برطانوی سکول: رنگت، شرمندگی اور پھر میک اپ

بچی تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption برطانیہ بھر میں 2017-18 میں بچوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم کی تعداد 10500 سے زیادہ تھی یعنی اوسطاً ایک دن میں 29 جرائم۔

’نیشنل سوسائٹی فار پریوینشن آف کروئیلٹی ٹو چلڈرن‘ نامی خیراتی ادارے کے مطابق سکول میں نسلی بنیاد پر بدسلوکی سے بچنے کے لیے بچے میک اپ کا استعمال کر کے اپنی رنگت گوری کر رہے ہیں۔

ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2015-16 کے بعد سے بچوں کے ساتھ نسلی بنیاد پر بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ بھر میں 2017-18 میں بچوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم کی تعداد 10500 سے زیادہ تھی یعنی اوسطاً ایک دن میں 29 جرائم۔

ایک 10 سالہ بچی نے خیراتی ادارے کو بتایا کہ اس نے 'اپنے چہرے کو گورا کرنے کی کوشش کی' کیونکہ دوسرے بچوں نے اس کی جلد کو 'میلا' کہا۔

یہ بھی پڑھیے!

’مسلم مخالف رویوں نے سکول ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا‘

برطانیہ میں اسلاموفوبیا عروج پر؟

خیراتی ادارے کی طرف سے فراہم کی جانے والی ہیلپ لائن 'چائلڈلائن' کو تناؤ میں آ کر فون کرنے والی بچی کا کہنا تھا کہ 'میرے دوستوں نے میرے ساتھ اس لیے گھومنا پھرنا چھوڑ دیا کیونکہ لوگوں نے ان سے پوچھنا شروع کر دیا کہ وہ میلی جلد والی لڑکی کے دوست کیوں ہیں؟‘

بچی کہتی ہے کہ 'میں برطانیہ میں پیدا ہوئی لیکن بچوں نے مجھے میرے ملک واپس جانے کو کہا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیونکہ میں تو برطانیہ سے تعلق رکھتی ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں نے میک اپ استعمال کرنے سے پہلے اپنی رنگت گوری کرنے کی کوشش کی تاکہ میں لوگوں میں گھل مل جاؤں۔ میں چاہتی ہوں کہ سکول جا کر مجھے مزا آئے۔'

'یہ باتیں مجھے پریشان کرتی ہیں‘

11سالہ ایشیائی بچی نے ہیلپ لائن کو بتایا کہ اس نے اپنی شکل میں تبدیلی لانے کے لیے آئی لائنر کا استعمال کیا۔

بچی کا کہنا تھا 'مجھے سکول میں دھمکایا جاتا ہے کیونکہ میں چینی ہوں۔ دوسرے بچے کہتے ہیں کہ میری جلد کی رنگت پیلی ہے اور مجھے کئی ناموں سے پکارتے ہیں۔ یہ باتیں مجھے اداس کرتی ہیں۔‘

اس کا مزید کہنا تھا 'میں نے آئی لائنر لگا کر اپنی شکل میں تبدیلی لانے کی کوشش کی تاکہ میں باقی لوگوں جیسی دِکھ سکوں۔ میں اپنے والدین کو نہیں بتانا چاہتی کیونکہ یہ باتیں انھیں پریشان کریں گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption پولیس ریکارڈ میں 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے خلاف کیے جانے والے نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد 2015-16 میں 8683 سے بڑھ کر 2017-18 میں 10571 ہو گئی۔

جبکہ مسلمان گھرانے سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ لڑکی نے کہا کہ لوگ اسے دہشتگرد کہہ کر پکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جہاں سے آئی ہو، وہاں واپس چلی جاؤ۔

’میں مسلمانوں کے روایتی ملبوسات پہنتی ہوں اور میرا خیال ہے کہ یہ چیز مجھے نشانہ بناتی ہے۔‘

لڑکی کا مزید کہنا تھا 'میں عموماً اپنا سر جھکا کر چلتی ہوں اور اس سب پر کان نہیں دھرتی لیکن اب مجھے واقعی ڈر ہے کہ شاید کوئی مجھ پر حملہ نہ کر دے۔'

ریسرچ کے مطابق پولیس ریکارڈ میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے خلاف کیے جانے والے نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد 2015-16 میں 8683 سے بڑھ کر 2017-18 میں 10571 ہو گئی۔

'جذبات کو ٹھیس‘

ریسرچ میں پایا گیا کہ لڑکیوں کی طرف سے چائلڈ لائن کو رابطہ کرنے کے امکانات زیادہ تھے اور یہ مسئلہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں سب سے عام تھا۔

چائلڈلائن کے سربراہ جان کیمرون کہتے ہیں 'بچپن میں اس قسم کی دھونس کا سامنا کرنے والے بچوں کے جذبات کو لمبے عرصے تک نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس سے معاشرے میں مزید تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق 'اگر ہم نسلی بنیادوں پر ایک بچے کو دوسرے پر دھونس جماتے دیکھیں تو ہمیں اس سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں وضاحت کرنی ہو گی کہ یہ رویہ اچھا نہیں ہے اور بہت تکلیف دہ ہے۔'

اسی بارے میں