 مئ کے دوران صاف موسم کے وقت چوٹی سر کرنے کا ارادہ کیا۔

ہجوم کو سنبھالنے کے ناقص انتظامات

کوہ پیمائی کے ماہرین کاکہنا ہے یہ وہ وقت تھا جب ہجوم کا انتظام ہاتھ سے نکل گیا۔ 23 مئی کو ایک ہی دن 250 سے زائد کوہ پیما وہاں جمع ہو گئے تھے۔ کوہ پیماٰؤں کو اوپر جانے اور واپس نیچے آنے دونوں کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔

ان میں سے بیشتر تھکاوٹ کا شکار تھے اور ان کے سلینڈرز میں آکسیجن بھی کم رہ گئی تھی۔

نیپال کی کوہ پیمائی کی قواعد کے مطابق مہم جو ٹیموں کو اپنے ساتھ پہاڑ پر مدد گار عملہ بھی رکھنا پڑتا ہے۔

اس مرتبہ 59 مددگاروں کو مہم جو ٹیموں کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا لیکن ان میں سےصرف پانچ ہی آخری معرکے تک وہاں رکے تھے۔ ان میں سے چند آئے ہی نہیں اور دیگر جو آئے وہ کچھ دن بیس کیمپ پر گزارنے کے بعد واپس گھر لوٹ گئے۔

عموماً یہ روایتی حکومتی اہلکار ہوتے ہیں جن کا کوہ پیمائی کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا اور انھیں بلندی پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی کوپ پیما رابن ہائنس فشر بھی مرنے والے افراد میں شامل ہیں

ان کو مہم جو ٹیموں کی جانب سے پیسے ملتے ہیں اور وہ گھر پر ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔

اہم سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر تمام مدد گار عملہ ماؤنٹ ایورسٹ پر موجود ہوتا تو ہجوم کو سنبھالنا قدرے آسان ہوتا۔

'ان کا کہنا تھا 'ہمیں ٹیموں کو تقسیم کر سکتے تھے تاکہ چوٹی پر چڑھائی کے لیے پہلے ساز گار موسم کے اوقات جو 19 اور 20 مئی تھا زیادہ کوہ پیما آتے جس کے باعث دوسرے سازگار موسم کے وقت لوگوں کی آمد کا دباؤ کم ہوتا۔ جیسا کہ مدد گار عملہ نہ ہونے کے برابر تھا تو محدود عملے کے لیے ہجوم کو سنبھالنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔'

مددگار عملہ کا ڈیوٹی پر نہ آنا بہت برسوں سے نیپال کی کوہ پیمائی کی صنعت کے فروغ کے لیے مسئلہ ہے۔

نیپال کی وزارت سیاحت میں محکمہ کوہ پیمائی کی سربراہ میرا اچاریہ کا کہنا تھا کہ 80 فیصد تعینات مددگار عملہ ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ تک تو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/ Project Possible
Image caption ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کے ہجوم کی تصاویر وائرل ہو گئیں

'لیکن میں مانتی ہوں کہ ہمارا مدد گار عملہ وہاں وہاں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتا، ہمیں اس مسئلے کا علم ہے اور ہم اس کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں کلیمانجارو کی چوٹی پر بھی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی اطلاعات ملیں ہیں صرف ماؤنٹ ایورسٹ کو ہی کیوں نمایاں کیا جا رہا ہے۔'

نا تجربہ کار کوہ پیما

کوہ پیمائی کے ماہرین کہتے ہیں ماؤنٹ ایورسٹ پر نا تجربہ کار کوہ پیماؤں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بیس کیمپ پر موجود حکام کے مطابق اس مرتبہ بہت سی ٹیموں کے ساتھ صرف ایک مقامی شرپا گائیڈ موجود تھے۔

'جب آپ اس طرح کی خطرناک صورتحال کا شکار ہوں تو صرف ایک شرپا آپ کی مدد کے لیے ناکافی ہوتا ہے کیونکہ اسے خود اپنی بھی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔'

کامیابی سے چوٹی سر کر کے واپس آنے والے بہت سے کوہ پیماؤں کا کہنا تھا کہ انھوں نے چند کوہ پیماؤں کو واپسی پر دیکھا تھا جو مشکلات کا شکار تھے اور ان کی سلینڈروں سے آکیسجن کم ہو چکی تھی۔ انھیں کافی انتظار کرنا پڑا'

ایلن آرنیٹی جو ایک ماہر کوہ پیما اور کوہ پیمائی پر لکھنے والے ہیں کہتے ہیں کہ' اس نئی نسل کو کمر پر بستہ ڈال کر چوٹی سر کرنے کی جلدی اور پھر گھر جا کر شیخی بگھارنے کا شوق ہے لیکن ان کو ماؤنٹ ایورسٹ اور ماؤنٹ ماکالو کو سر کرنے میں فرق سمجھنا ہو گا۔'

ماؤنٹ ماکالو دنیا کی پانچویں بلند چوٹی ہے جو ایورسٹ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔

'یہ مختلف ٹیموں میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں جن کے پاس مشترکہ وسائل ہوتے ہیں جو دراصل ایک انفرادی کوہ پیما کو درکار ہوتے ہیں۔ ان کو انفرادی لفظ کی سمجھ نہیں اور ان کو خطرات کا جانچنے کا کوئی تجربہ نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیپالی حکومت اس بات سے انکار کرتی ہے کہ رش کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں

ماہر کوہ پیما بہت عرصے سے یہ تجویز پیش کرتے ہیں نیپالی حکومت کو ایورسٹ کی مہم کے لیے 6000 فٹ کی چوٹیاں سر کرنے کا تجربہ لازمی ہونے کی شرط عائد کر دینی چاہیے۔

آپریٹرز کے درمیان مقابلہ

ایسے لوگوں تک رسائی جو پیسے دے سکتے ہیں نئے اور پرانے مہم آپریٹرز کے درمیان ایک مقابلے کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

مہم جوؤں سے زیادہ پیسے نکلوانے کی جدوجہد نئے اور پرانے آپریٹرز کی وجہ سے بہت مشکل ہو گئی ہیں۔

مہمات کا انتظام کرنے والے نئے سستے آپریٹرز کے مارکیٹ میں آنے کی وجہ سے پرانے لوگوں کو بھی اپنی قیمتوں میں کمی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

'نیپال کی قومی ماؤنٹین گائیڈ ایسوسی ایشن کے نائو صدر تشرنگ پانڈے بھوتے کا کہنا تھا کہ ’اس کے نیتجے میں آپ دیکھتے ہیں ایجینسیاں نا تجربہ کار لوگوں کو گائیڈ کے طور پر ہائر کرتے ہیں جو صحیح رہنمائی نہیں کر سکتے اور پھر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔‘

’بدقسمتی سے مقابلہ لوگوں کی تعداد پر ہے نا کہ معیار پر۔‘

مہم جُو تسلیم کرتے ہیں کہ مسائل ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس صنعت کے فروغ کے لیے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ بھی ضروری ہے۔

نیپال میں ایکپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن کےصدر دمبر پاراجولی کا کہنا تھا ’مثال کے طور پر آئندہ برس نیپال کا سیاحتی سال قرار دیا گیا ہے۔ ` جس کے تحت لاکھوں افراد کو نیپال آنے کے لیے مہمات چلائی جائیں گی۔

’ہمیں اس کے لیے مزید سیاح چاہیئں جن میں کوپ پیما بھی شامل ہوں لیکن ہم اس طرح کی ٹریفک جام سے کیسے نمٹیں گے یہ ایک بڑا چیلنج رہے گا۔‘

اسی بارے میں