ویکسینز یا حفاظتی ٹیکے ہیں کیا اور ان کے بارے میں لوگوں کے تحفظات کیا ہیں؟

Index image

20ویں صدی کے دوران ویکسینز یا حفاظتی ٹیکوں کی وجہ سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔ اس کے باوجود کئی ملکوں میں ماہرین نے ’ویکسین ہیزیٹینسی‘ یعنی حفاظتی ٹیکوں سے اجتناب کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی ہے۔

اس رجحان کو عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے 2019 کے لیے دس بڑے عالمی خطرات میں شامل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیو کے خلاف جنگ میں فتح کتنی دور ہے؟

ویکسینیشن: سات غلط فہمیاں جنھیں دور کرنا ضروری ہے

دنیا بھر میں لوگ ویکسین پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں؟

پولیو سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے پر دس سکول سیل

اسلام آباد: پولیو وائرس کی تشخیص کے بعد پولیو مہم شروع

ویکسینیشن دریافت کیسے ہوئی؟

حفاظتی ٹیکوں کی دریافت سے پہلے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اُن بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے تھے جن سے اب بچا جا سکتا ہے۔

یہ چینی تھے جنھوں نے سب سے پہلے 10 ویں صدی میں ایک قسم کا حفاظتی ٹیکہ تیار کیا۔ یہ عمل ’ویریولیشن‘ کہلاتا تھا جس میں صحت مند افراد کے اندر کسی بیماری زدہ کھُرنڈ کے ٹِشو سے اِمیونیٹی یا قوت مدافعت کو بڑھایا جاتا تھا۔

آٹھ صدی بعد برطانوی ڈاکٹر ایڈورڈ جینر کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ گائے کا دودھ نکالنے والی عورتیں ہلکے سے کاؤ پاکس (ایک بیماری جِس سے گاۓ کے تھن مُتاثر ہوتے ہیں) میں تو مبتلا ہوتی ہیں مگر انھیں کبھی ہلاکت خیز چیچک یا سمال پاکس نہیں ہوتی۔

چیچک انتہائی متعدی مرض تھا اور اس میں مبتلا ہوئے 30 فی صد مریض ہلاک ہو جاتے تھے اور جو بچ جاتے تھے وہ یا تو بینائی سے محروم ہوجاتے تھے یا پھر ان کی جلد تمام عمر کے لیے داغدار ہو جاتی تھی۔

ویکسین

ڈاکٹر جینر نے 1796 میں آٹھ برس کے فیپس پر ایک تجربہ کیا۔

انھوں نے کاؤ پاکس سے پیپ حاصل کر کے اس بچے کی جلد میں داخل کر دی جس سے اس میں کاؤ پاکس کی کچھ علامات ظاہر ہوئیں۔

فِپس کی طبیعت ٹھیک ہو جانے کے بعد ڈاکٹر جینر نے ان کے جسم میں چیچک کا مواد داخل کیا مگر بچے پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ کاؤ پاکس نے اس بچے کے جسم میں چیچک کے خلاف مدافعت پیدا کر دی تھی۔

1798 میں اس تحقیق کے نتائج شائع کیے گئے اور لفظ ’ویکسین‘ وجود میں آیا جس کا ماخذ لاطینی لفظ ’واکا‘ (vacca) ہے اور اس کے معنی گائے کے ہیں۔

کامیابیاں کونسی ملی ہیں؟

حفاظتی ٹیکوں نے گذشتہ صدی میں کئی بیماریوں سے پہنچنے والے نقصان کو بڑی حد تک کم کیا۔ 1960 کی دہائی میں خسرے کی ویکسین آنے سے پہلے ہر سال 26 لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے تھے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سنہ 2000 سے 2017 کے عرصے میں عالمی پیمانے پر حفاظتی ٹیکوں کی مدد سے خسرے سے ہونے والی اموات میں 80 فی صد کمی واقع ہوئی۔

بیماریاں

صرف چند عشرے پہلے تک پولیو کا شکار ہونے والے لاکھوں افراد کے بارے میں فالج یا موت کا حقیقی خدشہ پایا جاتا تھا۔ اب پولیو کا مرض تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

بعض افراد ویکسینیشن کا انکار کیوں کرتے ہیں؟

حفاظتی ٹیکوں یا قطروں کے بارے میں شکوک اتنے ہی پرانے ہیں جتنا کہ خود ویکسینیشن۔

ماضی میں لوگ مذہبی وجوہات کی بنیاد پر ویکسینیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، یعنی اسے ناپاک سمجھتے تھے، یا پھر اسے اپنی مرضی کے خلاف گردانتے تھے۔

سنہ 1800 کے اوائل میں برطانیہ میں کئی ایسے گروہ وجود میں آئے جو امراض سے بچاؤ کے لیے متبادل طریقوں پر زور دیتے تھے، مثلاً یہ کہ مریضوں کو صحت مند افراد سے بالکل الگ تھلگ کر دیا جائے۔

پولیو

اور جب 1870 کی دہائی میں برطانوی ویکسین مخالف ولیم ٹیب امریکا گئے تو وہاں پر بھی پہلی بار ایک ایسا ہی گروہ وجود میں آیا جو حفاظتی ٹیکوں کا مخالف تھا۔

حالیہ تاریخ میں ویکسینیشن کے بڑے مخالفین میں اینڈرو ویکفیلڈ نمایاں ہیں۔

لندن میں مقیم اس ڈاکٹر نے 1998 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں آٹزم کو غلط طور پر ایم ایم آر ویکسین سے جوڑا گیا تھا۔ آٹزم سے متاثرہ افراد کو دوسروں سے بات کرنے اور تعلقات پیدا کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

ایم ایم آر تین حفاظتی ٹیکوں کا مرکب ہے جو بچوں میں خسرہ، کنپھیڑ اور رُبیلا یا جرمن خسرہ کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

اگرچہ ان کی تحقیق کو مسترد کر دیا گیا اور ویکفیلڈ کا لائسنس منسوج کر دیا گیا مگر برطانیہ میں بچوں کو ویکسین دینے کی شرح میں کمی واقع ہوگئی۔

برطانیہ میں 2004 میں ایک لاکھ کم بچوں کو ایم ایم آر ویکسین دی گئی جس کی وجہ سے آگے چل کر خسرے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

اس ویکسینیشن کا مسئلہ بتدریج سیاسی رنگ بھی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اٹلی کے وزیرِ داخلہ ویکسینیشن مخالف گروہوں سے جا ملے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے ویکسینیشن کا تعلق آٹزم سے جوڑ دیا تھا، مگر حال ہی میں انھوں نے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ویکسین کیوں ضروری ہے؟

ویکسینیشن کے بارے میں رویوں کے ایک بین الاقوامی سطح پر مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں مثبت سوچ پائی جاتی ہے، مگر یورپ میں یہ سب سے نچلی سطح پر تھی اور سب سے کم فرانس میں تھی۔

خطرات کیا ہیں؟

جب آبادی کے بڑے حصے کو حفاظتی ٹیکے لگ جائیں تو اس سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے جنھیں نہ لگے ہوں کیونکہ اس طرح مرض کا سبب بننے والے وائرس کے پھیلنے کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔

اسے ’ہرڈ اِمیونیٹی‘ یا اجتماعی قوت مدافعت کہتے ہیں مگر جب اس میں کہیں رخنہ پڑتا ہے تو پوری آبادی کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

ہرڈ اِمیونیٹی برقرار رکھنے کے لیے کتنے افراد کو حفاظتی ٹیکے لگنے چاہییں اس کا تناسب مختلف امراض کے لیے الگ الگ ہے۔

مثلاً خسرے کے لیے 90 فیصد آبادی کو خسرے کا ٹیکا لگا ہوا ہونا چاہئے جبکہ پولیو کے لیے 80 فی صد افراد کو اگر ویکسین دے دی جائے تو اس آبادی میں اجتماعی مدافعت پیدا ہو جائے گی۔

گذشتہ برس امریکا میں مقیم ایک انتہائی راسخ العقیدہ یہودی برادری کی طرف سے ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا جس میں غلط طور پر آٹزم اور ویکسین کے درمیان تعلق جوڑا گیا تھا۔

اسی برادری میں خسرے کی وبا پورے امریکا میں کئی دہائیوں کے اندر سب سے زیادہ دیکھنے میں آئی۔

بیماریاں

برطانیہ کے سب سے سینیئر ڈاکٹر نے گذشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ویکسینیز کے بارے میں سوشل میڈیا پر گمراہ کن اطلاعات کی وجہ سے بہت سے لوگوں میں شکوک پیدا ہوئے اور امریکی محققین نے پتا چلایا ہے کہ روسی بوٹس ویکسین کے بارے میں جھوٹی معلومات عام کرنے میں سرگرم ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پچھلے کئی برس کے دوران مجوزہ ویکسین لگنے والے بچوں کا تناسب 85 فی صد پر برقرار ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کی وجہ سے عالمی سطح پر ہر سال بیس سے تیس لاکھ افراد لقمۂ اجل بننے سے بچ جاتے ہیں۔

حفاظتی ٹیکوں اور اِمیونائزیشن کو سب سے زیادہ مشکلات ان ممالک یا خطوں میں درپیش ہیں جو حالیہ کچھ دہائیوں میں جنگوں اور تنازعات کی زد میں رہے ہیں اور جہاں فراہمئ صحت کا نظام ناقص ہے، مثلاً افغانستان، انگولا اور ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو۔

تاہم ترقی پذیر ممالک کے لوگوں میں ان امراض کے بارے میں پائے جانے والے اطمینان کو بھی عالمی ادارۂ صحت نے حفاظتی ٹیکوں سے اجتناب برتنے کا ایک اہم سبب ٹھہرایا ہے۔

سادہ الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ لوگ ان امراض سے ہونے والے نقصان کو فراموش کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں