چاند پر کمند:سنہ 1969 کا اپالو 11 مشن کیا تھا؟

چاند پر پہلا انسان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تقریباً نصف صدی ہونے کو آئی ہے جب امریکہ چاند پر جانے والا پہلا ملک بنا تھا۔

'اپولو 11' مشن امریکہ اور دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم لمحہ تھا لیکن اس وقت واقعتاً کیا ہوا اور اس کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

آخر امریکہ چاند پر کیوں جانا چاہتا تھا؟

سنہ 1957 میں جب سویت روس نے اپنا پہلا 'سویت سپوتنک' سیٹلائٹ لانچ کیا تو امریکہ اور سویت یونین کے درمیان ایک خلائی مقابلہ شروع ہو گيا۔

جب جان ایف کینیڈی سنہ 1961 میں امریکہ کے صدر بنے تو بہت سے امریکیوں کا خیال تھا کہ امریکہ سرد جنگ کے اپنے دشمن سے ٹیکنالوجی کی برتری کے مقابلے میں پيچھے رہ گيا ہے۔

اسی سال پہلی بار سویت یونین نے انسان کو لے جانے والا پہلا خلائی جہاز بنایا۔

یوری گگارن اور ویلنٹینا ٹریشکووا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خلا میں جانے والے پہلے مرد یوری گگارن اور پہلی خاتون ویلنٹینا ٹریشکووا روس کی تھیں جس سے امریکہ کو پریشانی لاحق تھی

امریکہ وہاں پہلا انسانی مشن لے جانے کے لیے بضد تھا اور سنہ 1962 میں کینیڈی نے جو کہا وہ آج ان کی معروف تقریر کہی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا: 'ہم نے چاند پر جانے کا فیصلہ کیا ہے!'

یہ خلائی دوڑ جاری رہی اور سویت روس نے سنہ 1965 میں کامیابی کے ساتھ پہلا بغیر انسان والا جہاز چاند پر اتار دیا۔

یہ بھی پڑھیے

اپالو 11 مشن کی وہ چار باتیں جو آپ نہیں جانتے

اپالو مشن کی آٹھ چیزیں جنھوں نے ہماری زندگی بدل دی

اپولو 11: وہ 13 منٹ جنھوں نے ایک صدی کی قسمت لکھ دی

کیا 2024 تک چاند آباد ہو جائے گا؟

امریکہ نے اپنے مشن کے بارے کس طرح منصوبہ بندی کی؟

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اس پر بہت سے وسائل خرچ کرنے کا عہد کیا جسے اپالو پروگرام کے نام سے جانا گیا۔

تقریبا چار لاکھ افراد نے اپالو کے 17 مشنز پر کام کیا جس پر تقریباً 25 ارب ڈالر کا خرچ آيا۔

سیٹلائٹ لانچ تصویر کے کاپی رائٹ NASA

اپولو 11 کے مشن کے لیے تین خلابازوں بز آلڈرن، نیل آرم سٹرانگ اور مائیکل کولنس کو منتخب کیا گیا۔

سیٹرن V نامی ایک طاقتور راکٹ کے ذریعے اپولو کے کمانڈ اور خدمات کے ماڈل کو عمل میں لایا گیا اور اس راکٹ کے ساتھ وہ قمری موڈیول منسلک تھا جسے چاند کی سرزمین کو چھونا تھا۔

منصوبے کے تحت زمین کے مدار کا استعمال کرتے ہوئے چاند کے مدار میں جانا تھا جس کے بعد آرم سٹرانگ اور ایلڈرن قمری موڈیول میں داخل ہوں گے اور وہ چاند کی سطح پر اتریں گے جبکہ کولنس ان کے پیچھے رہ کر کمانڈ اور سروس موڈیول میں نگرانی کریں گے۔

کیا کوئی چیز غلط ہوئی؟

عملے کے ساتھ خلا میں جانے کی پہلی جانچ اپولو 1 کے ذریعے سنہ 1967 میں کی گئی۔

لیکن پہلی پرواز سے قبل معمول کی جانچ میں ہی کمانڈ موڈیول میں آگ لگ گئی جس میں تین خلاباز مارے گئے۔

چاند پر اترنے والی خلائی گاڑی تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption کمانڈ اور سروسز موڈیول سے چاند پر اترنے والی خلائی گاڑی اس طرح نظر آتی تھی

اس کے بعد کئی ماہ تک انسان کے ساتھ خلائی سفر کی پرواز کو معطل کر دیا گيا۔

یہاں تک کہ اپولو 11 کے مشن کے دوران زمین پر کنٹرول سے مواصلاتی رابطے کا مسئلہ پیدا ہوا تھا اور کمپیوٹر پر ایک انتباہی پیغام سنا گیا جو اس سے قبل عملے نے کبھی نہیں سنا تھا۔

اور چاند پر پہنچنے والی گاڑی بھی اپنے ہدف سے دور دوسری جگہ پر چاند کی سطح پر اتری تھی۔

چاند پر چہل قدمی

ان سب مسائل کے باوجود 20 جولائی کو زمین چھوڑنے کے 110 گھنٹے بعد نیل آرم سٹرانگ چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے۔ ان کے 20 منٹ بعد بز آلڈرن نے چاند پر قدم رکھا۔

آرم سٹرانگ کے الفاظ دنیا کے ٹی وی پر گونجے اور تاريخ میں درج ہو گئے کہ 'ایک شخص کا ایک چھوٹا سا قدم، انسانیت کی عظیم چھلانگ تھی۔'

دونوں افراد نے چاند پر اترنے والی گاڑی سے باہر چاند کی فضا میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزارے، وہاں کی سطح سے نمونے یکجا کیے، تصاویر لیں اور کئی سائنسی تجربات کو وہاں شروع کیا۔

چاند کی اپنی تلاش کو مکمل کرنے کے بعد دونوں افراد اپنی چاند پر اترنے والی گاڑی میں بیٹھ کر کامیابی کے ساتھ کمانڈ اور سروسز والے موڈیول میں داخل ہو گئے۔

بحرالکاہل میں اترنے کے بعد تینوں امریکی خلاباز تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption بحرالکاہل میں اترنے کے بعد تینوں امریکی خلاباز کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

اس کے بعد زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع ہوا اور یہ لوگ بحرالکاہل میں 24 جولائی کو اترے۔

دنیا بھر میں تقریباً 65 کروڑ افراد نے چاند پر پہلی بار اترنے کا منظر دیکھا اور امریکہ کے لیے یہ کارنامہ دنیا کے سامنے ان کی طاقت کا مظاہرہ تھا۔

اس کے ساتھ ہی یہ ایک تلاطم خیز دہائی کے اخیر میں قومی فخر کے جذبے کی طمانیت کے لیے اہم تھا۔ اسی دہائی میں کینیڈی کا قتل ہوا، اہم شہروں میں نسلی فسادات ہوئے اور ویت نام میں فوجی شمولیت پر بے چینی دیکھی گئی۔

ہمیں کیسے پتہ چلا کہ یہ واقعی وقوع پزیر ہوا؟

سنہ 1972 تک مجموعی طور پر امریکہ کے چھ مشن چاند کی سطح پر اترے لیکن آج تک سازشی نظریہ سرگرم عمل ہے کہ چاند پر اترنے کا یہ سارا عمل کوئی سٹیج کیا ہوا ڈرامہ تھا۔

لیکن سنہ 2009 کے بعد سے ناسا کا ایک خلائی جہاز چاند کے مدار میں جائزہ لے رہا ہے۔ وہ ہائی ریزولیوشن والی تصاویر بھیج رہا ہے جس سے اپالو مشن کے چاند کی سطح پر اترنے کا پتہ چلتا ہے جس میں پاؤں کے نشانات اور پہیوں کے نشانات شامل ہیں۔

قومی جشن تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption چاند پر اترنے کا واقعہ قومی جشن کا سبب بنا

اس کے ارضیاتی شواہد بھی ہیں جن میں وہ چٹانیں شامل ہیں جو چاند کی سطح سے لائی گئی ہیں۔

چاند پر جانے کا مطلب کیا ہے؟

امریکہ واحد ملک ہے جس نے انسانوں کو چاند پر اتارا ہے۔

روس، جاپان، چین، یورپین سپیس ایجنسی اور انڈیا نے یا تو اپنا خلائی مشن چاند کے مدار میں بھیجا ہے یا پھر اپنی خلائی گاڑیاں اس کی سطح پر اتاری ہیں۔

چاند پر جانے والی خاتون کی پہلی ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption چاند کے مشن پر جانے والی پہلی امریکی خاتون سیلی رائڈ (انتہائی بائیں) کے ساتھ خلاباز جوڈتھ رسنک، اینا فشر، کیتھرن سولیوان اور رھیا سیڈن کو دیکھا جا سکتا ہے

جو ملک ایسا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس کی طاقت کی علامت ہے اور یہ بات اسے 'ایلیٹ کلب' میں شامل کرتا ہے۔

اس کی دوسری عملی وجوہات بھی ہیں جیسے کہ اس کے وسائل کا فائدہ اٹھانے کی خواہش۔

دونوں قطبوں پر برف کی موجودگی کا مطلب طیاروں کے خلا میں مزید اندر تک جانے میں سہولت ہے کیونکہ اس میں ہائیڈروجن اور آکسیجن دونوں ہیں جنھیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ وہاں سونے، پلاٹینم اور دوسری نادر معدنیات کی کان کنی میں بھی دلچسپی ہے۔ حالانکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہاں سے ان معدنیات کا نکالنا کتنا آسان ہوگا۔

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

اسی بارے میں