انٹرنیٹ ڈاؤن: پیر کی شام انٹرنیٹ کو آخر ہو کیا گیا تھا؟

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیر کو پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی (فائل فوٹو)

24 جون کی شام پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب تقریباً چھ بجے کے قریب انٹرنیٹ کا مواصلاتی نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا یا نہایت آہستہ ہو گیا۔

لیکن اتفاق کچھ ایسا ہوا کہ عین اسی وقت پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروسز تعطل کا شکار ہوگئی جس سے متاثر ہونے والوں میں فیس بک، گوگل، ایمیزون، کلاؤڈ فلیئر اور کئی بڑے نام شامل تھے۔

اس کی وجہ بنی تھی امریکہ میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی ویرائیزون کی ایک غلطی۔ اس کمپنی کے نیٹ ورک نے انٹرنیٹ میں ڈیٹا کی ترسیل کے 'روٹ' کو غلطی سے تبدیل کر دیا جس کی وجہ سے مطلوبہ ڈیٹا اپنے ہدف تک پہنچنے سے قاصر رہا۔

سروسز میں یہ تعطل تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

انٹرنیٹ ایک دن کے لیے کٹ جائِے تو؟

کیا پاکستانی صارف ہیکرز کا آسان ہدف ہیں؟

دوسری جانب پاکستان کے حوالے سے انٹرنیٹ سروس میں تعطلی کی نگرانے کرنے والے عالمی ادارے 'انٹرنیٹ آؤٹیج ڈیٹیکشن اینڈ انالسس' نے اپنے جائزے میں بتایا کہ پاکستان کے 'پاک نیٹ' یعنی پی ٹی سی ایل سروس میں خرابی شام چھ بجے شروع ہوئی اور اگلے یہ نیٹورک ایک گھنٹے تک شدید متاثر رہا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق 'انٹرنیٹ کیبل میں مختلف مقامات پر کٹ لگ جانے کی وجہ سے ملک بھر میں سروس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے'لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی کہ کٹ کہا لگا اور کیسے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ادارے ویرائیزون کی غلطی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کی سروسز متاثر ہوئی تھیں

اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا عالمی انٹرنیٹ میں آنے والے تعطل سے پاکستانی انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی تھی یا نہیں اور ان دونوں خرابیوں کا آپس میں کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

پی ٹی سی ایل کی ترجمان نے اسی بیان میں کہا کہ کمپنی نے ایک اعلی سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جو اس تعطل کی وجوہات کا تعین کرے گی اور جلد سے جلد اس خرابی کو درست کرنے کی کوشش کرے گی۔

پی ٹی سی ایل کی جانب سے بعد میں اعلان جاری کیا گیا کہ سروس دوبارہ ٹھیک کر دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود رات گئے تک سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے پھر بھی شکایت کی کہ ان کی سروس پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption متاثر ہونے والوں میں فیس بک، گوگل، ایمیزون، کلاؤڈ فلیئر اور کئی بڑے نام شامل تھے

صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد نے رات میں ٹویٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اتنا طویل تعطل کیوں ہے۔

ایک اور صارف محمد عبداللہ نے شکایت کرتے ہوئے پی ٹی سی ایل کو مشورہ دیا کہ انٹرنیٹ کے لیے کوئی متبادل سروس ہی رکھ لیں۔

کیونکہ عین اسی موقع پر امریکہ اور یورپ میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی تھیں، تو پاکستانی صارفین بھی اسی تَذبذُب میں گم تھح کہ یہ معاملہ صرف پاکستان کا ہے یہ دنیا بھر کا۔

ایک صارف عمر نے لکھا کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ بند ہے، یہ اچھا موقع ہے کتاب پڑھنے کا، چہل قدمی کرنے کا۔۔۔

ایک امریکی صارف نے انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف آپ نہیں، تقریباً آدھا انٹرنیٹ بشمول گوگل، فیس بک ہے جو کہ اس وقت بند ہے۔

اور انٹرنیٹ میں ہونے والی اس خرابی پر ایک اور صارف نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ انٹرنیٹ میں خرابی آنے کی نشاندہی کرنے والی ویب سائٹ اگر نہ کھلے تو یہ کافی گھمبیر معاملہ ہے۔۔۔

لیکن ’وائلڈ چارجر‘ نامی صارف نے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’انٹرنیٹ سروس کا بند ہوجانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ نظام کس قدر کمزور ہے۔ اگر کوئی ایک چیز متاثر ہو جائے اور صرف دس فیصد انٹرنیٹ کی ٹریفک میں خلل ہو، تو اس سے پوری دنیا پر بہت تباہ کن اثر ہوگا۔‘

اسی بارے میں